جاسوسی کے الزام پر یورپی یونین کا سخت ردِعمل

جرمنی کی وزیر انصاف نے کہا ہے کہ یہ سرد جنگ کی یاد دلانے والا رویہ ہے
،تصویر کا کیپشنجرمنی کی وزیر انصاف نے کہا ہے کہ یہ سرد جنگ کی یاد دلانے والا رویہ ہے

فرانس اور جرمنی کی حکومتوں نے امریکہ سے اس الزام کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں واشنٹگن اور نیویارک میں واقع یورپی یونین کے دفاتر کی خفیہ نگرانی کرتی رہی ہیں۔

یہ الزام گزشتہ روز جرمنی کے ایک رسالے میں شائع ہونے والی خبر میں سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے ایسے دستاویزی شواہد فراہم کیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ یورپی یونین کے دفاتر کی خفیہ نگرانی کرتا رہا ہے۔

رسالے کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن یہ دستاویز منظرِ عام پر لائے ہیں۔ رسالے کا کہنا ہے کہ دستاویز میں یورپی یونین کو واضح طور پر ’ہدف‘ قرار دیا گیا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی کو مطلوب سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈرن نے ایکواڈور میں پناہ کی درخواست دی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یورپی یونین کی امریکی جاسوسی کے بارے میں زیادہ تفصیل تو معلوم نہیں ہے لیکن یورپی یونین میں شامل یورپی ممالک کی تجارت اور دفاعی معلومات تک رسائی سے امریکہ کے لیے پورپی ممالک سے مذاکرات میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

ادھر فرانس کے وزیر خارجہ لورونگ فیبیوس نے کہا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ہوا تو خفیہ نگرانی کا یہ عمل قطعی طور پر ناقابل قبول ہوگا۔

جرمنی کی وزیر انصاف نے کہا ہے کہ یہ سرد جنگ کی یاد دلانے والا رویہ ہے۔

امریکی حکام کی طرف سے اس پر بہت کم بات کی گئی ہے مگر امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر نے کہا ہے کہ امریکی حکومت یورپی یونین کو سفارتی ذرائع سے مناسب انداز میں جواب دے گی۔

یورپی پارلیمینٹ کے صدر مارٹین شُلٹس نے کہا کہ اگر حقیقت میں یہ الزام سچ ہوا تو امریکہ کو بہت ساری چیزوں کا جواب دینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے دھچکہ لگا ہے، فرض کریں کہ اگر یہ سچ ہوا تو پھر تو مجھے ایسا محسوس ہوگا کہ یورپی باشندے اور یورپی ادارے کے نمائندے کی حیثیت سے میرے ساتھ وہی برتاؤ ہوا ہے جو دشمن کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیا باہمی اعتماد پر مبنی تعمیری تعلقات کی یہ بنیاد ہوتی ہے۔ میرے خیال میں نہیں۔ اس لیے یہاں برسلز میں امریکہ کے سفارتخانے سے میرا پہلا سوال یہی ہوگا کہ کیا یہ سچ ہے؟ اور اگر یہ سچ ہے تو کیوں؟ انہیں اس کی وجہ بتانا ہوگی۔‘

یورپی پارلیمینٹ کے صدر مارٹین شُلٹس نے مزید کہا کہ اگر یورپی یونین کے دفاتر کی جاسوسی کا یہ الزام درست ہوا تو اسکے کچھ نتائج بھی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’یورپی یونین اور امریکہ آزاد تجارت کے معاہدے پر بات چیت شروع کرنے جارہے ہیں لیکن آپس میں اعتماد پیدا کرنے کی یہ کوئی بنیاد نہیں۔ بلکہ اس سے تو آپس میں عدم اعتمادی پیدا ہوگی اور اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یورپ کے تمام لوگوں کے خیال میں ہمیں سب سے پہلے امریکیوں سے کہنا چاہیے کہ وہ اسکی وضاحت کریں اور پھر ہمیں اُن کی وضاحت سننے کے بعد ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔‘

ادھر جرمنی کی وزیر انصاف زبینا لوئٹ ہوسر نے کہا کہ امریکہ کو یورپی یونین کے رکن ممالک کے معلومات کی حفاظت کے قوانین کا لازمی طور پر احترام کرنا چاہیے۔

جرمنی کے رسالے کے مطابق اسے ملنے والی خفیہ امریکی دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے واشنگٹن میں یورپی یونین کے دفتر کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کی جاسوسی کی اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت میں واقع یورپی یونین کے دفاتر سے بھی خفیہ طور پر معلومات حاصل کرتی رہی۔

ادھر برطانوی اخبار گارڈین نے خبر دی ہے کہ انھیں ملنے والی خفیہ امریکی دستاویز کے مطابق امریکہ نے جاسوسی کے اس عمل میں 38 سفارتخانوں کی خفیہ نگرانی کی جن میں فرانس، اٹلی، یونان کے علاوہ اتحادی ممالک جاپان، میکسیکو، جنوبی کوریا، بھارت اور ترکی بھی شامل ہیں۔