’ایڈورڈ سنوڈن روس میں داخل نہیں ہوئے ہیں‘

ایڈورڈ سنوڈن
،تصویر کا کیپشنسنوڈن اتوار کو ہانگ کانگ سے ماسکو کے لیے روانہ ہوئے تھے

روس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو مطلوب سابق سی آئی اے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے سفر کے منصوبے سے روس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ انہوں نے روسی سرحد پار کی ہے۔

سنوڈن اتوار کو ہانگ کانگ سے ماسکو کے لیے روانہ ہوئے تھے تاہم کوئی نہیں جانتا کہ اس وقت وہ کہاں ہیں۔

چین نے بھی امریکہ کے ان الزامات کو بے بنیاد اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے کہ چین نے مفرور سنوڈن کی روانگی کے انتظامات کیے۔

روسی وزیِرخارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن نے روسی سرحد پار نہیں کی ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ روس پر الزام لگانے کی امریکی کوششیں بے بنیاد اور ناقابلِ قبول ہیں۔

روسی وزیرِخارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ایڈورڈ سنوڈن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے نہ تو امریکی عدلیہ کے ساتھ ان کے تعلقات سے اور نہ ہی ان کی کسی نقل وحرکت سے روس کا کوئی واسطہ ہے‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ لاوروف کے اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ سنوڈن ماسکو اترنے کے بعد ائر پورٹ پر ہی رہے اس طرح تکنیکی لحاظ سے انہوں نے روسی سرحد پار ہی نہیں کی۔

پیر کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روس اور چین کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو مدد فراہم کرنے پر انہیں ناگزیر نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جان کیری نے ماسکو پر زور دیا تھا کہ ’قانون کے مطابق رہیں کیونکہ یہ ہر ایک کے مفاد میں ہے‘۔

تیس سالہ ایڈورڈ سنورڈن امریکی ریاست کیلیفورنیا کے رہنے والے تھے۔وہ امریکہ کے جاسوسی کے خفیہ پروگرام کی معلومات ذرائع ابلاغ کو بتانے پرامریکی حکومت کو مطلوب ہیں۔

انہوں نے ایکواڈور میں پناہ کی درخواست دی تھی اور امریکہ نے ان کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایڈرورڈ سنورڈن اتوار کو ہانگ کانگ سے ماسکو پہنچے تھے۔

ماسکو سے انہیں کیوبا کے دارالحکومت ہوانا کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن انہوں نے ٹکٹ کا استعمال ہی نہیں کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کی قانونی محقق سارہ ہیریسن کے ساتھ تھے جو ویکی لیکس کے خفیہ اطلاعات کے مخالف گروپ کے لیے کام کرتی ہیں۔

دریں اثناء چین نے بھی امریکہ کے ان الزامات کو بے بنیاد اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے کہ چین نے مفرور سنوڈن کی روانگی کے انتظامات کیے۔

وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ کی حکومت نے ایڈرورڈ سنورڈن کے معاملے کو قانون کے مطابق ہی حل کیا ہے۔

امریکہ کا کہنا تھا کہ ’گرفتاری کے جائز وارنٹ ہونے کے باوجود بھی سنوڈن کو جان بوجھ کر جانے کی اجازت دیدی گئی۔