’سنوڈن کی ایکواڈور میں پناہ کی درخواست‘

ایکواڈور کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حکومت کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے ان کے ملک میں پناہ کی درخو است دی ہے۔
دوسری جانب ویکی لیکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایڈورڈ محفوظ راستے سے ایکواڈور پناہ لینے جائیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے ہمراہ سفارتکار اور ویکی لیکس کے وکلاء کی ایک ٹیم بھی ہے۔
اس سے قبل ایڈورڈ ہانگ کانگ سے روس کے دارالحکومت پہنچے۔
ایرو فلوٹ کی پرواز نمبر ایس یو دو سو تیرہ مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر دس منٹ پر ماسکو پہنچی۔
ایڈورڈ نے برطانوی اخبار کو بتایا تھا کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔ اس کے بعد وہ بیس مئی کو ہانگ کانگ چلے گئے تھے۔
ٹی وی چینل رشیا 24 کا کہنا ہے کہ سنوڈن کے پاس روسی ویزا نہیں ہے اور وہ ہوائی اڈے پر رات گزارنے کے بعد پیر کو کیوبا روانہ ہو جائیں گے۔
ایئر لائن ذرائع نے بتایا کہ کیوبا سے سنوڈن وینزویلا جائیں گے۔ لاطینی امریکہ کے دونوں ممالک کی جانب سے امریکی حکام کی جانب سے حوالگی کی درخواست کا پورا ہونے کا امکان کم ہے۔
یاد رہے کہ امریکی حکام نے اُن کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے بعد ہانگ کانگ سے اہلکار کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہانگ کانگ میں حکومتی بیان میں کہا گیا کہ ایڈورڈ سنوڈن نے اپنی مرضی سے ’قانونی طریقے سے‘ ملک چھوڑا ہے۔
سنیچر کے روز امریکہ نے ہانگ کانگ سے ایڈورڈ سنوڈن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے جواب میں ہانگ کانگ کے حکام کا موقف تھا کہ حوالگی کے لیے بھیجے گئے دستاویزات مقامی قوانین کے لحاظ سے نامکمل تھے۔ ہانگ کانگ کی حکومت نے اسی لیے امریکی حکام سے مزید دستاویزات مانگے تھے۔
حکومتی بیان میں مزید کہا گیا ’چونکہ ہانگ کانگ کی حکومت کے پاس اس وقت اُن کی گرفتاری کے لیے عبوری وارنٹ جاری کرنے کے لیے معلومات نا مکمل ہیں، اس لیے انھیں ہانگ کانگ چھوڑنے سے قانونی طور پر نہیں روکا جا سکتا۔
ہانگ کانگ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ اس بات پر قیاس آرائیاں ضرور ہوں گی کہ ہانگ کانگ کی حکومت نے حوالگی کے ایک طویل مقدمے کی بجائے قدرے آسان راستہ چن لیا ہے۔
ہانگ کانگ کی حکومت نے واشنگٹن سے ان الزامات کی وضاحت بھی طلب کی ہے جو ایڈبرڈ سنوڈن نے امریکہ کی جانب سے ہانگ کانگ کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کے حوالے سے لگائے تھے۔
یہ بات ابھی واضح نہیں کہ کیا ایڈورڈ سنوڈن روس میں ہی رہیں گے یا پھر کسی اور ملک کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔ دیگر ممالک کے حوالے سے ایکواڈور اور آئیس لینڈ کے نام سامنے آئے ہیں۔
امریکی وزارت دفاع کی جانب سے ایڈورڈ سنوڈن پر جو فردِ جرم عائد کیا گیا اُس کے تحت الزامات میں جاسوسی اور حکومت املاک کی چوری شامل ہے۔ ان الزامات کے تحت انھیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ادھر دوسری جانب معروف ویب سائٹ ویکی لیکس نے کہا ہے کہ انھوں نے ایڈورڈ سنوڈن کو ’ایک جمہوری ملک میں سیاسی پناہ‘ حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
ایڈورڈ سنوڈن کے ہانگ کانگ سے روانہ ہونے کی تصدیق چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے امریکی حکومت کی اس سلسلے میں مذمت کے چند ہی گھنٹوں بعد ہوئی۔
ایجنسی نے ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشاں کی گئی معلومات کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک انتہائی پریشان کن علامت ہے۔
ادارے کا کہنا تھا کہ امریکہ جو کہ بہت عرصے سے سائیبر حملوں کا نشانہ بننے کا ڈھونگ رچا رہا تھا، ہمارے زمانے کا سب سے منفی
انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو اس معاملے میں اپنی صفائی پیش کرنی چاہیے۔







