برازیل: سیاسی اصلاحات کے لیے ریفرینڈم کی تجویز

برازیل کی صدر ڈیلما روزیف نے ملک میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ریفرینڈم کے ذریعے سیاسی اصلاحات لانے کی تجویز پیش کی ہے۔
دوسری جانب مظاہرین نے حکومت مخالف احتجاج جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔
انھوں نے ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا ہے جسے عوام کےساتھ’پانچ عہد‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
صدر نے ریاستی گورنروں اور میئرز کے ساتھ اجلاس سے پہلے مظاہرین کے ایک گروپ کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی ہے۔ ریاستی گورنروں نے ان کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔
صدر نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ’میری حکومت جمہوری آوازوں کو سن رہی ہے۔ہمیں گلیوں سے اٹھنے والی آواز کو ضرور سننا چاہیے اور ہمیں یہ تمام اشارے عاجزی اور درستگی کے ساتھ سمجھنے چاہیے۔‘
صدر ڈیلما روزیف نے کہا کہ’برازیل آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے اور وہ جمود کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔‘
انھوں نے ریفرینڈم کے ذریعے ایک آئین ساز اسمبلی بنانے کی تجویز دی جو برازیل کے آئین میں ترمیم کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ٹرانسپورٹ اور شہری علاقوں کے مواصلات کے نظام میں بہتری کے لیے پچیس ارب امریکی ڈالر کا فنڈ مختص کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف بعض مظاہرین نے عہد کیا ہے کہ وہ ملک میں گذشتہ بیس سال کے دوران ہونے والےاس بڑے احتجاج کو جاری رکھیں گے۔
فری فیئر موومنٹ کے رہنما مایارا لنگو ویویان نے کہا کہ صدر نے کوئی ٹھوس اقدامات تجویز نہیں کیے اور یہ ’جنگ جاری رہے گی۔‘
ملک کے مختلف شہروں میں پیر کی شام کئی تازہ مظاہرے ہوئے ہیں جس میں گذشتہ ہفتے کے مظاہروں کے مقابلے کم لوگوں نے شرکت کی۔
ملک میں جاری کشیدگی میں ابھی تک مرنے والوں کی تعداد چار تک پہنچ گئی ہے۔
یاد رہے کہ بدعنوانی، بس کے کرایے میں اضافے، خراب عوامی خدمات اور آئندہ سال فٹ بال کے عالمی کپ منعقد کرانے کے لیے زبردست اخراجات کے خلاف ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے تھے جس کے صدِ باب کے لیے صدر ڈیلما روزیف نے جمعہ کو کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کے بعد مختلف قسم کی اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔
صدر ڈیلما روزیف کو آئندہ سال انتخابات کا بھی سامنا ہے جب برازیل میں 2014 کا فٹ بال عالمی کپ منعقد ہوگا جبکہ ریو میں 2016 میں اولمپکس ہو گا۔
بہت سے مظاہرین اس بات پر نالاں ہیں کہ ملک میں انتہائی غربت کے باوجود کثیر رقم سے سٹیڈیم تعمیر کیے جا رہے ہیں اور عالمی کپ جیسے بڑے مقابلے کے ٹکٹ خریدنا عام لوگوں کے بس میں نہیں۔
ادھر فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے سیکرٹری جنرل جے روم نے کہا ہے کہ سنہ 2014 کا عالمی کپ ہر صورت میں برازیل میں منعقد کیا جائے گا۔
جے روم کا کہنا تھا کہ برازیل میں جاری کنفیڈریشنز کپ کے خلاف جاری مظاہروں نے اس ٹورنامنٹ کو متاثر کیا ہے تاہم انھوں نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی یقین دہانی کے بعد کہا کہ سنہ 2014 کا عالمی فٹبال کپ ہر حال میں منعقد کیا جائے گا۔







