’غازی پارک پر ریفرنڈم کروایا جا سکتا ہے‘

ترکی میں حکمراں جماعت کے نائب چیئرمین اور ترجمان حسین سالک کا کہنا ہے کہ استنبول میں غازی پارک کی تعمیر و تزئینِ نو کے متنازع معاملے پر ریفرنڈم کروایا جا سکتا ہے۔
حسین سالک نے امید ظاہر کی ہے کہ ’خیرسگالی کے اس اقدام‘ کے نتیجے میں تقسیم سکوائر کو خالی کر دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ حالات کو بگاڑنا چاہتے ہیں اور پارک میں رکے رہیں گے انہیں پولیس کا سامنا کرنا ہوگا۔
استنبول کے تقسیم سکوائر میں مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ کی اکتیس تاریخ کو ہوا تھا اور پھر حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا تھا۔
حسین سالک بدھ کی شب تقسیم سکوائر کے پاس اپنے چند حامیوں کے ساتھ پہنچے اور اُنہوں نے وہاں موجود مظاہرین سے پارک سے نکل جانے اور منتشر ہونے کی اپیل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اُن لوگوں سے مخاطب ہو جو وہاں حالات کو قابو میں رکھنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے وہاں جمع ہیں۔ اب ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم ریفرنڈم کرائیں گےاور اس معاملے کو متعلقہ اداروں تک لے کر جائیں گے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’آپ کو غازی پارک جلد از جلد چھوڑ دینا ہوگا تاکہ زندگی معمول پر آسکے اور جو غازی پارک جانا چاہتا ہو وہ وہاں آزادی کے ساتھ جا سکے۔ ہمارے خیال میں خیرسگالی کے اس قدم کے بعد لوگ اپنے گھروں کو جانے کا فیصلہ کریں گے۔‘
ادھر حکومتی جماعت کے ترجمان کے اس بیان کے بعد ہزاروں افراد دوبارہ تقسیم سکوائر پر جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پولیس نے منگل کو آنسو گیس کی شیلنگ کر کے وہاں موجود مظاہرین کو منتشر کیا تھا۔
ان مظاہرین نے وزیراعظم رجب طیب اردگان پر الزام لگایا تھا کہ وہ سکیولر ترکی میں شریعت نافذ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریفرنڈم کرانے کی تازہ پیش کش کومظاہرین اور وزیراعظم کے درمیان بات چیت کے ذریعے کھنچاؤ کم کرنے کا ذریعہ کہا جا رہا ہے۔
استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ حسین سالک کا بیان اس بات کی نشانی ہے کہ حکمران جماعت پارک کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو سونپنے پر بات کر سکتی ہے۔
اس حکومتی پیشکش پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا ہے اور جہاں کچھ افراد نے اس کا خیرمقدم کیا ہے وہیں کچھ لوگ حکام پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔
ترک ذرائع ابلاغ نے بدھ کو خبر دی تھی کہ وزیراعظم اردگان نے وزیرِ داخلہ کو غازی پارک سے مظاہرین کو نکالنے اور مظاہروں کے خاتمے کے لیے چوبیس گھنٹے کی مہلت دی ہے۔
ادھر ترک حزبِ اختلاف کے بیس ارکان غازی پارک میں جمع ہو گئے ہیں تاکہ وہاں پولیس کی جانب سے کسی مداخلت کو روکا جا سکے۔







