ترکی: نائب وزیر اعظم کی مظاہرین سے معذرت

ترک نائب وزیر اعظم بلند آرنچ نے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے مظاہرین سے معذرت کی ہے جو استنبول میں ایک پارک کی تعمیر کے خلاف مظاہروں میں شریک ہیں۔
بلند آرنچ نے مظاہروں کے منتظمین سے ملنے کی پیشکش کی اور کہا کہ اس پارک کی تعمیر کے خلاف شروع کیے گئے اصل مظاہرے ’درست اور جائز‘ تھے۔
ترک نائب وزیر اعظم نے کہا کہ اب مظاہرے ختم کر دیے جانے چاہیں کیونکہ اب ان پر ’دہشت گرد عناصر‘ حاوی ہو گئے ہیں۔
گزشتہ پانچ دنوں سے جاری ان مظاہروں کا سلسلہ استنبول سے شروع ہونے کا بعد ملک کے کئی شہروں میں پھیل گیا ہے۔
بلند آرنچ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے افراد جو ماحول کو بچانے کی نیت سے احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے ان کے خلاف طاقت کا استعمال غلط تھا۔ یہ بہت نا مناسب بات تھی۔ اس لیے میں ان شہریوں سے معذرت چاہتا ہوں۔‘
اس کے بعد انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ایسے لوگوں سے معذرت کی ضرورت ہے جنہوں نے سڑکوں پر عوامی سہولیات اور اشیا کو نقصان پہنچایا ہے اور جنہوں نے لوگوں کی آزادی کو مجروح کیا ہے۔‘

ترک نائب وزیر اعظم کی معذرت کے گھنٹوں بعد بھی ہزاروں افراد استنبول کے تقسیم سکوئر میں جمع ہوئے جو کہ ان مظاہروں کا مرکز ہے۔
یاد رہے کہ ان مظاہروں کا آغاز استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ہوا تھا اور ان کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر علاقوں تک پھیل گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے ہیں۔
اس سے قبل ملک کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین فیڈریشن کیسک نے بھی احتجاج میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ وہ دو روز تک احتجاج میں حصہ لے گی۔
گیارہ مختلف ٹریڈ یونین پر مشتمل فیڈریشن کیسک کے ممبران کی تعداد دو لاکھ چالیس ہزار بتائی جاتی ہے۔
ترکی میں گزشتہ کئی روز سے مظاہرے جاری ہیں جس میں اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ سترہ سو افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔گرفتار کیے جانے والے مظاہرین میں سے بعض کو رہا کیا جا چکا ہے۔
ٹریڈ یونین فیڈریشن کیسک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترک حکومت پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے ’ریاستی دہشتگردی‘ کی مرتکب ہو رہی ہے جس سے لوگوں کو زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ کیسک نے کہا کہ حکومت ملک میں جمہوریت کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
البتہ ترکی کے وزیر اعظم طیب اردوگان پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق مراکش کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔

ترک وزیر اعظم نے مراکش روانگی سے پہلے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ترکی میں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔
ترکی میں جاری احتجاج میں اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انقرہ کے گورنر کے دفتر سے بائیس سالہ عبداللہ کومرٹ کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔ عبداللہ کومرٹ کا تعلق ریپبلیکن پیپلز پارٹی سے ہے۔اس سے پہلے بیس سالہ محمت ایولیٹس کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ترکی میں مظاہرے پھوٹنے کے بعد صدر عبد اللہ گل اور وزیر اعظم طیب اردوگان کے مابین اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ترک صدر نے زیادہ مصالحتی رویے کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ ترک وزیر اعظم سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔
ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف چار روز سے جاری مظاہرے ’ترک سپرنگ‘ کا عندیہ نہیں دیتے اور یہ مظاہرے شدت پسند عناصر کرا رہے ہیں۔انہوں نے حزبِ اختلاف پر الزام لگایا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا’شدت پسند عناصر یہ مظاہرے کرا رہے ہیں۔ یہ مظاہرے استنبول کے پارک کے حوالے سے اب نہیں رہے۔ حزب اختلاف کی جماعت سی ایچ پی میرے معصوم شہریوں کو ورغلا رہی ہے۔ وہ لوگ جو اس کو ترک سپرنگ کا نام دے رہے ہیں وہ ترکی کو نہیں جانتے۔‘
نامہ نگاروں کے مطابق یہ مظاہرے اب حکومت کی جانب سے ترکی کی ’اسلامائزیشن‘ کی کوششوں کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
رجب طیب ارگان کی حکومت 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔







