ترکی:پولیس، مظاہرین میں دوبارہ پرتشدد جھڑپیں

ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں کے تیسرے دن استنبول کے علاقے بسکتاس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان اب تک کی بدترین پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔
بسکتاس میں ہزاروں مظاہرین نے اتوار کو وزیراعظم کے دفتر کے قریب احتجاج کیا اور وہاں فٹ پاتھ کے پتھر اکھاڑ کر رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔
اس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر آنسو گیس اور پانی کی دھار استعمال کی۔
ان جھڑپوں کے بعد علاقے میں مساجد، دکانوں اور ایک یونیورسٹی کو عارضی ہسپتالوں کی شکل دی گئی ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
استنبول میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار لوئیز گرین وڈ کے مطابق کئی ہزار افراد نے بسکتاس میں ہونے والے مظاہرے میں حصہ لیا اور وزیراعظم کے دفتر کے قریب رکاوٹیں کھڑی کیں۔
نامہ نگار کے مطابق پولیس کی جانب سے پھینکی جانے والی آنسو گیس کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ کچھ مظاہرین موقع پر ہی الٹیاں کرتے اور کھانستے دکھائی دیے۔
استنبول کے علاوہ دارالحکومت انقرہ اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج میں دسیوں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
ان مظاہروں کا آغاز دو دن پہلے استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ہوا تھا اور ان کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر علاقوں تک پھیل گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ترک وزیرِ داخلہ معمر گلیر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اب تک ملک کے 67 شہروں میں 1700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا بھی کر دیا گیا۔

ادھر ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایک مرتبہ پھر ان مظاہروں کو غیرجمہوری عمل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبے پر کام جاری رہے گا۔ انہوں نے ترک حزبِ اختلاف پر مظاہرین کو بھڑکانے کا الزام بھی لگایا ہے۔
اس سے پہلے سنیچر کو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پولیس نے طاقت کے استعمال میں’غطیاں‘ کیں اور مظاہرین پر طاقت کے استعمال کی شکایات کی تحقیقات کروائی جائیں گی۔
اتوار کو استنبول میں سینکڑوں مظاہرین دوبارہ قومی پرچم لہراتے ہوئے شہر کے وسط میں واقع تقسیم سکوائر پر پہنچے اور نعرے بازی کرتے رہے کہ حکومت مستعفیٰ ہو جائے۔
استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگ حکومت سے بیزار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت ان کی ذاتی آزادی کا کچھ حصہ واپس لینا چاہتی ہے۔
مظاہرے میں شامل ایک شخص ایکن نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اختتام تک رکیں گے، ہم نہیں جا رہے ہیں، اور اب حکومت کے لیے صرف ایک ہی جواب ہے کہ اسے جانا ہو گا، ہم اس جابر حکومت سے تنگ آ چکے ہیں جو ہم پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے‘۔
خیال رہے کہ یہ گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے ہیں۔
یہ مظاہرے استنبول کے غازی پارک میں ایک چھوٹے سے دھرنے سے شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ غازی پارک استنبول میں موجود چند سرسبز مقامات میں سے ایک ہے اور حکومت اس کے تحفظ کے لیے ان کی اپیلوں پر غور نہیں کر رہی۔
جب پولیس نے جمعہ کو دھرنا دینے والوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس استعمال کی تو ان کا دائرہ پھیلنے لگا۔ نامہ نگاروں کے مطابق یہ مظاہرے اب حکومت کی جانب سے ترکی کی ’اسلامائزیشن‘ کی کوششوں کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
رجب طیب ارگان کی حکومت 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔







