تعمیراتی منصوبے جاری رہیں گے: اردوگان

وزیراعظم طیب اردوگان نے ان مظاہروں کو غیر جمہوری کہہ کر رد کیا ہے
،تصویر کا کیپشنوزیراعظم طیب اردوگان نے ان مظاہروں کو غیر جمہوری کہہ کر رد کیا ہے

ترک وزیرِاعظم طیب اردوگان نے کہا ہے کہ استنبول میں عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرک اور شاپنگ سنٹر بنانے کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائےگا۔

ترک وزیرِاعظم نے یہ بات اپنے تیونس کے دورے میں کہی۔ انہیں شمالی افریقہ کا دور مختصر کر کے وطن واپس لوٹنا پڑا ہے۔

یاد رہے کہ استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے جن کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر شہروں تک پھیل گئے ہیں۔

احتجاج نے اس وقت زور پکڑ لیا جب پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسوگیس کا استعمال کیا۔

حکومتی منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ پارک استنبول شہر میں چند سر سبز علاقوں میں سے ایک ہے۔ اب وہاں مظاہرین کئی دنوں سے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔

واضح رہے کہ ملک میں حالیہ مظاہرے گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے سمجھے جاتے ہیں۔

مظاہروں کی دوران چار افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں
،تصویر کا کیپشنمظاہروں کی دوران چار افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں

ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرین وزیرِاعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ وزیرِاعظم طیب اردوگان کی حکومت پر مطلق العنانیت کا الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سیکولر ریاست پر قدامت پسند اسلامی اقدار نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں کے دوران چار افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیراعظم طیب اردوگان نے ان مظاہروں کو غیر جمہوری کہہ کر رد کیا ہے۔

وزیرِاعظم نے شمالی افریقہ کے اپنے سرکاری دورے پر پیر کو روانہ ہونے سے پہلے کہا تھا کہ یہ مظاہرے ان کے ملک واپس آنے سے پہلے ختم ہو چکے ہونگے۔لیکن ان کی ملک واپسی کے موقع پر پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپیں استعمال کرنے پڑیں۔ مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کر کے اسے آگ لگائی تھی۔

تونسیلی شہر سے بھی ہنگاموں کی اطلاعات ملی ہیں۔

ہفتے کے اوائل میں ترک نائب وزیر اعظم بلند آرنچ نے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے مظاہرین سے معذرت کی تھی اور مظاہرین کے نمائندوں سے ملے تھے۔

نامہ نگاروں کے مطابق یہ مظاہرے اب حکومت کی جانب سے ترکی کی ’اسلامائزیشن‘ کی کوششوں کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

رجب طیب ارگان کی حکومت 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔