استنبول: ترک وزیراعظم کا سیاسی قوت کا مظاہرہ

ترکی کے وزیرِاعظم طیب اردوگان نے کہا ہے کہ ملک میں ایک ہفتے سے جاری مظاہرے غیر قانونی ہیں اور انہیں فوری ختم کر دینا چاہیے۔
شمالی امریکہ کے چار روزہ دورے کے بعد استنبول ائیرپورٹ پر جمع اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم طیب اردگان نے کہا کہ مظاہرے غیرقانونی ہیں۔
وزیراعظم کے خطاب کے وقت استنبول کے تقسیم سکوائر میں حکومت مخالف ہزاروں مظاہرین کا احتجاج جاری تھا۔
جعمہ کی صبح ائیرپورٹ پر وزیراعظم کی جماعت اے کے پی کے تقریباً دس ہزار کارکن جمع تھے۔
وزیراعظم طیب اردگان نے اپنے اہلیہ اور وزراء کے ہمراہ اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مظاہرے غیرقانونی ہیں اور اب انہیں لازمی ختم کر دینا چاہیے‘۔
اس موقع پر ان کے بعض حامیوں نے نعرے لگائے کہ’چلو اور تقسیم کو کچل دو‘ تاہم وزیراعظم نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ پرامن طور پر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔
’آپ کو پرامن رہنا ہے، پختگی اور عقل کا مظاہرہ کریں، یہاں سے ہم سب گھروں کو واپس جا رہے ہیں‘۔
وزیراعظم اردوگان نے مستعفی ہونے کے مطالبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’میں صرف پچاس فیصد کا وزیراعظم ہوں، یہ درست نہیں ہے، ہم مشرق سے مغرب تک سات کروڑ ساٹھ لاکھ لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک میں ایک ہفتے سے جاری مظاہروں کے بعد پہلی بار وزیراعظم نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، مظاہروں میں وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوین کے مطابق وزیراعظم کا پرجوش استقبال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں اب بھی انہیں کس قدر حمایت حاصل ہے لیکن ان کا بیان مظاہروں کو مزید بھڑکانے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس سے پہلے جمعرات کو ترک وزیرِاعظم نے کہا تھا کہ استنبول میں عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرک اور شاپنگ سنٹر بنانے کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائےگا۔
یاد رہے کہ استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے جن کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر شہروں تک پھیل گیا۔
احتجاج نے اس وقت زور پکڑ لیا جب پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسوگیس کا استعمال کیا۔
حکومتی منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ پارک استنبول شہر میں چند سر سبز علاقوں میں سے ایک ہے۔ اب وہاں مظاہرین کئی دنوں سے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔
واضح رہے کہ ملک میں حالیہ مظاہرے گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے سمجھے جاتے ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرین وزیرِاعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ وزیرِاعظم طیب اردوگان کی حکومت پر مطلق العنانیت کا الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سیکولر ریاست پر قدامت پسند اسلامی اقدار نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں کے دوران چار افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
وزیرِاعظم نے شمالی افریقہ کے اپنے سرکاری دورے پر پیر کو روانہ ہونے سے پہلے کہا تھا کہ یہ مظاہرے ان کے ملک واپس آنے سے پہلے ختم ہو چکے ہونگے۔لیکن ان کی ملک واپسی کے موقع پر پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپیں استعمال کرنے پڑیں۔ مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کر کے اسے آگ لگائی تھی۔
نامہ نگاروں کے مطابق یہ مظاہرے اب حکومت کی جانب سے ترکی کی’اسلامائزیشن‘ کی کوششوں کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
رجب طیب ارگان کی حکومت 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔







