مظاہرے جاری، انقرہ میں پولیس کے ساتھ جھڑپیں

ترکی میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین وزیر اعظم کے ’آمرانہ‘ طرزِ حکومت کے خلاف دارالحکومت انقرہ کی سڑکوں پر نکل آئے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کا استعمال کیا۔
دوسری جانب استنبول کے نواحی علاقے سلطان غازی میں بھی مظاہرے ہوئے اور مظاہرین نے پولیس پر پیٹرول بم پھینکے۔
استنبول کے تقسیم سکوائر میں جہاں ایک ہفتے قبل مظاہروں کا سلسے شروع ہوا تھا مظاہرین نے اس وقت خوشی کا اظہار کیا جب تین حریف فٹبال کلب کے کھلاڑیوں نے ایک ساتھ مظاہروں میں حصہ لیا۔
فٹبال کلب کے کھلاڑیوں اور مظاہرین نے مل کر وزیر اعظم طیب اردوگان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
اس سے قبل ترکی کے وزیرِاعظم طیب اردوگان نے کہا تھا کہ ملک میں ایک ہفتے سے جاری مظاہرے غیر قانونی ہیں اور انہیں فوری ختم کر دینا چاہیے۔
شمالی امریکہ کے چار روزہ دورے کے بعد استنبول ائیرپورٹ پر جمع اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم طیب اردگان نے کہا تھا کہ مظاہرے غیرقانونی ہیں۔
وزیراعظم کے خطاب کے وقت استنبول کے تقسیم سکوائر میں حکومت مخالف ہزاروں مظاہرین کا احتجاج جاری تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جعمہ کی صبح ائیرپورٹ پر وزیراعظم کی جماعت اے کے پی کے تقریباً دس ہزار کارکن جمع تھے۔
وزیراعظم طیب اردگان نے اپنے اہلیہ اور وزراء کے ہمراہ اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مظاہرے غیرقانونی ہیں اور اب انہیں لازمی ختم کر دینا چاہیے‘۔
اس موقع پر ان کے بعض حامیوں نے نعرے لگائے کہ’چلو اور تقسیم کو کچل دو‘ تاہم وزیراعظم نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ پرامن طور پر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔
’آپ کو پرامن رہنا ہے، پختگی اور عقل کا مظاہرہ کریں، یہاں سے ہم سب گھروں کو واپس جا رہے ہیں‘۔
وزیراعظم اردوگان نے مستعفی ہونے کے مطالبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں صرف پچاس فیصد کا وزیراعظم ہوں، یہ درست نہیں ہے، ہم مشرق سے مغرب تک سات کروڑ ساٹھ لاکھ لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں‘۔
ملک میں ایک ہفتے سے جاری مظاہروں کے بعد پہلی بار وزیراعظم نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ مظاہروں میں وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوین کے مطابق وزیراعظم کا پرجوش استقبال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں اب بھی انہیں کس قدر حمایت حاصل ہے لیکن ان کا بیان مظاہروں کو مزید بھڑکانے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس سے پہلے جمعرات کو ترک وزیرِاعظم نے کہا تھا کہ استنبول میں عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرک اور شاپنگ سنٹر بنانے کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائےگا۔
یاد رہے کہ استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے جن کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر شہروں تک پھیل گیا۔
واضح رہے کہ ملک میں حالیہ مظاہرے گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے سمجھے جاتے ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرین وزیرِاعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ وزیرِاعظم طیب اردوگان کی حکومت پر مطلق العنانیت کا الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سیکولر ریاست پر قدامت پسند اسلامی اقدار نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں کے دوران چار افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
رجب طیب ارگان کی حکومت 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔







