کابل:سپریم کورٹ کے سامنے دھماکہ، سولہ ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ہونے والے خود کش بم دھماکے میں کم از کم سولہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
افغانستان میں گزشتہ دو روز میں دہشتگردی کی دوسری بڑی کارروائی ہے۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ خود کش حملے کا ہدف سپریم کورٹ کی عمارت تھی۔
پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی اس بس کے قریب کھڑی کر دی جس میں ججوں سمیت سپریم کورٹ کا عملہ گھر جاتے تھے۔
دھماکہ اس وقت ہوا جب سپریم کورٹ میں کام کرنے والے افراد دفتری اوقات ختم ہونے کے بعد اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران کابل میں ہونے والا یہ مہلک ترین بم دھماکہ ہے۔
دھماکے کے بعد پولیس نے اُن علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے جہاں غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
کابل میں سپریم کورٹ کی عمارت امریکی سفارت خانے سے تقریباً دو سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کابل میں گزشتہ دو روز میں یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔ اس سے قبل سات عسکریت پسندوں نے ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا۔
کابل پولیس نے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی کارروائی میں تمام حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
واضح رہے کہ کابل کا ہوائی اڈہ نیٹو فوج کا ملٹری بیس بھی ہے۔
طالبان نے ہوائی اڈے کے قریب اس حملے کی ملوث ہونے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
طالبان نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ بہار کے موسم میں غیرملکی فوجی اڈوں اور سفارتی ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔
گزشتہ ماہ افغان سکیورٹی فورس نے کابل کے مرکز میں ایک بڑے دھماکے کے بعد چار گھنٹوں تک طالبان کے ساتھ جنگ کی تھی۔
2014 کے اواخر تک بین الاقوامی فوج کی اکثریت افغانستان سے چلی جائے گی۔ اگلے چند ماہ کے اندر اندر افغان فوج 1992 کے بعد سے پہلی بار تمام ملک کی سکیورٹی کی ذمے داری سنبھال رہی ہے۔







