چین:’بس میں لگنے والی آگ محض حادثہ نہیں‘

چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ژیامن شہر میں ایک بس میں لگنے والی آگ محض ایک حادثہ نہیں ہے بلکہ اس واقعے کی ’مجرمانہ تحقیقات‘ بھی کی جا رہی ہیں۔
بس میں آتشزدگی کے واقعے میں سینتالیس افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے تھے۔
چینی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق تفتیشی افسران کو بس میں پیٹرول کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں جبکہ بس ڈیزل سے چل رہی تھی۔
ژنہوا کے مطابق مقامی سرکاری حکام اس واقعے کی مجرمانہ تحقیقات کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق جلنے والی بس کے ٹائر اور ایندھن کا ٹینک اپنی جگہ موجود ہیں۔
سرکاری حکام نے مزید بتایا کہ سلامتی کی وزیر کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم جائے حادثہ کے معائنے کے لیے بھیجی گئی ہے۔
یہ بس ژیامن کے ریپڈ بس نظام کا حصہ ہے جس میں شامل بسیں مخصوص اونچے راستوں پر چلتی ہیں۔اس واقعے کے بعد حکام نے شہر میں بسوں کا یہ نظام بند کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری کی گئی مختلف تصاویر میں جلے ہوئے افراد کو دکھایا گیا ہے جن کے کپڑوں پر خون کے دھبے ہیں۔ تصویروں میں بس کو اونچے راستے پر جلتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور بعض تصویروں میں جلی ہوئی بس سے دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ژیامن شہر فوجیان صوبے میں ہے اور اس کی آبادی تیس لاکھ سے زیادہ ہے اور اس شہر میں ایکسپریس بس کا نظام 2008 میں بنایا گیا تھا جسے بڑی تعداد میں لوگ استعمال کرتے ہیں۔
شنگھائی میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ چین میں حالیہ برسوں میں سرکاری عمارتوں اور عوامی بسوں پر حملے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔
سنہ 2009 میں ایک بے روزگار شخص نے بس پر پیڑول پھینک کر آگ لگا دی تھی ۔ اس واقعے میں حملہ آور سمیت چھبیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







