مہاجرین کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل

انسانی حقوق کی علمبردار بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے دنیا خطرناک تر جگہ بن گئی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ لاکھوں مہاجرین غربت میں رہنے پر مجبور ہیں جب کہ حکومتیں مہاجرین کے حقوق کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔
رپورٹ میں شام میں لڑائی کے خاتمے میں ناکامی پر بین الاقوامی برداری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شام میں لڑائی کی وجہ سے ایک چوتھائی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوئی ہے۔ شام میں 45 لاکھ افراد نے اندرون ملک نقل مکانی کی ہے جبکہ 15 لاکھ افراد نے دوسرے ملکوں میں پناہ لی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں مہاجرین کی شرح اموات میں بہتری آئی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل سلِل سیٹھی کہتے ہیں کہ ’لڑائی کے خاتمے میں ناکامی سے دنیا میں مجبور افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، نقل مکانی کرنے والے افراد کے حقوق کا کوئی بھی ضامن نہیں ہے، بہت سی حکومتیں امیگریشن کنٹرول کے نام پر انسانی حقوق کا استحصال کر رہی ہیں۔‘
رپورٹ میں کہا گا ہے کہ ’یہ اقدامات نہ صرف شورش زدہ علاقوں کےمہاجرین کو مشکل حالات سے دوچار کرتے ہیں بلکہ انہیں جبری مشقت، جنسی استحصال جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ ہجرت مخالف پالیسی کا مطلب اُن کا (مہاجرین) استحصال کرنا ہے۔حکومتیں اپنی مقامی مشکلات کے باعث مہاجرین اور نقل مکانی کرنے والوں کو ہدف بناتی ہیں۔‘ .
رپورٹ میں یورپی یونین کی سرحد کو محفوظ بنانے کے اقدامات کے بارے میں کہا گیا ہے، ’اس سے مہاجروں اور سیاسی پناہ لینے والے کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔‘ دنیا بھر میں مہاجرین اور سیاسی پناہ گزینوں کو جیل میں بند رکھا جاتا ہے اور بعض اوقات تو انہیں جہازوں میں تنگ جگہ پر محصور کر دیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ شام بھی جنگی جرائم کے ثبوت ملے ہیں۔مسٹر سلل کہتے ہیں کہ گذشتہ دو برسوں میں شام میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں کی لڑائی میں بلا تفریق عام افراد تشدد کا نشانہ بنے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی شام میں لڑائی کے خاتم کرانے میں ناکام رہی ہے خاص کر روس اور چین نے شام کے خلاف سخت اقدامات کی مخالفت کی ہے۔
مہاجرین کی حالتِ زار کے حوالے سے دنیا کے 159 ممالک کے سروے میں انٹرنیٹ تک رسائی اور رابطوں میں بہتری مثبت اقدام کے طور پر سامنے آئی ہے۔
ایمنسٹی نے پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کے واقعے پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کے کردار کو سراہا۔ ملالہ یوسف زئی گذشتہ سال طالبان کے حملے میں زخمی ہو گئی تھیں۔ لیکن رپورٹ میں ویت نام سے تعلق رکھنے والے تین بلاگروں کی گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ویت نام میں تینوں بلاگروں کو ریاست کے مخالف مہم چلانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2012 کے دوران دنیا کے 101 ممالک میں آزادی اظہار رائے کے حق میں بہتری آئی ہے لیکن کئی ممالک اب بھی خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے میں ناکام رہے ہیں۔ رپورٹ میں مالی، سوڈان اور کانگو میں مسلح افراد کی جانب سے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ غیر محفوظ اسقاطِ حمل خواتین اور لڑکیوں کی جان کے لیے خطرہ ہے۔
رپورٹ میں گوئٹے مالا اور ارجنٹائن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کاروائی کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔







