سعودی عرب میں مزید دس جاسوس گرفتار

ایران سعودی عرب میں جاسوسی کے الزامات کی تردید کرتا ہے
،تصویر کا کیپشنایران سعودی عرب میں جاسوسی کے الزامات کی تردید کرتا ہے

سعودی عرب میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران سے منسلک جاسوسی کے ایک نیٹ ورک سے تعلق کے شبے میں دس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں آٹھ سعودی، ایک ترک اور ایک لبنانی شہری ہے۔

سعودی عرب میں رواں سال مارچ میں جاسوسی کے الزام میں اٹھارہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے اور اس کے شیعہ اکثریتی ایران سے تعلقات کشیدہ ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال تعلقات مزید خراب ہوگئے تھے جب سعودی عرب نے بحرین میں سنی حکومت کے خلاف شیعہ عوامی تحریک کو دبانے کے لیے حکومت کی مدد کے لیے وہاں اپنی فوج بھیجی تھی۔

ایران نے سعودی عرب میں جاسوسی کے الزامات کی تردید کی ہے۔

مارچ میں گرفتار کیے جانے والے اٹھارہ افراد میں ایک لبنانی اور سولہ سعودی شہری تھے تاہم بعد میں لبنانی شہری کو رہا کر دیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد ملک میں حساس مقامات اور تنصیبات کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے تھے اور ان کا تعلق ایران کے انٹیلی جنس ادارے سے تھا۔

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ آبادی زیادہ ہے اور مارچ میں گرفتار کیے جانے والے تمام افراد کا تعلق شیعہ برادری سے تھا۔