’امریکہ کا شامی باغیوں کو مسلح کرنے پر غور‘

امریکہ میں اس بات پر بحث زیادہ ہو گئی ہے کہ شام کی صورتحال کے حوالے سے امریکہ کو کیا کرنا چاہیے
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں اس بات پر بحث زیادہ ہو گئی ہے کہ شام کی صورتحال کے حوالے سے امریکہ کو کیا کرنا چاہیے

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کا کہنا ہے کہ امریکہ شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے سمیت کئی آپشنز پر غور کر رہا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یہ پہلی بار ہے کہ امریکی انتظامیہ کے کسی اہلکار نے شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے حوالے سے بیان دیا ہو۔

یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں برطانوی وزیر دفاع فلپ ہیمنڈ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

بی بی سی کے امریکی وزارت دفاع کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ شام میں براہ راست فوجی کارروائی کے حق میں نہیں ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال صدر اوباما نے سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کی اس تجویز کو مسترد کردیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ باغیوں کو اسلحہ فراہم کیا جائے۔

امریکہ نے باغیوں کو طبی اور مواصلاتی سامان مہیا کیا ہے۔

امریکہ میں اس بات پر بحث زیادہ ہو گئی ہے کہ شام کی صورتحال کے حوالے سے امریکہ کو کیا کرنا چاہیے۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے واشنگٹن میں کہا کہ انتظامیہ شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

’ایک آپشن باغیوں کو مسلح کرنے کی ہے۔ آپ ایک زاویے کو دیکھتے ہیں اور اس پر سوچ بچار کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ یہ کریں گے یا نہیں کریں گے۔ ان آپشنز پر عالمی برادری کے ساتھ بات چیت کرنی ہو گی۔‘

برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ برطانیہ یورپی یونین کی جانب سے پابندی کے باعث شامی باغیوں کو اسلحہ نہیں دے سکتا۔ ’لیکن ہم اس آپشن پر اس وقت غور کریں گے جب چند ہفتوں بعد یورپی یونین کی پابندی ختم ہو جائے گی۔‘