
سنہ دو ہزار ایک سے اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد چار سو تیس ہوگئی ہے
برطانیہ میں وزارتِ دفاع کے مطابق افغانستان میں دو برطانوی فوجیوں کو افغان پولیس کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے ہلاک کر دیا ہے۔
یورکشائر ریجمنٹ کی تھرڈ بٹالیئن سے تعلق رکھنے والے ان دو فوجیوں کو ہلمند صوبے میں نہرِ سراج کے جنوب میں واقع ایک چوکی پر سنیچر کو مارا گیا۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے ورثا کو مطلع کیا جا چکا ہے۔
سنہ دو ہزار ایک سے اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد چار سو تیس ہوگئی ہے۔
وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ چوکی پر ہونے والے اس حملے کا اس سے کچھ دیر بعد ہی ہوئے کیمپ بیسشن نامی اتحادی فوج کی چھاؤنی پر طالبان کے حملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ کیمپ بیسشن پر ہونے والے حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
حملے سے عمارات اور جہازوں کو نقصان پہنچا لیکن نیٹو کا کہنا ہے کہ اس نے اٹھارہ باغیوں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کر لیا ہے۔ طالبان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے یہ حملہ اسلام مخالف فلم کا بدلہ لینے کے لیے کیا تھا۔
بی بی سی کے کابل میں نمائندے جوناتھن بیل کا کہنا ہے کہ کیمپ بیسشن صحرا کے بیچوں بیچ واقع ہے اور یہاں سے چاروں طرف دیکھا جا سکتا ہے
چھاؤنی بھاری طور پر قلعہ بند تھی۔ اتحادی فوجیں تحقیقات کر رہی ہیں جنگجو کس طرح اس پر اچانک شب خون مارنے میں کامیاب ہو گئے۔
برطانیہ کے شہزادہ ہیری نے ایک ہفتہ قبل اسی چھاؤنی میں فرائض سنبھالے تھے لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔
ان واقعات سے ایک روز قبل جنوبی افغانستان میں سڑک پر نصب بم پھٹنے کے نتیجے میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔
فرسٹ بٹالیئن گرینیڈیئر گارڈز کے اس فوجی کی وزارتِ دفاع نے اب تک شناخت نہیں کی ہے تاہم ان کے اہلِ خانہ کو مطلع کیا جا چکا ہے۔






























