
بیسچئن کیمپ میں کئی ممالک کے فوجیں موجود ہیں تاہم جمعے کے روز ہونے والے اس حملے میں امریکی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔
جنوبی افغانستان میں بین القوامی فوج کے ایک بڑے اڈے بیسچئن کیمپ پر حملے میں کم سے دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
حملہ آوروں نے چھوٹے اسلحے کے ساتھ ساتھ راکٹوں اور مارٹر گولوں کا بھی استعمال کیا۔
برطانوی شہزادہ ہیری بھی حال ہی میں اسے کیمپ میں تعینات ہیں۔ یہ ان کی افغانستان میں دوسری تعیناتی ہے۔
نیٹو نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ حملے کے وقت شہزادہ ہیری اسی کیمپ میں تھے تاہم انہیں کوئی خطرہ نہیں تھا۔
بین القوامی افواج دو ہزار چودہ میں افغانستان سے چلی جائیں گی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کے جانے کے بعد وہاں تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بیسچئن کیمپ میں کئی ممالک کے فوجیں موجود ہیں تاہم جمعے کے روز ہونے والے اس حملے میں امریکی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔
ایساف کے میجر مارٹن گریگٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملےشدت پسندوں نے کیا ہے۔
انہوں نے بتایا ’ ایساف فورسز اس وقت نقصان کا اندازہ کر رہی ہیں تاہم اس میں ہمارے دو فوجی اہکار ہلا ک ہوئے ہیں۔ ‘
اس وسیع فوجی اڈے میں حفاظتی انتظامات انتہائی سخت ہو تے ہیں اور یہ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہاں بڑے تعداد میں جہاز اور ہیلی کاپٹرز اترتے اور پرواز کرتے رہتے ہیں۔






























