
عین شاہدین کا کہنا ہ ےکہ وارداک میں ہونے والے حملے میں ایک مقامی بازار بری طرح تباہ ہوگیا ہے
افغانستان میں حکام کے مطابق ملک کے وسطی علاقے میں نیٹو کے ایک فوجی اڈے کے قریب دو خودکش حملوں میں نو شہری اور چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وردک میں ہونے والے ان حملوں میں ایک مقامی بازار بری طرح تباہ ہوگیا ہے۔
پہلا حملہ ایک خودکش بمبار نے کیا جبکہ دوسرا حملہ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کے پھٹنے سے ہوا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے اتحادی افواج کے جانے کے بعد وہاں تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پہلے خودکش حملہ آور نے سید آباد میں مقامی گورنر کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد ہونے والے حملے میں متعدد گھر اور دوکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔
حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم سیتالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وہیں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں نیٹو کے فوجیوں کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔
علاقائی ترجمان شہیداللہ شاہد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’وردک صوبے کے علاقے سیدآباد میں نیٹو کے فوجی اڈے کے قریب پہلے ایک خودکش حملہ آور چل کر آیا اور حملہ کیا جس سے اسلحہ سے لیس ٹرک کو آنے کا راستہ ملا جو بعد میں پھٹ گیا‘۔
کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے گزشتہ ہفتے بھی اسی فوجی اڈے پر حملہ ہوا تھا جس میں پانچ افغان شہری ہلاک اور درجنوں امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔






























