کابل: جھڑپ کے بعد آٹھ مشتبہ شدت پسند ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک بڑے دہشت گرد حملے کا منصوبہ تیار کرنے والے والے آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان افراد کو ایک جھڑپ کے بعد ہلاک کیا گیا۔
جمعرات کو علی الصبح سکیورٹی فورسز نے ایک پر چھاپہ مارا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
یہ لڑائی چھ گھنٹے جاری رہی۔ کارروائی کے وقت درجنوں گھر خالی کروا لیے گئے۔ جائے واردات سے بارود سے بھری گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد سے دھماکہ خیز مواد کے دو پیکٹ اور خودکش جیکٹس اور دیگر ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔
کابل کے پولیس سربراہ محمد ایوب سالنگی نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ رات تین شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا جنہیں شہری علاقوں میں حملوں کی ہدایات دی گئی تھیں۔
افغان انٹیلیجنس ایجسنی کے ترجمان لطیف اللہ مشال نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ (دہشتگردی کا) ایک بہت بڑا منصوبہ تھا۔ شکر ہے خدا کا ہم اسے روکنے میں کامیاب ہو گئے۔ ‘
طالبان نے اس لڑائی میں اپنے کسی جنگجو کے شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل بائیس جون کو بھی کابل میں ایک ہوٹل پر حملے کے نتیجے میں کم سے کم تیرہ افراد ہلاک ہو گئے۔
حکام کے مطابق طالبان حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ بارہ گھنٹوں تک جاری رہا تھا۔







