
قبائلی عمائد نے طالبان کو اس حملے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے
حکام نے خبر دی ہے کہ ایک خودکش حملہ آور نے مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک جنازے پر حملہ کر کے کم از کم پچیس افراد کو ہلاک کر دیا جن میں ایک ضلعی گورنر کے صاحب زادے بھی شامل ہیں۔
دورافتادہ سرحدی ضلع دربابا میں سینکڑوں دیہاتی اور حکام ایک بااثر قبائلی رہنما کے جنازے میں شریک تھے۔
پولیس نے کہا ہے کہ تیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں ضلعی گورنر بھی شامل ہیں۔
مقامی افراد نے حال ہی میں اس علاقے میں طالبان کے خلاف ایک مہم میں حصہ لیا تھا۔
ضلع کے عمائد اور مقامی خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے طالبان کو حملے کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عسکریت پسندوں کی طرف سے اپنے خلاف مہم میں حصہ لینے کا بدلہ ہے۔
ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ’خودکش حملہ آور (سوگواروں کے) درمیان چل پھر رہا تھا۔‘
’اسے دربابا کے ضلعی گورنر کے بھائی نے شناخت کر لیا تھا، لیکن جوں ہی انہوں نے اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی، حملہ آور نے اپنی خودکش جیکٹ کا دھماکہ کر دیا۔ (ہر طرف) خون اور اعضا بکھرے ہوئے تھے۔ جنازے میں بہت زیادہ لوگ تھے۔‘
"کسی نے چیخ کر کہا کہ ادھر ایک خودکش حملہ آور ہے۔ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ جب میں ہوش میں آیا تو ہر طرف لاشیں اور خون تھا۔"
ایک اور عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب بم دھماکہ ہوا وہ سوگواروں کے ہجوم کے پچھلے سرے پر موجود تھا۔
انہوں نے کہا ’کسی نے چیخ کر کہا کہ ادھر ایک خودکش حملہ آور ہے۔ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ جب میں ہوش میں آیا تو ہر طرف لاشیں اور خون تھا۔‘
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان نے اب تک اس واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن وہ اکثر اوقات جنازوں اور شادیوں سمیت عوامی تقریبات کے دوران سرکاری حکام اور اپنے مخالفین کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔






























