روس:مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام سے انکار

،تصویر کا ذریعہAFP
روس میں پنک میوزک کے ایک احتجاجی گروپ کی ان تین ارکان نے فردِ جرم سے انکار کیا ہے جن پر ماسکو کے ایک چرچ میں صدر ولادیمیر پوتین کے خلاف گانا گانے پر غنڈا گردی کرنے اور مذہبی منافرت اور دشمنی کو ہوا دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
خواتین کے لیے مساوی حقوق کے حامی ’پُسی رائٹ‘ نامی پنک بینڈ کی ان خواتین کو فروری میں حراست میں لیا گیا تھا اور ان الزامات کے تحت انہیں سات سال تک قید ہو سکتی ہے۔
اس گروپ کے خلاف مقدمے پر روس میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے جبکہ مذہبی حلقے اس پر بہت ناراض ہیں۔
اس واقعے کے بعد روس کے آرتھوڈوکس چرچ میں اشتعال پیدا ہوگیا تھا اور انہیں گرجا گھر کی توہین کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس گروپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اپنے مخالفین کے معاملے میں کس قدر عدم برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے۔
مقدمہ شروع ہوا تو تینوں خواتین نادزدا تولوکونیکووا، ماریا الیوکہینا، یکاترینا سموسووچ کو ہتھکڑیوں میں عدالت لایا گیا جس کے بعد انہیں بُلٹ پروف پنجرے میں قید کر دیا گیا۔
نادزدا تولوکونیکووا نے عدالت کو بتایا وہ اس جرم کو قبول نہیں کریں گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کی پرفارمنس کی وجہ سے چرچ کو پہنچنے والی تکلیف پر معذرت کے لیے تیار نہیں ہیں۔
تینوں خواتین نے باری باری جج کی جانب پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔ اُن سے تعلیم، شہریت اور ان کے بچوں کی تاریخ پیدائش کے بارے میں پوچھا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جو بعد میں روسی ٹیلی وژن پر بھی نشر کیا گیا روس کے و زیرِ اعظم دیمتری میدویدو نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی کہ ان خواتین نے جرم کیا ہے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا ’یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک فرد کے حقوق اور آزادی سے متعلق ہماری کیا فکر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
’بہرحال ان باتوں کے بیچ ہمیشہ فرق رہتا ہے کہ اخلاقیات کے لحاظ سے کس بات کی اجازت ہے اور کِس کی نہیں۔ اور کہاں بداخلاقی ایک جُرم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔‘
اس مقدمے کے حوالے سے روس میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے ان عورتوں کے ساتھ سخت برتاؤ کیا گیا ہے اور اسے حزبِ مخالف کو دبانے کی کوشش کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
ان خواتین میں سے دو کے بچے نوجوان ہیں اور مقدمے سے قبل ان تینوں کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مسلسل مسترد کی جاتیں رہیں۔
روس میں سو سے زائد نامور اداکاروں، ہدایتکاروں ارو موسیقاروں نے حکام سے کہا ہے کہ ان خواتین کو رہا کیا جائے۔ مغربی گلوکاروں نے بھی ان خواتین کی گرفتاری پر تنقید کی ہے۔







