’ختنہ کرنا جسمانی نقصان کے مترادف‘

’ختنہ کسی بچے کے مستقبل میں مذہبی عقائد کے چناؤ میں ایک رکاوٹ بن سکتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن’ختنہ کسی بچے کے مستقبل میں مذہبی عقائد کے چناؤ میں ایک رکاوٹ بن سکتا ہے‘

جرمنی میں ایک عدالت نے مذہبی وجوہات کی بنیاد پر کمسن لڑکوں کے ختنہ کو جسمانی نقصان کے مترادف قرار دے دیا ہے۔

اس عدالتی فیصلے سے جرمنی میں مقیم مسلمانوں اور یہودیوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کسی بچے کا اس کے جسم پر حق مذہب یا اس کے والدین کے اس پر حق سے کہیں افضل ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں دیا گیا ہے جس میں ڈاکٹر نے چار سالہ بچے کا ختنہ کیا تاہم یہ عمل طبی پیچیدگیوں کا شکار ہوگیا تھا۔

مردوں کا ختنہ کرنا جرمنی میں غیرقانونی نہیں ہے تاہم عدالت نے کہا ہے کہ ’بچے کا اپنے جسم کے بارے میں بنیادی حق والدین کے اس پر حق سے کہیں زیادہ ہے‘۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ختنہ کسی بچے کے مستقبل میں مذہبی عقائد کے چناؤ میں ایک رکاوٹ بن سکتا ہے‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عدالتی فیصلہ لازم نہیں لیکن اسے دیگر جرمن عدالتوں میں بطور مثال استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کے صدر دائتر گرومین کا کہنا ہے کہ ’یہ مذہبی کمیونٹیز کے حقوق میں ایسی ڈرامائی مداخلت ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی‘۔

انہوں نے جرمن پارلیمان سے اپیل کی وہ اس معاملے پر قانونی پوزیشن واضح کرے تاکہ مذہبی آزادی کا تحفظ کیا جا سکے۔

مردوں کا ختنہ مسلمانوں اور یہودیوں میں ایک صدیوں پرانی مذہبی روایت ہے جبکہ کچھ قبائل بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔

جرمنی میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن ایونز کا کہنا ہے کہ یہ تو واضح نہیں کہ اس معاملے میں اگلا قانونی قدم کیا ہوگا لیکن یہ اخلاقی اور سیاسی میدان میں ایک انتہائی متنازع معاملہ بن سکتا ہے۔