افغانستان: طالبان کا ہوٹل پر حملہ، تیرہ ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کے مطابق طالبان کی جانب سے ایک ہوٹل پر حملے کے نتیجے میں کم سے کم تیرہ افراد ہلاک ہو گئے۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ بارہ گھنٹوں تک جاری رہا جو اب ختم ہو گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ہوٹل کے چار گارڈز اور چار عام شہری بھی شامل ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل سے باہر قائم اس ہوٹل میں زیادہ تر غیر ملکی افراد کے علاوہ مقامی شہریوں کی آمدو رفت جاری رہتی ہے۔

کابل میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کیوٹن سومرویل کا کہنا ہے کہ دارالحکومت سے دور اور محدود سکیورٹی کی وجہ سے یہ ہوٹل طالبان کے لیے آسان شکار تھا۔

واضح رہے کہ طالبان نے جمعہ کی صبح ایک ہوٹل پر حملہ کر کے کئی افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق یرغمالیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تہے تاہم بعد میں اٹھارہ افراد کو رہا کر دیا گیا۔

کابل پولیس کے نائب سربراہ داؤد امین نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ہوٹل کا محاصرہ کر لیا جہاں لوگ شادی کی ایک تقریب کے لیے جمع ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق چند مہمانوں نے ہوٹل کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔

طالبان نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ انہوں نے اس ہوٹل پر اس لیے حملہ کیا کیونکہ یہاں امیر افغان اور غیر ملکی افراد غیر مہذب پارٹیوں کا بندوبست کرتے تھے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور حالیہ حملوں میں تین امریکی سپاہیوں سمیت بیس افغان شہری ہلاک ہو گئے تھے۔