براک اوباما نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا

صدر اوباما

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے تسلیم کیا کہ نومبر کا انتخاب کڑا ہو گا

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اوہایو میں ایک ریلی نکال کر نومبر میں ہونے والے انتخابات میں دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

انہوں نے اپنے حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کساد بازاری اور معیشت میں گراوٹ سے باہر نکلنے کی پوری کوشش کر رہا ہے اور اگر انہیں دوسرا موقع دیا گیا تو وہ معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

انہوں نے ریپلیکنز کی طرف سے اپنے حریف مِٹ رومنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ گھڑی کا رخ پیچھے کی طرف موڑ دیں گے۔‘

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ چھ نومبر کا ووٹ مشکل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ملک میں بہت سے افراد اس بات سے خوش نہیں ہیں کہ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد انہوں نے تبدیلی لانے کے جو وعدے کیے تھے ان پر بہت سست روی سے عمل ہو رہا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار جین او برائن کے مطابق ہزاروں حمایتیوں کے نعروں کی گونج میں صدر اوباما سٹیج پر آئے جہاں پہلے ہی انتخابی مہم کے ویڈیوز اور خاتونِ اول مشیل اوباما کی طرف سے تمہید باندھی جا چکی تھی۔

انہوں نے اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اقتصادی بحران انہیں ورثے میں ملا تھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بہت سے امریکی ابھی بھی مشکل میں ہیں لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں دوسرا موقع دیا جائے تاکہ وہ ترقی جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے چودہ ہزار سے زائد کے مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ محض ایک اور انتخاب نہیں ہے۔ یہ مڈل کلاس کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔‘

اس موقع پر مجمع نے ’مزید چار سال‘ کے نعرے لگا کر صدر کی کارکردگی کو سراہا۔