نیویارک: ون ٹریڈ سینٹر بلند ترین عمارت

ون ٹریڈ سینٹر یا فریڈم ٹاور کی تعمیر اپریل سال دو ہزار چھ میں شروع ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنون ٹریڈ سینٹر یا فریڈم ٹاور کی تعمیر اپریل سال دو ہزار چھ میں شروع ہوئی تھی

امریکہ کے شہر نیویارک میں گیارہ ستمبر سال دو ہزار گیارہ یا نائن الیون کے حملوں کی زد میں آنے والے ٹون ٹاورز کی جگہ بننے والی کثیرالمنزلہ عمارت شہر کی بلند ترین عمارت بن گئی ہے۔

ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر نامی اس زیر تعمیر عمارت کے 100ویں منزل پر سٹیل کے ستون نصب کرنے سے اس کی اونچائی بارہ سو اکہتر فٹ سے کچھ زیادہ ہو گئی اور اس نے ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کو بھی نیچے چھوڑ دیا ہے۔

تعمیراتی کارکن عمارت کی منزلوں میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں جس کی تعمیر ایک سال سے کم عرصے میں مکمل ہوتی نظر نہیں آتی۔

عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد امکان ہے کہ اسے امریکہ کی بلند ترین عمارت قرار دیا جائے۔

اس عمارت کی تعمیر سال دو ہزار چھ میں شروع ہوئی تھی اور مکمل ہونے کی بعد کی بلندی سترہ سو چھہتر فٹ ہو گی۔

ون ٹریڈ سینٹر یا فریڈیم ٹاور ایک ایسے وقت نیویارک کی بلند ترین عمارت بن گئی ہے جب بدھ دو مئی کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔

ون ٹریڈ سینٹر جسے فریڈیم ٹاور بھی کہا جاتا ہے کے 69 فلورز یا منزلیں دفاتر کے لیے مخصوص ہونگے اس کے علاوہ ریستوان اور ٹیلی ویژن کے دفاتر ہونگے اور شہر کا نظارہ کرنے کا ڈیک یا عرشہ بھی تعمیر کیا جائے۔