مصر: انقلاب کی پہلی سالگرہ، ہزاروں کا مجمع

،تصویر کا ذریعہGetty

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہزاروں افراد سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت کی پہلی سالگرہ کے موقع پر التحریر سکوائر پر جمع ہیں۔

ایک سال پہلے مصر کے صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں وہ اقتدار سے الگ ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔

بدھ کو قاہرہ کے التحریر سکوائر میں انقلاب کے جلوس میں شامل کچھ لوگ حالیہ انتخابات میں اسلامی جماعتوں کی فتح کا جشن منا رہے ہیں تو دوسری جانب کچھ لوگ ملک میں مزید سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بدھ کو بغاوت کا ایک سال مکمل ہونے پر جیلوں میں قید سینکڑوں قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کئی ہزار افراد قاہرہ کے التحریر چوک میں جمع ہو گئے تھے۔ التحریر چوک گزشتہ سال سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا مرکزی مقام تھا۔ بدھ کی صبح مزید ہزاروں افراد چوک میں جمع ہو گئے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کا کہنا ہے کہ ریلی میں شامل افراد پرامن دکھائی دیتے ہیں اور یہ مظاہرے سے کہیں زیادہ ایک بڑے جشن کا سا سماں دیکھائی دیتا ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب التحریر چوک میں جمع ہونے والے افراد ملک میں حمکمران فوجی کونسل کے خلاف احتجاجی نعرے لگاتے رہے اور ان کا مطالبہ تھا کہ وہ اب اقتدار سے فوری طور پر الگ ہو جائے۔

التحریر چوک میں جمع افراد نے حکمران فوجی کونسل کے خلاف احتجاجی نعرے لگائے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنالتحریر چوک میں جمع افراد نے حکمران فوجی کونسل کے خلاف احتجاجی نعرے لگائے

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق چوک میں موجود امام فہمی نامی شخص کا کہنا تھا ’ہم یہاں پر جشن منانے نہیں آئے ہیں بلکہ فوجی اقتدار کے خاتمے کے لیے آئے ہیں، انھوں نے انقلاب کو ناکام کر دیا اور طے کردہ اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘

خالد عبداللہ نامی شخص نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ’ فوج اور پولیس نے ہمارا قتل کیا اور انقلاب کی آواز کا گلا دبا دیا لیکن میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ انقلاب کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔‘

تاہم چوک میں موجود کچھ افراد کا کہنا تھا کہ مظاہروں کا سلسلہ بند کر کے آگے بڑھنے کے لیے سیاسی رہنماؤں کو ایک موقع دینا چاہیے۔

محمد اوتھمین نے رائٹرز کو بتایا کہ’ فوجی کونسل کو ہر صورت میں اقتدار سے الگ ہونا ہے، یقینی طور پر انقلاب ابھی نامکمل ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی زندگی کو روک دیں۔‘

اس سے پہلے منگل کو مصر میں حکمران فوجی کونسل کے سربراہ نے ملک میں کئی دہائیوں سے نافذ ایمرجنسی قوانین کو جزوی طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فیلڈ مارشل محمد حسین تنتاوی کے مطابق ایمرجنسی قوانین کا نفاذ ٹھگوں پر رہے گا، انھوں نے اس ضمن میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔