چین:پہلے طیارہ بردار بحری جہاز کی آزمائش

رواں سال جون میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے تصدیق کی تھی کہ وہ بحریہ کا پہلا ائر کرافٹ کیرئیر تیار کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہchina aircraft carrier

،تصویر کا کیپشنرواں سال جون میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے تصدیق کی تھی کہ وہ بحریہ کا پہلا ائر کرافٹ کیرئیر تیار کر رہا ہے

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چینی بحریہ کے پہلے طیارہ بردار جہاز کی سمندر میں آزمائش شروع کر دی گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے فوجی ذرائع کے مطابق کہا ہے کہ شمال مشرقی علاقے میں واقع شپ یارڈ سے سابق سوویت یونین کے جنگی بحری جہاز کو دوبارہ کارآمد بنانے یا بحالی کے بعد سمندر میں آزمائش کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے اور یہ اس آزمائش میں’ زیادہ عرصہ نہیں لگائے گا۔‘

طیارہ بردار بحری جہاز کی آزمائش کے اعلان کے بعد چین کی عسکری صلاحتیوں میں تیزی سے اضافے پر نئے خدشات جنم لیں گے۔

<link type="page"><caption> چین کسی کے لیے خطرہ نہیں: لیانگ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/01/110110_us_china_nj.shtml" platform="highweb"/></link>

ژنہوا کے مطابق بدھ کی صبح شمال مشرقی صوبے لیوننگ کی بندرگاہ سے ائر کرافٹ کیرئیر روانہ ہو گیا ہے۔

’فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ائر کرافٹ کیرئیر کو دوبارہ کارآمد بنانے یا بحالی کے بعد طے شدہ سمندری آزمائش پر روانہ کر دیا گیا ہے۔‘

سمندری آزمائش سے واپسی کے بعد بحری جہاز کی دوبارہ مرمت، بحالی اور جانچ کا عمل جاری رہے گا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی نےآزمائش کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیکل برسٹوو کا کہنا ہے کہ چین کو ابھی اپنے بحری ائر کرافٹ کیرئیر کو اہم عسکری ہتھیار کے طور پر تعینات کرنے میں کئی سال کا عرصہ درکار ہے اور اس دوران چین کے ہمسایہ ممالک تشویش میں مبتلا رہیں گے۔

ان ممالک میں سے متعدد کا چین کے ساتھ سمندری حدود کے تعین پر تنازع ہے اور وہ چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

چین نے جس بحری ائر کرافٹ کیرئیر کو آزمائش پر بھیجا ہے وہ سابق سوویت یونین نے سنہ انیس سو اسی میں اپنی بحریہ کے لیے تیار کرنا شروع کیا تھا اور اس کا نام وریاگ تھا۔

لیکن اس وقت سوویت یونین اسے مکمل نہیں کر پایا اور سنہ انیس سو اکانوے میں یونین کے ٹوٹنے کے وقت نامکمل بحری جہاز یوکرائن کی بندرگاہ پر خستہ حالت میں کھڑا تھا۔

جب سابق سوویت یونین کے بحری جنگی جہازوں کو سکریپ کرنا شروع کیا گیا تو اس وقت وریاگ نامی بحری جہاز کو چین کی پیپلز لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی نے یہ کہہ کر خرید لیا کہ وہ اس جہاز کو ماکویا میں ایک تیرتے ہوئے کسینو کے طور پر استعمال کرے گی۔

خریداری کے چند سال بعد یہ چینی کمپنی بحری جہاز کو کھینچ کر چین لے آئی اور پھر ڈالین کی بندرگاہ پر منتقل کر دیا گیا۔

رواں سال جون میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے تصدیق کی تھی کہ وہ بحریہ کا پہلا ائر کرافٹ کیرئیر تیار کر رہا ہے۔