بچوں پر عریاں مواد، بہّتر افراد پر الزام

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ نے بہّتر افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک ایسے عالمی نیٹ ورک کا حصہ تھے جو انٹرنیٹ پر کمسن بچوں کی فحش تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلۂ کرتے تھے۔
اعلیٰ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ’ڈریم بورڈ‘ نامی ویب سائٹ کے کم و بیش چھ سو صارفین سے تفتیش کی گئی ہے اور بیس ماہ تک جاری رہنے والے اس تفتیشی سلسلے کو ’آپریشن ڈیلاگو‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اٹورنی جنرل ایرک ہولڈر کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ پر کچھ تصاویر کمسن بچوں سے جنسی زیادتی کیے جانے پر مشتمل تھیں۔
امریکہ نے اب تک بہتّر افراد پر الزام عائد کیے جانے والوں میں سے تینتالیس افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ نو افراد ملک سے باہر ہیں۔
امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری جینٹ نیپولٹانو نے بتایا کہ باقی کے بیس افراد کو شناخت نہیں جا سکا کیونکہ انھوں نے ویب سائٹ پر اپنے درست نام درج نہیں کیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کل ملا کر اتنی تصاویر اور ویڈیوز تھیں کہ ان سے سولہ ہزار ڈی وی ڈیز بھر جائیں۔
حکام نے تیرہ دیگر ممالک میں لوگوں کو اس نیٹ ورک کا حصہ ہونے کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔
ان ممالک میں کینیڈا، ڈینمارک، ایکواڈور، فرانس، جرمنی، ہنگری، کینیا، نیدرلینڈ، فلےپینز، قطر، سربیا، سویڈن اور سوٹزرلینڈ شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی جسٹس ڈی پارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ڈریم بورڈ ویب سائٹ کے ارکان آپس میں بارہ سال سے کم عمر کے بچوں پر کی جانے والی جنسی زیادتیوں پر مشتمل تصاویر اور ویڈیوز کی لین دین کرتے تھے۔
ارکان نے ان تمام تصاویر اور ویڈیوز کی ایک لائبریری بنائی ہوئی تھی۔
ایرک ہولڈر نے کہا ’اس نیٹ ورک کے تمام ارکان ذہنی مرض کا شکار ہیں اور ان کا خواب انٹرنیٹ پر بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کو مقبولیت دینا تھا۔‘
انھوں نے کہا ’لیکن جن بچوں کا جنسی استحصال ہوا ہے، ان کے لیے یہ ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔‘
امریکی تفتیش کے بعد گرفتار ہونے والے باون افراد میں سے تیرہ پر الزام ثابت ہو گیا ہے اور ان میں سے دو افراد کا تعلق کینیڈا اور فرانس سے ہے۔
ڈریم لینڈ ویب سائٹ سنہ دو ہزار آٹھ میں بنائی گئی تھی اور دو ہزار گیارہ میں امریکی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی تفتیش کے بعد اسے بند کر دیا گیا۔
جرائم ثابت ہونے پر ویب سائٹ کے ارکان کو بیس سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔







