1500 افراد کی ہلاکت کا حکم دینےکا اعتراف

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
میکسیکو میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعہ کو گرفتار کیے جانے والے ایک جرائم پیشہ گروہ کے سربراہ نے شمالی چیہواہوا کے علاقے میں پندرہ سو افراد کی ہلاکت کا حکم دینے کا اعتراف کیا ہے۔
بتیس سالہ ہوزے انتونیو آکوسٹا ہرنینڈز پر گزشتہ برس امریکی قونصل خانے کی ایک ملازمہ اور اس کے شوہر پر حملے کی منصوبہ بندی کا شبہ بھی ہے۔
میکسیکن حکام کے مطابق آکوسٹا ہرنینڈز جرائم پیشہ گروپ ’ہوارز کارٹل‘ کی کلیدی شخصیت ہیں۔ ہوارز میکسیکو کا وہ شہر ہے جو پرتشدد کارروائیوں کے لیے بدنام ہے اور وہاں سنہ 2010 میں تین ہزار سے زیادہ افراد قتل ہوئے تھے۔
ال ڈیاگو کے نام سے معروف آکوسٹا پر لا لینیا گینگ کے سربراہ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ وہ گینگ ہے جس کے ارکان ہوارز کارٹل کے لیے بطور کرائے کے قاتل کام کرتے ہیں۔
میکسیکو کی وفاقی پولیس کے انسدادِ منشیات یونٹ کے سربراہ رامون پچینو کے مطابق آکوسٹا ہرنینڈز نے گزشتہ برس ایک تقریب کے دوران پندرہ افراد کو ہلاک کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
میکسیکن حکومت نے آکوسٹا کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے ڈیڑھ کروڑ میکسیکن پیسو یا بارہ لاکھ پچھہتر ہزار امریکی ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔



