لیو شاؤبو:’چین کا سب سے بڑا باغی‘

لیو شاؤبو فائل فوٹو

چین کے سرکردہ منحرف رہنما لیو شاؤبو ایک سیاسی رہنما، مصنف، یونیورسٹی کے پروفیسر اور چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی کے مخالف ہیں۔

لیو شاؤبو کو رواں برس ناروے میں چین کی پرزور مخالفت کے باوجود امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

دنیا لیو شاؤبو کو چین کے سب سے بڑے باغی کے طور پر جانتی ہے اور انہیں اُس وقت مزید شہرت ملی جب اُن کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔تاہم چین میں چند لوگوں نے اُن کا نام سنا ہے۔

لیوشاؤبو کو متعدد بار قید کا سامنا کرنا پڑا اور حکومت کی جانب سے انہیں کڑی نگرانی میں رکھا گیا۔

لیو شاؤبو ریاست کے خلاف بغاوت اکسانے کے جرم میں گیارہ سال کی قید کاٹ رہے ہیں۔

لیو شاؤبو پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک دستاویز لکھی تھی جس میں سیاسی اصلاحات کی بات کی گئی تھی۔

چون سالہ لیو شاؤبو سب سے پہلے سنہ انیس سو نواسی میں بیجنگ میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے کے دوران منظرِ عام پر آئے۔وہ اس مظاہروں میں شرکت کرنے کے لیے امریکہ سے واپس آئے۔

جب چین کے سپاہیوں نے تیان من سکوائر کو خالی کروانے کی کوشش کی تو لیو شاؤبو نے چند طالب علموں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ فوج کا سامنا کرنے کی بجائے وہاں سے چلے جائیں۔لیو شاؤبو کے اس طرزِعمل کے خلاف حکام نے انہیں جیل بھیج دیا جہاں وہ دو سال تک قید رہے۔

لیو شاؤبو نے سنہ دو ہزار آٹھ میں بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا ’سنہ انیس سو نواسی میں ہونے والے قتل و غارت نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا۔‘

لیو شاؤبو نے بیجنگ کی نارمل یونیوسٹی میں پروفیسر بھی رہے لیکن بعد میں انہیں طالب علموں کو پڑھانے سے روک دیا گیا۔ سنہ انیس سو چھیانوے میں انہیں ایک بار پھر چین کےایک پارٹی سسٹم کے خلاف بولنے پر گرفتار کیا گیا لیکن اس بار انہیں ایک لیبر کیمپ میں تین سال کے لیے رکھا گیا۔

شاؤبو نے اسی کیمپ میں لیوزیا سے شادی کی۔اس کے بعد لیو شاؤبو نے حکومتی پالیسیوں پر اپنی تنقید جاری رکھی۔

لیو شاؤبو کے کام کے باعث انہیں چین کے باہر شہرت ملی اور انہیں متعدد انعامات سے نوازا گیا۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نےگزشتہ برس دسمبر میں ایک بیان میں چین سے لیو شاؤبو کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ وہ دستاویزات جن کی وجہ سے لیو شاؤبو مشکل میں پھنسے انہیں دو سال قبل شائع کیا گیا جس میں چین کے نئے آئین، آزاد عدلیہ اور اظہارِ رائے کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔

ان دستاویزات کے چھپنے کے دو روز قبل پولیس نے لیو شاؤبو کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا۔ لیو شاؤبو کوگزشتہ برس دسمبر میں گیارہ برس کی قید سنائی گئی۔