سربرنیتزا قتل عام عالمی ضمیر پر داغ:اوباما

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ سربرنیتزا میں پندرہ برس پہلے ہونے والا قتل عام جس میں ہزاروں مسلمان مرد اور لڑکے ہلاک کیے گئے تھے ’اجتماعی عالمی ضمیر پر ایک داغ ہے‘۔
صدر اوباما کا یہ بیان اتوار کو بوسنیا کے شہر سربرنیتزا میں ہی پڑھ کر سنایا گیا جہاں اس قتل کا شکار ہونے والے سینکڑوں افراد کی اجتماعی تدفین کی گئی۔ پندرہ برس قبل ہلاک ہونے والے افراد میں سے سات سو پچھتر افراد کی لاشوں کو اجتماعی قبر سے نکال کر شناخت کے بعد دفن کیا گیا۔
امریکی صدر کے بیان میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس علاقے کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کو تسلیم کیا گیا اور انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس قتل عام کے ذمہ دار ہیں انہیں پکڑا جانا چاہیے۔
سربرنیتزا کو انیس سو نوے کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے خاتمے کے وقت اقوام متحدہ نے محفوظ علاقہ قرار دیا تھا۔ انیس سو بانوے پچانوے کی بوسنیائی جنگ میں ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں نے یہاں پناہ لے تھی۔
بوسنیائی سرب فوج نے معمولی ہتھیاروں سے لیس ہالینڈ کے فوجیوں پر مشتمل اقوام متحدہ کی سربرنیتزا میں تعینات فوج سے کنٹرول چھین لیا تھا۔
سربرنیتزا میں بوسنیائی سرب فوجیوں نے سات ہزار سے زیادہ مسلمان مردوں اور لڑکوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس قتل عام کو یورپ میں جنگ عظیم دوئم کے بعد سب سے بڑا تشدد کا واقعہ بھی کہا جاتا ہے۔
اجتماعی تدفین کے موقع پر سابق یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد بننے والی تمام نئی ریاستوں کے صدور موجود تھے۔ امریکی صدر نے کہا کہ انصاف کے بغیر دیر پا امن ممکن نہیں۔
سربیا کے صدر بورس تادچ نےبھی اس تقریب میں شریک کی جسے بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ برسوں تک بلغراد اس بات سے انکار کرتا رہا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا تھا لیکن مارچ میں سربیا کی پارلیمان نے ایک تاریخی قرارداد میں اس قتل عام پر معافی مانگی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بلغراد کو ایسا واقعہ ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ اقدامات کرنے چاہیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سربیا کے صدر نے کہا کہ ان کی حکومت اس مفرور سابق جنرل کو پکڑنے میں پوری مدد کرے گی جنہیں اس قتل عام کا ذمہ دار ٹھرایا جاتا ہے۔ سابق بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادچ پندرہ برس سے روپوش ہیں اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ سربیا ہی میں موجود ہیں۔







