چرچ کا ایک اور تنازع

عیسائیوں کے روحانی پیشوا پاپ بینڈکٹ کے ذاتی مبلغ نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مسئلہ پر چرچ پر ہونے والی تنقید کا یہودیوں کے ساتھ ہونے والے اجتماعی تشدد سے موازنہ کیا ہے۔

ریو رینیرو کینٹالامیسا ’گڈ فرائڈے‘ کے موقع پر روم میں سینٹ پیٹر بیسلیکا میں پاپ کی موجودگی میں تقریر کر رہے تھے۔

اپنے خطبے میں انھوں نے ایک یہودی دوست کے خط کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے کہا تھا چرچ پر ہونے والی تنقید نے انھیں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کی یاد دلا دی۔

عیسائیوں کے فرقے اینگلیکن کی عالمی برادری کے سربراہ بشپ آف کینٹر بری ڈاکٹر رون ولیمز نے کہا ہے کہ آئرلینڈ میں رومن کیتھولک چرچ اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ولیمز نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے الزامات کی وجہ سے چرچ کے ارکان کا عوامی اجتماعات میں جانا مشکل ہو گیا ہے۔

تاہم جرمنی میں یہودی کی مرکزی کونسل نے ریو رینیرو کے بیان کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

امریکہ میں ایک گروہ نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

ویٹیکن نے ریو رینیرو کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویٹیکن کے سرکاری موقف کی نمائندگی نہیں کرتا۔

رومن کیتھولک چرچ کو جرمنی میں ایک پادری کی طرف سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

پوپ پر الزام ہے کہ وہ میونخ میں آرچ بشپ کی حیثیت سے اُس پادری کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے تھے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جب وہ ویٹیکن میں اس شعبے کے سربراہ تھے جو جنسی زیادتی کے الزامات کی تحقیقات کا مجاز ہے انھوں نے امریکہ میں ایک پادری کی جانب سے دو سو بہرے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات کی چھان بین نہیں کی تھی۔