یورپ پر اسلام کا غلبہ؟

حال ہی میں یو ٹیوب پر آنے والے چند عشروں میں براعظم یورپ میں اسلام کے اثر و نفوذ کے حوالے سے ایک ویڈیو بہت مقبول ہوئی۔ اس ویڈیو کو ایک کروڑ سے زائد ناظرین نے دیکھا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جو کچھ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے آپ اس پر یقین کرتے ہیں یا نہیں۔
’مسلم ڈیموگرافکس‘ کے نام سے جاری کی جانے والی اس ساڑھے سات منٹ کی ویڈیو میں چمکدار تصاویر اور ڈرامائی موسیقی کی مدد سے کچھ حیران کن دعوے کیے گئے ہیں جن کے مطابق یورپ میں آنے والے چند عشروں میں اسلام اکثریتی آبادی کا مذہب ہوگا۔ اس ویڈیو کے مطابق گزشتہ بیس برس کے دوران یورپ کی آبادی میں ہونے والے اضافے میں سے نوے فیصد مسلمان تارکینِ وطن کی اس براعظم میں سکونت اختیار کرنے کی وجہ سے ہوا۔
اس ویڈیو کے مطابق فرانس کی بیس سال یا اس سے کم عمر کی تیس فیصد آبادی مسلمان ہے اور مسلمان خاندانوں میں شرحِ پیدائش میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے فرانس آنے والے انتالیس برس میں اسلامی جمہوریہ بن جائے گا۔ ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں اسّی کے عشرے کے آغاز سے اب تک مسلم آبادی میں تیس گنا اضافہ ہوا ہے۔
پر سوال یہ ہے کہ کیا اس ویڈیو میں دیے جانے والے اعدادوشمار درست ہیں؟
ویڈیو میں کیا جانے والا یہ دعوٰی کہ یورپ میں سنہ انیس سو نوے کے بعد آبادی میں ہونے والے اضافے میں سے نوّے فیصد مسلم تارکینِ وطن کی آمد کی وجہ سے ہوا، کچھ حد تک درست ہے۔ یورپی یونین کے اعدادوشمار کے مطابق بھی آبادی میں اضافے کی اہم وجہ تارکینِ وطن کی آمد ہے لیکن یورپ میں آنے والے تمام تارکینِ وطن مسلمان نہیں تھے۔
ویڈیو میں براعظم کی نسبت انفرادی یورپی ممالک کے بارے میں کیے جانے والے دعوے زیادہ چونکا دینے والے ہیں۔ اس کے مطابق فرانس میں جہاں ایک عام فرانسیسی خاندان میں اوسطاً ایک اعشاریہ آٹھ بچے ہیں وہیں فرانسیسی مسلمانوں میں یہ شرح آٹھ اعشاریہ ایک ہے۔
اب اب دعوؤں کی تصدیق کیسے کی جائے؟ ان معلومات کے لیے کسی ذریعے کا حوالہ نہیں دیا گیا اور فرانسیسی حکومت مذہب کی بنیاد پر اعدادوشمار اکھٹے نہیں کرتی۔ اس لیے یہ جاننا ناممکن ہے کہ فرانس کے مختلف مذہبی گروہوں میں شرحِ پیدائش کیا ہے۔
تاہم اتنی زیادہ شرح پیدائش تو دنیا کے کسی ملک میں نہیں۔ حتٰی کہ الجیریا اور مراکش، وہ دو ملک جہاں سے سب سے زیادہ مسلم تارکینِ وطن فرانس آتے ہیں، وہاں بھی اقوامِ متحدہ کے سنہ 2008 کے اعدادوشمار کے مطابق شرحِ پیدائش دو اعشاریہ تین آٹھ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویڈیو کے مطابق نیدرلینڈ میں پیدا ہونے والے بچوں میں سے نصف مسلمان ہیں اور آنے والے پندرہ برس میں ملک کی نصف آبادی مسلمان ہوگی۔ تاہم ولندیزی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مسلمان نیدرلینڈ کی آبادی کا صرف پانچ فیصد ہیں اور اگر یہ مان لیا جائے کہ ملک میں پیدا ہونے والے نصف بچے مسلمان ہیں، تو اس کے لیے مسلمان عورتوں میں شرحِ پیدائش کو دیگر ولندیزی خواتین سے چودہ گنا زیادہ ہونا ضروری ہے۔
یورپ کی مسلمان آبادی میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن اس تیزی سے نہیں جس کا دعوٰی کیا جا رہا ہے۔
کیا ویڈیو میں کیے گئے دعوے کے مطابق بیلجیئم کی پچیس فیصد آبادی مسلم ہے؟ اس حوالے سے بیلجیئن ادارۂ شماریات سنہ 2008 کی ایک تحقیق پیش کرتا ہے جس کے مطابق مسلم آبادی کل آبادی کا صرف چھ فیصد ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ تیس برس میں برطانیہ میں مسلم آبادی میں تیس گنا اضافہ ہوا ہے۔ اور ان کے اندازوں کے مطابق وہاں مسلمانوں کی آبادی بیاسی ہزار سے پچیس لاکھ تک جا پہنچی ہے۔
اس حوالے سے سنہ 2001 کی مردم شماری کے نتائج کو دیکھا جائے تو انگلینڈ اور ویلز میں مسلمانوں کی تعداد سولہ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یقیناً سنہ 2001 کے بعد برطانیہ میں مسلم آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور اس تعداد کا پچیس لاکھ تک پہنچ جانا ناممکن نہیں تاہم اس کی تصدیق سنہ 2011 کی مردم شماری سے ہی ہو سکے گی۔ تاہم ساؤتھمپٹن یونیورسٹی کے ایک ماہر ڈاکٹر اینڈریو ہنڈ کا کہنا ہے کہ بیاسی ہزار کا ہندسہ حقیقت سے کہیں کم ہے۔ ان کے مطابق ’ اگر آپ سنہ اکیاسی کی مردم شماری کو دیکھیں تو اس میں مذہبی عقائد کے حوالے سے کوئی سوال شامل نہیں تھا لیکن اگر سنہ اکیاسی میں صرف پاکستان اور بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والے برطانوی مسلمانوں کو ہی گنیں تو یہ تعداد تین لاکھ کے قریب بنتی ہے‘۔
اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آبادی میں اضافے کی جس شرح کا ویڈیو میں ذکر کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں۔
تاہم ویڈیو میں صرف اعدادوشمار کی ہی بات نہیں کی گئی۔ اس میں جرمنی کا ایک سرکاری بیان بھی شامل ہے جس کے مطابق ’جرمن آبادی میں کمی کو روکا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک نیچے جانے والا سلسلہ ہے جس کی واپسی کا امکان نہیں اور یہ سنہ 2050 تک ایک اسلامی ریاست ہوگا‘۔
یہ بیان جرمنی کے وفاقی شماریات دفتر کے اس وقت کے نائب صدر اور یورپی یونین کے چیف شماریاتی افسر والٹر ریڈرمیکر نے جاری کیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ جرمنی کی آبادی میں کمی کا رجحان ہے تاہم ان کے مطابق بیان کا آخری حصہ بعد میں شامل کیا گیا ہے اور انہوں نے جرمنی کے مسلم ریاست بننے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔
والٹر ریڈرمیکر کے مطابق ’ ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس کے حوالے سے یہ کہا جا سکے کہ جرمن حکومت نے ایسی کوئی بات کی ہے‘۔ ویڈیو میں یہ دعوٰی بھی کیا گیا ہے کہ جرمن حکومت کا ماننا ہے کہ یورپ میں مسلمانوں کی تعداد دوگنا ہو کر ایک سو چار ملین ہو جائے گی۔
اس حوالے سے والٹر ریڈر میکر کا کہنا ہے کہ ’یہ سچ نہیں ہے۔ جرمن حکومت نہیں مانتی کہ آنے والے چالیس سے پچاس برس میں مسلم آبادی دوگنی ہو جائےگی۔ اس اندازے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں ہے‘۔
آبادی میں اضافہ ایک ایسی چیز ہے جس میں کچھ حتمی نہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ سنہ 2050 تک یورپ میں یا کہیں اور کتنے مسلمان رہ رہے ہوں گے۔ حالیہ رجحان کو دیکھا جائے تو یہ بات صحیح ہے کہ سنہ 2050 میں یورپ میں مسلم آبادی کا تناسب آج کے مقابلے میں زیادہ ہو گا لیکن اتنا زیادہ بھی نہیں جتنا کہ اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے۔
لیکن یہاں ایک بڑا اندازہ تارکینِ وطن کی تعداد اور شرحِ آبادی میں اضافے کے حوالے سے لگایا گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ تارکینِ وطن میں آبادی میں اضافے کی شرح زیادہ ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شرح عام آبادی کے برابر آ جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مسلم تارکینِ وطن میں ایسا نہ ہو لیکن یہ بات بھی حتمی نہیں لہذٰا بقول ڈاکٹر ہنڈ مستقبل کی پیشین گوئی بہت مشکل ہے۔
تیس کی دہائی میں برطانیہ کی آبادی کے بارے میں جو اندازے لگائے گئے تھے ان کے مطابق اس صدی کے اختتام پر برطانوی آبادی کو دو کروڑ کی حد کو چھونا چاہیے تھا جبکہ آبادی پانچ کروڑ تک جا پہنچی۔ ڈاکٹر ہنڈ کے مطابق اگر آپ چالیس سے پچاس برس بعد کی بات کریں اور غیر یقینی کا عنصر مدِ نظر نہ رکھیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔







