حکمراں ٹوری پارٹی کے ایک حامی کی وارننگ، بریگزٹ پر از سرِ نو غور کے بنا برطانیہ تباہ ہے

،تصویر کا ذریعہGUY HANDS
برطانیہ میں طویل عرصے سے ٹوری (کنزرویٹیو) پارٹی کے ایک حامی نے خبردار کیا ہے کہ جس انداز سے ملک کو یورپی یونین سے نکالنے کے لیے مذاکرات کیے گئے تھے اس کی وجہ سے برطانیہ ’برباد‘ اور ’یورپ کا بیمار آدمی‘ ہے۔
گائے ہینڈز نے، جو نجی ایکویٹی فرم ٹیرا فرما چلاتے ہیں اور بریگزٹ (یورپی یونین سے برطانوی انخلا) کے مخالف رہے ہیں، خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو بہت زیادہ ٹیکسوں، عام آدمی کے لیے نچلی منفعت جیسے مسائل کا سامنا ہے اور اسے مالی امداد کے لیے ممکنہ طور پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑ سکتا ہے۔
انھوں نے ان خیالات کا اظہار ایسے وقت میں کیا ہے جب منی بجٹ کی وجہ سے ملک ہنگامہ خیز دور سے گزر رہا ہے۔
تاہم ہینڈز کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو درپیش مسائل اس سے کہیں پرانے ہیں۔
بی بی سی کے ٹو ڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’سچ یہ ہے کہ جب انھوں نے بریگزٹ کیا تو ان کے پاس ایک خواب تھا۔ اور یہ خواب تھا کم ٹیکس اور کم منفعت کی معیشت۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سبکدوش ہونے والی وزیر اعظم لِز ٹرس نے ان پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی، مگر وہ چلی نہیں۔‘
ہینڈز کا کہنا تھا، ’ایک بار آپ یہ مان لیں کہ حقیقت میں آپ ایسا نہیں کر سکتے، تو پھر بریگزٹ کا قطعی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہے، اور اس کی وجہ سے تباہ کن معاشی حالت سے دو چار ہو جائے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس لیے میرا خیال ہے کہ اگر ٹوری پارٹی اپنی غلطی کو نہیں مانتی اور جس طرح اس نے بریگزٹ سے متعلق مذاکرات کیے ہیں، اور ان میں کوئی ایسا شخص سامنے آ جاتا ہے جس کے پاس بریگزٹ کے بارے میں بات چیت کرنے کی اہلیت اور اختیار ہو، تو معیشت کو صحیح راستے پر لایا جا سکتا ہے، مگر اس کے بغیر صاف بات یہ ہے کہ معیشت تباہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی نظر میں کنزرویٹیو پارٹی ملک چلانے کی اہل نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا، ’میرے خیال میں اسے اندرونی چپقلشوں کو پیچھے چھوڑنا ہو گا اور اپنی توجہ معیشت کو بہتر بنانے پر مرکوز کرنا ہوگی، اور پچھلے چھ سال میں کی گئی اپنی بعض غلطیوں کو قبول کرنا ہوگا، جن کی وجہ سے یہ ملک یورپ کا بیمار آدمی بننے والا ہے۔‘
حکومت سے ردعمل کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
23 سمتبر کو پیش کیے گئے منی بجٹ کو مالی منڈیوں میں ہلچل پیدا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔
اس اعلان کے بعد ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر میں ریکارڈ کمی آئی اور سرکاری قرضوں کی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا، اس بجٹ میں ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کمی کو کیسے پورا کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے پر نکتہ چینی کی تھی، اور خبردار کیا تھا کہ ان اقدامات کی وجہ سے روز مرہ اخراجات میں بحران پیدا ہو جائے گا۔
گزشتہ ہفتے نئے وزیر خزانہ جیریمی ہنٹ نے زیادہ تر منی بجٹ واپس لے لیا تھا، جس کا آئی ایم ایف نے خیر مقدم کیا تھا۔
پیر کے روز جب سابق وزیر اعظم بورس جانسن نے ٹوری پارٹی کی قیادت کی دوڑ سے نکل جانے کا اعلان کیا تو ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر میں بہتری اور سرکاری قرضوں کی لاگت نیچے آئی۔
اس اعلان کے بعد رِشی سونک کے لیے برطانیہ کا نیا وزیر اعظم بننے کی راہ بالکل ہموار ہو گئی ہے۔
ہینڈز کا کہنا ہے کہ معیشت کو صحیح راستے پر لانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بزنس پرنس کی حیثیت میں وہ سرمایا کاری کے بارے میں مثبت رویہ اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر بقول ان کے ملک کو ’بڑھتی ہوئی غربت کا سامنا ہے، ایک ایسی غربت جو درمیانی آمدنی والے طبقے کو بھی لپیٹ میں لے رہی ہے اور اسے گھر خریدنے کے لیے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں مشکل پیش آ رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ہی صورتحال رہی تو ملک کو مدد کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے پڑے گا۔











