مہنگائی: تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور موسمیاتی اثرات، دنیا بھر میں قیمتیں بڑھنے کی سات وجوہات کیا ہیں؟

Woman shopping for fresh groceries in supermarket. She is shopping with a cotton mesh eco bag.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, بیتھ ٹممنز اور ڈینئیل تھومس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

کھانے پینے کی اشیا سے لے کر ہمارے گھروں کو گرم رکھنے کے لیے ایندھن تک، نہ صرف برطانیہ بلکہ دنیا بھر میں زندگی گزارنے کی ہر چیز تیزی سے مہنگی ہو رہی ہے۔

سنہ 2018 سے عالمی افراط زر یعنی قیمتوں میں اضافے کی شرح ریکارڈ سطح پر ہے۔ اور اس کی کچھ وجوہات ہیں:

1.توانائی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

Hand filling a car with petrol

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کووڈ کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد سے مانگ میں تیزی آئی ہے اور قیمت سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

امریکہ میں اس وقت پٹرول کی اوسطاً قیمت 3.31 ڈالر فی گیلن ہے جو ایک سال پہلے 2.39 ڈالر فی گیلن تھی۔ برطانیہ اور یورپی یونین میں بھی یہی حال ہے۔

گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، گھروں کو گرم رکھنے کا بل بھی بہت زیادہ آ رہا ہے۔

ایشیا سے بھی مانگ میں اضافے سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ سال یورپ میں شدید سردی سے بھی گیس کے ذخائر کافی کم ہو گئے۔

2. سامان کی قلت

Nike shoes on display in the company's store on 5th Avenue, New York

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننائیکی اور دیگر کمپنیوں نے سپلائی چین پر اٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں

کووڈ 19 کے وبائی مرض کے دوران روزمرہ استعمال کی بہت سی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

گذشتہ برس لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں پھنسے افراد جو ریستوران یا چھٹیوں پر کہیں نہیں جا سکتے تھے، انھوں نے گھریلو استعمال اور مرمت کا کافی سامان خریدا۔

ایشیا میں بہت سے صنعتکاروں کو کووڈ پابندیوں کی وجہ سے کاروبار بند کرنا پڑا اور اب وہ بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں پلاسٹک، کنکریٹ اور سٹیل جیسے مواد کی قلت ہوئی، جس سے قیمتیں بڑھ گئیں۔ 2021 میں برطانیہ میں لکڑی کی قیمت معمول سے 80 فیصد زیادہ ہے اور امریکہ میں یہ قیمت دگنی ہو چکی ہے۔

امریکہ کے بڑی کمپنیوں نائیکی اور کاسٹکو نے سپلائی چین پر اٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔

اس کے علاوہ مائیکرو چپس کی بھی کمی ہے، جو کاروں، کمپیوٹرز اور دیگر گھریلو سامان کے لیے ایک اہم جز ہے۔

3. ترسیل پر اٹھنے والے اخراجات

Aerial view of shipping container at dock

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دنیا بھر میں سامان کی آمد و رفت والی عالمی شپنگ کمپنیاں، وبا کے بعد ایک دم بڑھنے والی مانگ پوری کرنے کے لیے مشکلات میں ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اشیا بیچنے والی کمپنیوں کو سامان اپنے سٹوروں تک پہنچانے کے لیے بہت زیادہ ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ نتیجتاً قیمتیں بڑھ گئیں جس کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا ہے۔

ایشیا سے یورپ تک 40 فٹ کا ایک کنٹینر بھیجنے کی لاگت اس وقت 17000 ڈالر یا 12480 پاؤنڈ ہے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہے۔ سال پہلے یہ قیمت 1500 ڈالر یا 1101 پاؤنڈ تھی۔

اس کے ساتھ ہی فضائی ذرائع سے سامان بھیجنے کی فیس میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یورپ میں لاری ڈرائیوروں کی کمی نے بھی حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

دسمبر میں امریکہ کی بندرگاہوں پر ریکارڈ سطح پر کنٹینروں کی آمد و رفت دیکھی گئی اور ساتھ ہی ان کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں کم تو ہوئی مگر اومیکرون اور مستقبل میں کسی نئے ویرئینٹ کی آمد حالات کو پیچھے کی جانب موڑ سکتی ہے۔

4. اجرتوں میں اضافہ

وبائی مرض کے دوران بہت سے لوگوں کا کام چھوٹ گیا یا انھوں نے ملازمتیں بدل لیں۔

امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف لیبر کے مطابق امریکہ میں اپریل میں چالیس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اپنی ملازمتیں چھوڑی ہیں جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

نتیجتاً کمپنیوں کو ڈرائیوروں، فوڈ پروسیسرز اور ریستوران میں کام کرنے کے لیے ویٹروں جیسے عملے کی بھرتی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکہ کی 50 بڑی امریکی کمپنیوں کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ 94 فیصد کو نوکری چھوڑ جانے والے ملازمین کی جگہ دوسرے افراد بھرتی کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

An Amazon worker at the company's Orlando, Florida, warehouse

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جس کی وجہ سے کمپنیاں ملازمین کو متوجہ کرنے اور نوکری پر برقرار رکھنے کے لیے اجرت بڑھا رہی ہیں یا نوکری جوائن کرنے کے لیے سائن اپ بونس کی پیشکش کرنے پر مجبور ہیں۔ میک ڈانلڈ اور ایمیزون جیسی کمپنیاں 200 سے 1000 ڈالر تک کے ہائرنگ بونس کی پیشکش کر رہی ہیں۔

اس اضافی اجرت کے اخراجات کا بوجھ بھی صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔ کپڑوں کے عالمی برانڈ نیکسٹ نے 2022 میں قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا ذمہ دار ملازمین کی اجرت میں اضافے کو ٹھہرایا ہے۔

5. موسمیاتی اثرات

دنیا کے کئی حصوں میں موسم کی شدت نے بھی افراط زر میں اضافہ کیا ہے۔

خلیج میکسیکو سے گزرنے والے سمندری طوفان آئیڈا اور نکولس سے تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہوئی اور امریکہ میں تیل کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

اور گذشتہ برس ٹیکساس میں موسم سرما میں آنے والے شدید طوفان کے باعث بڑے کارخانے بند ہوئے جس سے مائیکرو چپس کی بڑھتی مانگ مزید متاثر ہوئی۔

کافی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا جس کی وجہ برازیل میں صدی کی تقریباً شدید ترین خشک سالی کے بعد وہاں فصل کی پیداوار میں کمی ہے۔ یاد رہے برازیل دنیا میں کافی برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

Texas power lines

،تصویر کا ذریعہGetty Images

6. تجارت میں رکاوٹیں

زیادہ مہنگی درآمدات بھی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ بریگزٹ کے بعد کے نئے تجارتی قوانین کے باعث سنہ 2021 کی پہلی ششماہی میں یورپی یونین سے برطانیہ درآمدات میں تقریباً ایک چوتھائی تک کمی آئی ہے۔

اس سال برطانیہ سے یورپ جانے والے بہت سے مسافروں پر رومنگ چارجز پھر سے لاگو ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس کے علاوہ چینی سے امریکہ درآمد ہونے والی اشیا پر آنے والے محصولات تقریباً سارے کے سارے امریکی صارفین کو ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے نے گذشتہ سال کہا تھا کہ 2019 میں امریکہ کی جانب سے کمپنی پر لگائی گئی پابندیاں امریکی سپلائرز اور عالمی صارفین کو متاثر کر رہی ہیں۔

7. وبا کے دوران ملنے والی مدد کا خاتمہ

Money changing hands at Walthamstow market, November 2021

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دنیا بھر کی حکومتوں نے وبا کے آغاز میں کاروباروں کو کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے میں جو مدد اور تعاون فراہم کیا تھا، اسے ختم کیا جا رہا ہے۔

وبائی مرض کے دوران پوری دنیا میں اخراجات اور قرض لینے میں اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ سے ٹیکس میں اضافہ ہوا جس نے روزمرہ زندگی کے اخراجات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن زیادہ تر لوگوں کی اجرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

بہت سارے ترقی یافتہ ممالک میں شہریوں کی حفاظت کے لیے فرلو جیسی پالیسیاں بنائی گئی ہیں، اس کے علاوہ کم آمدن والے افراد کے لیے فلاحی پالیسیاں بھی بنی ہیں۔

کچھ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ وبا کے دوران ملنے والی امداد کے خاتمے سے یہ پالیسیاں مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔