فضا میں اڑنے والا ٹینک جو جنگ کا تصور تبدیل کر سکتا تھا

فضا میں اڑنے والا ٹینک

،تصویر کا ذریعہPUBLIC DOMAIN

    • مصنف, سٹیفن ڈاؤلنگ
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

پہلی جنگ عظیم کے بعد ہونے والی تبدیلیوں نے جنگ کے روایتی تصور کو بدل دیا تھا۔

اس جنگ میں یورپ کا محاذ خندقوں کا ایک وسیع سلسلہ بن گیا تھا جہاں تھوڑی سی زمین پر قبضے کے لیے حملوں میں ہزاروں سپاہی مر جاتے تھے۔ خاردار تاروں، توپ خانے اور مشین گن کی وجہ سے پیش قدمی کرنا نہایت جان لیوا تھا۔ اس جمود کو سنہ 1917 میں ٹینک کی ایجاد نے ختم کیا جنھوں نے باآسانی خاردار تاروں کی رکاوٹ کو عبور کیا۔ ان پر مشین گن کا بھی زیادہ اثر نہیں ہوتا تھا۔

اس نئے جنگی تصور کو قدیم زمانے میں برق رفتار گھڑسواروں یا رسالہ فوج سے ملایا گیا جب وسیع و عریض علاقے پر قلیل مدت میں قبضہ کرنا ممکن ہوتا تھا۔ ایک اور ہتھیار کی ایجاد نے جنگ کو اور تبدیل کر دیا۔ یہ جنگی ہوائی جہاز تھے جو ایک ہی دن میں میلوں کا سفر کر سکتے تھے، جو چند دہائیوں قبل ممکن نہیں تھا۔

سنہ 1930 میں متعد فوجوں نے سوچنا شروع کیا کہ کسی علاقے میں پھنسے ہوئے فوجی دستوں تک بکتر بند امداد یعنی ٹینک کس طرح پہنچائے جا سکتے ہیں۔ اس کا ایک طریقہ بڑے بمبار ہوائی جہاز کے ذریعے چھوٹے ٹینک پہنچانا تھا۔

اس خیال کے تحت چند تجربے بھی ہوئے خصوصاً سوویت یونین میں۔ ایک طریقہ یہ اپنایا گیا کہ چھوٹے حجم اور ہلکے وزن کے ٹینک کو ہوائی جہاز کے پروں کے نیچے باندھ کر اتار دیا جاتا۔ تکنیکی اعتبار سے یہ ممکن تو تھا لیکن اس میں ایک مسئلہ درپیش تھا۔ ہوائی جہاز کی لینڈنگ کے لیے اتنی جگہ بھی موجود ہونا ضروری تھا۔

ایسے میں ایک اور خیال پیش کیا گیا۔ جہاز کو اترنے کی کیا ضرورت ہے جب ٹینک خود اتر سکتا ہے؟ پھر گلائیڈر ٹینک کا خیال آیا۔

20ویں صدی کے آغاز میں گلائیڈر کی تیاری عسکری ضروریات کے تحت ہی ہوئی تھی۔ جرمنی، سوویت یونین، برطانیہ اور امریکہ نے فوجی دستوں اور سامان کی میدان جنگ تک رسائی کو ممکن بنانے کے لیے اس پر کافی سرمایہ کاری کی۔

ان گلائیڈرز کو ٹرانسپورٹ طیاروں کے ساتھ باندھ کر لے جایا جاتا تھا اور ہدف کے قریب فضا میں ہی چھوڑ دیا جاتا۔ اگرچہ ان کو لینڈنگ کے لیے جگہ تو درکار ہوتی تھی جس کی وجہ سے ان کا استعمال محدود رہا تاہم دوسری جنگ عظیم میں ان کا کردار نہایت اہم رہا۔

سنہ 1930 تک ٹینک کا حجم کم ہو گیا تھا۔ امریکی انجینیئر والٹر کرسٹی، جنھوں نے ٹینکوں کا بہتر سسپنشن سسٹم ایجاد کیا تھا، نے سب سے پہلے اڑنے والے ٹینک کے تصور کو جانچا۔

ان کے ڈیزائن کے تحت ٹینک کے ساتھ ایک دم اور جہاز کے پر لگائے جاتے اور اسے پروپیلر کی مدد سے اڑایا جاتا۔ ان کے مطابق ایسے ٹینک فضا میں 330 فٹ تک بلندی پر جانے کے قابل ہو جاتا اور پھر اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہدف کی جانب جا سکتا تھا۔

ٹی-60 ٹینک

،تصویر کا ذریعہSergey Ryzhov/Getty Images

،تصویر کا کیپشنٹی-60 ٹینک

1932 میں ’پاپولر مکینکس‘ میں کرسٹی نے کہا کہ ’اڑنے والے ٹینک کے پائلٹ کو کسی طیارے کی طرح لینڈنگ کے لیے ہموار زمین بھی درکار نہ ہوتی۔ وہ کیچڑ یا نا ہموار زمین سے بھی اڑ سکتا جہاں عام طیارہ مشکل کا شکار ہو سکتا ہے۔‘

تاہم امریکی فوج کو اس خیال پر اتنا یقین نہیں تھا اور اس اڑنے والے ٹینک کا مزید پیچھا نہیں کیا گیا۔ تاہم چند سال بعد سوویت یونین میں ایک اڑنے والے ٹینک کا تصور کاغذ سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار گیا۔

اولیگ اینٹونوو بچپن سے ہی ہوابازی سے متاثر تھے۔ نوجوانی میں ہی انھوں نے ایک گلائیڈر کا ڈیزائن تیار کر لیا تھا۔ اس شوق میں وہ ماسکو کی گلائیڈر فیکٹری کے چیف ڈیزائنر کے عہدے تک پہنچ گئے جہاں انھوں نے تیس سے زیادہ گلائیڈر ڈیزائن کیے۔

سوویت عسکری منصوبہ ساز یہ سمجھ چکے تھے کہ چھاتہ بردار فوجی دستوں کو محصور علاقے میں بھاری بھرکم ہتھیاروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پیرا شوٹ کے ذریعے ٹینک پہنچانے کا منصوبہ بھی مشکلات سے بھرپور تھا۔

برطانیہ کے بوونگٹن ٹینک میوزیم کے سٹورٹ ولیم کا کہنا ہے کہ ’سوویت یونین نے متعدد پیراشوٹ کے ذریعے گاڑیاں اتارنے کے خیال پر بھی کام کیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان گاڑیوں کا عملہ بھی پیرا شوٹ کے ذریعے اتارا جانا تھا جو میلوں دور لینڈ کر سکتا تھا۔‘

گلائیڈر کا ڈیزائن

،تصویر کا ذریعہKaboldy/CC BY-SA 3.0

،تصویر کا کیپشنگلائیڈر کا ڈیزائن

سوویت یونین پر جرمنی کے حملے سے ایک سال قبل، 1940 میں، اینٹونوو کو ایک ایسے گلائیڈر کا ڈیزائن تیار کرنے کے لیے کہا گیا جو چھوٹے ٹینک پہنچا سکے۔ وہ کرسٹی کا ڈیزائن دیکھ چکے تھے اور انھوں نے ایک اڑنے والے ٹینک اے-40 پر کام شروع کر دیا۔

اس کے پروٹو ٹائپ کے لیے ٹی-60 ٹینک استعمال کیا گیا جو میدان جنگ میں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہونے والا چھوٹا اور برق رفتار ٹینک تھا۔

اس ٹینک پر ایک دم اور جہاز کے پر نصب کیے گئے جو ایک بہترین ڈیزائن سے کہیں دور تھا۔ تاہم اس کا فائدہ یہ تھا کہ جہاز کی مدد سے اس کو دشمن کی گولہ باری سے بچتے ہوئے دور سے ہی چھوڑا جا سکتا تھا۔

اے-40 کا ماڈل، جو چند سال قبل ایک میوزیم میں بنایا گیا، اس کا غیر معمولی ڈیزائن واضح کرتا ہے۔

صحافی جم ونچسٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ صرف چھ ٹن وزنی ٹینک تھا لیکن اس کے پر کسی چھوٹے بمبار طیارے جتنے لمبے تھے جو ٹینک کو فضا میں بلند رکھنے کے لیے ضروری تھے۔

یہ ڈیزائن جرمنی کے حملے کے بعد بھی کافی مدت کاغذ تک محدود رہا۔ اب اسے عملی جامہ پہنانے کی مشکلات کا اندازہ ہو رہا تھا۔ دو ستمبر 1942 کو پائلٹ سرگئی انوخن نے ایک ٹینک کے کنٹرول سنبھالے جو ایک رسی کے ذریعے بمبار طیارے سے جڑا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ونچسٹر بتاتے ہیں کہ اس ٹیسٹ کے لیے ایمونیشن اور زیادہ تر ایندھن نکالنا پڑا تاکہ وزن کم رکھا جا سکے۔ ٹینک کا اوپر والا حصہ بھی نکالنا پڑا۔

بمبار طیارہ ٹینک کے ساتھ فضا میں بلند تو ہو گیا لیکن اسے جلد ہی اس سے پیچھا چھڑانا پڑا کہ کہیں طیارہ ٹینک کی وجہ سے پیدا ہونے والے ہوا کے دباؤ سے کریش نہ کر جائے۔ تاہم انوخن نے ٹینک کو کامیابی سے زمین پر اتار لیا جس کے بعد انھوں نے پر اور دم الگ کی اور ٹینک کو چلا کر واپس لے آئے۔

یہ تصور درست ثابت ہوا لیکن اس کے باوجود یہ اس اڑنے والے ٹینک کی پہلی اور آخری پرواز تھی کیوں کہ بھاری بھرکم ٹینک کو اڑانے میں درپیش مشکلات پیچیدہ ثابت ہوئی تھیں۔

ونچسٹر کا کہنا ہے کہ ’اسے اڑنے والا ٹینک کہا جاتا ہے لیکن اگر آپ ایسا کہیں تو لوگوں کے ذہن میں ایسا ٹینک آتا ہے جو گولے بھی برسا رہا ہو لیکن ایسا نہیں ہے۔‘

فضا میں اڑنے والے ٹینک کا ماڈل

،تصویر کا ذریعہThe Tank Museum, Bovington

،تصویر کا کیپشنفضا میں اڑنے والے ٹینک کا ماڈل

سوویت منصوبہ ساز چاہتے تھے کہ اسی خیال کو زیادہ بھاری بھرکم اور بہتر ٹی-34 ٹینک کے ساتھ آزمایا جائے۔ لیکن ٹیسٹ فلائٹ سے ثابت ہوا تھا کہ کوئی بھی طیارہ اتنا طاقت ور نہیں ہے کہ وہ ٹینک سمیت فضا میں آسانی سے اڑ سکے۔ 26 ٹن وزنی ٹی-34 تو ٹی-60 سے چار گنا وزنی تھا۔

ایسا ننھا منا ٹینک کسی بڑی لڑائی میں مفید بھی نہ ہوتا۔ ونچسٹر کا کہنا ہے کہ مخصوص حالات میں اس کا محدود استعمال کیا جا سکتا تھا لیکن کسی بڑے محاذ پر نہیں۔

اینٹونوو کا ڈیزائن پھر اڑان نہیں بھر سکا۔ لیکن یہ خیال یہاں ختم نہیں ہوا۔

جاپان بھی کرسٹی کے تصوراتی ڈیزائن سے متاثر ہوا تھا جنھوں نے دوسری جنگ عظیم میں اس کے بارے میں سوچا۔ جاپانی لائٹ ٹینک ’کو رو‘ اسی کام کے لیے بنایا گیا تھا۔ اے-40 کی طرح اسے بھی جہاز کے ساتھ اڑایا جاتا اور ہوا میں ہی چھوڑ دیا جاتا۔

تاہم دو سال بعد اس پراجیکٹ کو منسوخ کر دیا گیا جب جاپان ایک دفاعی جنگ لڑنے میں مصروف ہو چکا تھا۔ امریکہ کی ہر لمحہ بڑھتی فضائی برتری نے سست رفتار طیارے سے ایسے کسی منصوبے پر عمل در آمد ناممکن بنا دیا تھا۔

برطانیہ نے بھی جنگ کے دوران اس تصوراتی ٹینک پر کچھ پیش رفت کی اور ایک ڈیزائن تیار کیا گیا جو اڑا بھی۔ ’بینز بیٹ‘ ایک گلائیڈر ڈیزائن تھا جسے ٹینک کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اے-40 کے مقابلے میں اس پر دو کے بجائے ایک پر نصب کیا جانا تھا۔

بینز بیٹ

،تصویر کا ذریعہ Public Domain

،تصویر کا کیپشنبینز بیٹ

تاہم اس کا پر کافی لمبا تھا، تقریبا 100 فٹ۔ اس کی کوئی دم نہیں تھی۔ لیکن اس کے پروٹو ٹائپ یعنی ٹیسٹ ڈیزائن میں ٹینک استعمال نہیں ہوا۔

اس ٹیسٹ ڈیزائن کے پائلٹ رابرٹ کرون فیلڈ نے بعد میں بیان دیا تھا کہ ’ڈیزائن کے باوجود یہ دیگر گلائیڈرز جیسا ہی تھا جسے اڑانا محفوظ تھا۔‘

تاہم چند سال بعد برطانیہ کے نامور ٹیسٹ پائلٹ ایرک ونکل براون، جنھوں نے تاریخ میں سب سے زیادہ جہاز اڑائے ہیں، اس ڈیزائن سے متاثر نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس کے کنٹرول کارگر نہیں تھے اور لینڈنگ کے لیے موزوں نہیں تھا۔ ایک میڈیم ٹینک کو اس کے ساتھ باندھنے کا خیال ہی دماغ گھما دیتا ہے۔ یہ شاید ایک اچھا خیال تھا لیکن۔۔‘

اس ڈیزائن کا ممکمل ماڈل کبھی تیار نہیں کیا گیا۔ ونچسٹر کا کہنا ہے کہ بینز بیٹ میدان جنگ تک کچھ پہنچانے کا ذریعہ تھا لیکن مسئلہ یہ تھا ان کے پاس پہنچانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔

برطانیہ نے بھی اڑنے والے ٹینک کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس کی جگہ انھوں نے ’ہیملکر‘ نامی ایک بڑا گلائیڈر تیار کیا جو ٹینک لے جا سکتا تھا۔ اسے تیار کرنے کا حکم 1940 میں برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے خود دیا تھا۔

یہ ’ٹیٹرارک‘ نامی ٹینک لے جا سکتا تھا جسے گلائیڈر کے زمین پر اترنے کے بعد دروازے سے باہر نکال لیا جاتا۔ ان کو دوسری جنگ عظیم میں یورپ پر ابتدائی حملے میں استعمال بھی کیا گیا لیکن ان کو بھی وہی مسئلہ درپیش ہوا جو ٹی-60 کے ساتھ پیش آیا تھا۔

ٹیٹرارک ایک ٹینک تو تھا لیکن جرمن ٹینک کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ امریکی ’لوکسٹ‘ ٹینک کو بھی یہی مشکل پیش آئی۔

ٹیٹرارک

،تصویر کا ذریعہSergey Ryzhov/Getty Images

،تصویر کا کیپشنٹیٹرارک

اڑنے والے ٹینک کی واحد پرواز کے 80 سال بعد ونچسٹر کا کہنا ہے اے-40 ایک دلچسپ تصور تھا لیکن یہ بند گلی میں ختم ہوا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑے ہیلی کاپٹرز اور عسکری ٹراسنپورٹ طیاروں کی ایجاد نے اس ضرورت کو ہی ختم کر دیا۔ سرد جنگ کے دوران سویت یونین نے متعدد ایسی گاڑیاں تخلیق کیں جو عملے سمیت پیرا شوٹ کے ذریعے زمین پر اتاری جا سکتی تھیں۔

ان گاڑیوں کو پیرا شوٹ کے ساتھ ایک راکٹ سسٹم کی مدد سے اتارا جاتا جس نے زمین کی جانب گرنے کی رفتار کو کم کرنے میں مدد دی۔

امریکہ میں ایک موقع ایسا آیا جب ایک ٹینک کو میدان جنگ پہنچانا ممکن ہوا۔ ’ایم551 شیریڈن‘ کو لوہے کے کریٹ پر لاد کر طیارے میں رکھا جاتا جس کا پیرا شوٹ طیارے کے اندر رہتے ہوئے ہی کھول دیا جاتا جو کریٹ کو ہوا کے دباؤ سے باہر نکال لیتا۔ تاہم اس کے عملے کو ایک اور جہاز سے پیرا شوٹ کرنا پڑتا۔

پروں والے ٹینک کا تصور تو شاید زمین برد ہو چکا ہے لیکن فضا سے ٹینک کا زمین پر اترنا ممکن ہو گیا۔