یوکرین، روس تنازع: کیا میدان جنگ میں ٹینکوں کی افادیت ختم ہو گئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, بی بی سی سکیورٹی نامہ نگار
روس یوکرین جنگ کے دوران تباہ شدہ روسی ٹینکوں کی تصاویر جن میں ان کے ناکارہ ڈھانچے اور گولے داغنے والے جلے ہوئے دھانوں نے کچھ لوگوں کو یہ سوال پوچھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا جدید ٹینک شکن ہتھیاروں نے میدان جنگ میں روایتی ٹینکوں کا کردار ختم کر دیا ہے؟
بوونگٹم کے ٹینک میوزیم میں دنیا بھر سے حاصل کیے گئے ٹینکوں کی سب سے بڑی کلیکشن موجود ہے۔ اس میوزیم کے منتظم اور انسٹرکٹر ڈیوڈ ویلے کہتے ہیں کہ ’یہ وہ سوال ہے جو ہر مرتبہ جنگ یا جھڑپ میں کسی ٹینک کے تباہ ہونے کے بعد پوچھا جاتا ہے۔ کیونکہ ٹینک کو طاقت کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور جب بھی اسے شکست ہوتی ہے تو لوگ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اب میدانِ جنگ سے ٹینک کا خاتمہ ہو چکا ہے۔‘
اس میوزیم میں ہم نے روسی ساختہ ٹی 72 کے ٹینک کو دیکھا۔ یہ دراصل ویسے ہی ٹینک کا ماڈل ہے جو رواں برس فروری میں سرحد پار سے یوکرین میں داخل ہوئے اور سینکڑوں کی تعداد یوکرینی افواج کے ہاتھوں تباہ ہوئے۔ انھیں یوکرین کے ماہر فوجیوں نے ڈرونز اور جدید ٹینک شکن ہتھیاروں سے نشانہ بنایا تھا۔
ایک ریٹائرڈ امریکی جنرل بین ہوجز کہتے ہیں کہ ’یہاں یہ اہم ہے کہ ہم نے گذشتہ چند ماہ میں جو بھی دیکھا ہے اس سے ہم غلط نتائج اخذ نہ کریں۔‘
بین ہوجز کچھ عرصہ پہلے تک یورپ میں امریکہ کی زمینی فوج کے کمانڈر رہے ہیں۔

برطانوی فوج کے سابق بریگیڈیئر بین بیری بھی اُن کی تائید کرتے ہیں۔ بین بیری اِس وقت انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز میں لینڈ وارفیئر میں سینیئر فیلو ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کی یوکرین میں شکست یہ بتاتی ہے کہ اُس وقت کیا ہوتا ہے جب ٹینکوں کو ایک ایسی فوج غیر ماہرانہ طریقے سے تعینات کرتی ہے جو خود مربوط جنگی طریقوں سے محروم ہو (یعنی ٹینکوں کو انفنٹری، آرٹلری اور لڑاکا طیاروں کی مدد حاصل نہ ہو) اور اُن کی نقل و حرکت بھی کمزور ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک اچھی فوج ٹینکوں سے آگے انفنٹری کو تعینات کرتی ہے تاکہ مخالف فوج کو ٹینکوں کو نشانہ بنائے جانے سے روکا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹینک جدید جنگوں کی معروف علامتوں میں سے ایک ہے، جس کے ناقد اور حامی دونوں موجود ہیں۔
سنہ 2020 میں ناگورنو کاراباخ کی جنگ میں امریکی ٹینکوں کو آذربائیجان نے ترکی کے بنائے ڈرونز کی مدد سے تباہ کر دیا تھا۔
لبیا میں یہی ڈرونز استعمال ہوئے جن کا نام ’ٹی بی ٹو بیراکٹر‘ ہے اور ان کی وجہ سے جنرل ہافتار کی فوجوں کو شدید نقصان ہوا تھا۔ اسی طرح شامی حکومت کے ٹینک بھی ترک ڈرونز کا شکار بنے تھے۔
یوکرین جنگ کے ابتدائی مرحلے میں جدید اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے بھجوائے گئے، اور یہی دارالحکومت کیئو میں روسی بکتر بند گاڑیوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوا۔ ساتھ ہی دوسرے مرحلے میں دونباس میں روسی آرٹلری گیم چینجر ثابت ہوئی جب اس نے تباہ کن فائر پاور کا استعمال کیا تاکہ آہستہ آہستہ آگے کے لیے راستہ بنائے۔
رواں برس میں اب تک روس اندازاً سات سو ٹینک کھو چکا ہے۔ اس میں سے کچھ تباہ ہو گئے اور کچھ کو یونہی چھوڑ دیا گیا۔
اکثر تصاویر میں دیکھا گیا ہے کہ یہ ٹینک ری ایکٹو آرمر میں ڈھکے ہوتے ہیں، جو ایک بڑے مستطیل باکس کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ جیسے ہی میزائل ٹینک کو نشانہ بناتا ہے یہ ایک دھماکے سے اڑتا ہے تاکہ ٹینک پر میزائل کے اثرات اور شدت کو کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے
مگر مغرب کی جانب سے فراہم کردہ ڈرونز اور ٹینک شکن میزائل ان کے گرد جا کر ان کو خاص طور پر اوپر سے نشانہ بناتے ہیں جہاں ان ٹینک کی تہہ ذرا پتلی ہوتی ہے۔
بریگیڈیئر بیرے کا کہنا ہے کہ ’یہ جنگ ڈرون کی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ آپ کو دفاع کے لیے ڈرونز کی ضرورت ہے تاکہ آپ دشمن کے ڈرونز کو خود سے دور رکھ سکیں۔ آپ کو نچلی سطح پر ایئر ڈیفنس کی ضرورت ہوتی ہے جس میں لیزر اور الیکٹرانک جیمنگ شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسی چیز جو شاید ٹینکوں کا مستقبل مزید کچھ عرصے کے لیے طویل کر دے وہ ایکٹو پروٹیکشن سسٹم (اے پی ایس) ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس کی مدد سے آپ ٹینک کی جانب آنے والی کسی بھی چیز کو، اس سے پہلے کہ وہ آپ کو نشانہ بنائے، تباہ کر سکتے ہیں۔
بوونگٹنز کے ڈیوڈ ویلی بتاتے ہیں کہ اے پی ایس کی دو قسمیں ہیں: سافٹ کِل اور ہارڈ کِل۔
ان کا کہنا ہے کہ سافٹ کِل کا مطلب ہے برقی مقناطیسی شعاعوں کا استعمال جو آنے والے میزائل میں خلل پیدا کر سکتی ہیں، اور ہارڈ کِل کا مطلب ہے آپ کی جانب آنے والی چیز پر فائر کرکے اسے راستے میں تباہ کرنا۔
جیسا کہ اکثر ہوتا، اسرائیلی فوج نے اس پر بہت زیادہ تحقیق کی ہے خاص طور پر تب سے جب سنہ 2006 میں ان کے ٹینکوں نے حزب اللہ کی بارودی سرنگوں کو ناکام بنایا اور بڑی مہارت سے جنوبی لبنان میں اینٹی ٹینک میزائل نصب کیے۔
انھوں نے حفاظت کے لیے ایک متحرک سسٹم بنایا ہے، جسے ٹرافی کہتے ہیں۔ یہ ریڈار کو استعمال کرتے ہوئے آنے والے خطرات جیسا کہ میزائل یا ڈرونز کا پتہ لگاتے ہیں۔ اور گھومنے والے لاچنر سے ان پر فائر کیا جاتا ہے جو اس چیز (ڈرون یا میزائل) کے ٹینک تک پہنچنے سے پہلے اسے بے اثر کر دیتا ہے۔
ٹرافی نامی یہ سسٹم یا اس جیسی کوئی قسم جدید مغربی ٹینکوں کے لیے ممکنہ طور پر ایک معیار بنے گا۔
جنرل ہوجز کہتے ہیں کہ ڈرون شکن ہتھیاروں میں جدت ڈرونز کی اس جنگی افادیت کو کم کر دے گی جس کی بنا پر وہ اس وقت جنگ کے میدان میں آسان اہداف کی تلاش میں گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تو پھر کیا ٹینکوں کا کوئی مسقتبل ہے؟ یا پھر کسی کی وہ پیش گوئی درست ثابت ہو گی جس میں کہا گیا ہے کہ ٹینکوں کے نصیب میں کباڑ خانہ ہی ہے۔
جنرل ہوجز کہتے ہیں کہ ٹینکوں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ وہ مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب بغیر فوجویوں کے ریموٹ کنٹرول سے چلائے جانے والے ٹینک میدان میں ہوں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں انفنٹری میں سپاہی تھا اور میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ میں کسی بھی علاقے میں کسی ایسی جنگ کا حصہ بنوں جہاں موبائل فائر پاور (ٹینک) نہ ہو۔‘
جسٹن کرمپ برطانوی فوج میں ٹینک کمانڈر رہ چکے ہیں اور اب ڈیفنس انٹیلیجنس سے متعلق سیبائلین نامی فرم میں چیف ایگزیکٹو افسر ہیں۔ وہ اس بات سے متفق ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹینکوں میں فائر کرنے کی، نقل و حرکت کی اور مشکل صورتحال سے نمٹنے کی اہلیت ہے جو انفنٹری میں نہیں ہوتی۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں لچک ہے یعنی دن و رات کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ اپنے ہدف تک پہنچتا ہے اور دشمن کو حیرت زدہ کر دیتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ٹینک اہم نہ ہوتے تو یوکرین اپنی ٹینک فورس دوبارہ نہ بنا رہا ہوتا ہے۔ انھوں نے برطانیہ سے دو گنا زیادہ ٹینکوں کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈیوڈ ویلی کا، جو کہ برطانوی فوج میں انسٹرکٹر ہیں اور حال ہی میں یوکرین کے سپاہیوں سے بھی ملے ہیں، کہنا ہے کہ ’بات ٹینک کی نہیں ہوتی بلکہ اسے چلانے والے کی ہوتی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ضروری نہیں کہ آپ کے پاس سب سے مہنگی کٹ ہے تو جیت لازماً آپ کی ہی ہو گی۔ اپنے مقصد پر یقین رکھنا اہم ہے اور یوکرینی اپنے مقصد پر یقین رکھتے ہیں۔‘












