پیرس: 12 سالہ طالبہ کا قتل جس کی وجہ سے لوگ سکتے میں ہیں

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
پیرس کے شہری 12 برس کی ایک طالبہ کے دل دہلا دینے والے قتل پر سکتے میں ہیں۔ اس لڑکی کی لاش جمعے کو اس کے اپارٹمنٹ کی عمارت کے صحن میں ایک کنٹینر سے ملی تھی۔
لولا نامی اس لڑکی نے معمول کے مطابق اپنا دن سکول میں گزارا تھا لیکن ان کے والد کو اس وقت فکر لاحق ہوگئی تھی جب وہ دوپہر کو گھر واپس نہ لوٹیں۔
لولا کی لاش کنٹینر کے اندر سے ملی تھی اور اسے کسی چیز سے ڈھک دیا گیا تھا۔ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور مبینہ طور پر گردن پر زخم تھے، جبکہ پوسٹ مارٹم سے پتا چلا ہے کہ لولا کی موت دم گھٹنے سے ہوئی تھی۔
سنیچر کی صبح پولیس نے قتل کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم الجزائری نژاد ایک 24 سالہ عورت ہے جس کا نام میڈیا میں دہبیا بی بتایا گیا ہے۔
ملزمہ کی شناخت اپارٹمنٹ کی عمارت میں لگے سکیورٹی کیمرے کی ویڈیو سے ہوئی ہے، جس میں اسے لولا کے ساتھ جمعے کی سہ پہر مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
بعد میں اس عورت کو کنٹینر رکھ کر عمارت سے نکلتے ہوئے اور پھر سڑک پر عجیب و غریب حرکتیں کرتے دیکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے ’اعضا کی سمگلنگ‘ کے ذریعے پیسہ حاصل کرنے کے لیے مدد مانگی۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس اطلاع سے انھیں کوئی بڑا سراغ نہیں ملا۔ پولیس کا خیال ہے کہ دہبیا بی کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں اور ان کا یہ عمل ’بلا ارادہ تھا‘۔
یہ بھی پڑھیے
دہبیا بی کے علاوہ ایک 43 سالہ شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی کار میں دہبیا بی اور کنٹینر لے کر گیا تھا۔
پولیس کا خیال ہے کہ پیرس کے مضافاتی علاقوں میں چکر لگانے کے بعد دہبیا بی اس اپارٹمنٹ کی عمارت میں واپس آ گئیں، جہاں ان کی بہن بھی مقیم ہے۔
کہا جاتا ہے کہ وہاں دونوں بہنوں میں تکرار ہوئی جس کے بعد دہبیا بی گھر سے باہر نکل گئیں۔ انھوں نے رات بوئس کولمبس کے مضافاتی علاقے کے ایک فلیٹ میں گزاری جہاں سے انھیں اگلے دن حراست میں لے لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’ہم کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘
پولیس نے اس قتل کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور توقع ہے کہ دہبیا بی کو عدالتی تفتیش کے تحت حراست میں رکھا جائے گا۔
سوموار کی صبح لولا کے سکول میں بچے اور والدین پریشان تھے۔ وزیر تعلیم اور پیرس کی میئر نے سکول کا دورہ کیا۔
دو بچوں کے والد گیسمی نے ’لی پیرسین‘ اخبار کو بتایا کہ ’میری بیٹی سنیچر کو پورا دن روتی رہی، وہ ایک پل بھی نہیں سوئی۔ اب ہم اپنے پڑوس میں کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ میں اپنے بچوں کے بارے میں بہت خوفزدہ ہوں۔‘
ایک مقامی خاتون نے اخبار کو بتایا کہ ’اس واقعے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج صبح میں اپنے بیٹے کے صرف چند میٹر کے فاصلے پر واقع سکول تک گئی تاکہ اطمینان رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب سے میں اسے سکول چھوڑنے اور واپس لینے بھی جاؤں گی۔ اگر وہ ساڑھے چار بجے فارغ ہو گا تو میں چار بجے کام چھوڑ دوں گی۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘
فرانسیسی صدر کی اہلیہ بریگیٹ میکخوان نے اسے ’انتہائی مکروہ اور ناقابل برداشت سانحہ‘ قرار دیا ہے۔





