روس، یوکرین جنگ: وہ معاملہ جس پر پاکستان، انڈیا اور چین ایک صفحے پر ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا نے ایک بار پھر روس یوکرین کے درمیان جاری تنازع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش ہونے والی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
تازہ قرارداد میں روس کی جانب سے مشرقی یوکرین کے بعض علاقوں میں کرائے گئے ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں روس نے رائے شماری کے بعد ان علاقوں کو حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یوکرین اور مغربی ممالک نے روس کے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اِسے غیر قانونی اقدام قرار دیا ہے۔
قرارداد پر ووٹ نہ ڈالنے کو ایک ’سوچی سمجھی قومی پالیسی‘ قرار دیتے ہوئے انڈیا نے کہا ہے کہ انڈیا روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
انڈیا نے کہا ہے کہ اس مسئلہ کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
روسی ریفرنڈم کے خلاف جنرل اسمبلی کی قرارداد
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس کے مشرقی یوکرین کے کچھ علاقوں میں منعقد ہونے والے ’غیر قانونی ریفرنڈم‘ کے خلاف بھاری اکثریت سے قرارداد کا مسودہ منظور کر لیا ہے۔ 143 ارکان نے اس کی حمایت کی ہے۔
روس، بیلاروس، شمالی کوریا، شام اور نکاراگوا نے اس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ انڈیا سمیت 35 ممالک نے قرارداد پر ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس نے ریفرنڈم کر کے مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک، کھیرسن، لوہانسک علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اپنی قرارداد میں اس قبضے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غیر حاضر رہنے پر انڈیا کی دلیل
قرارداد پر ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد اقوام متحدہ میں انڈیا کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے ملک کی طرف سے تفصیلی معلومات دیں۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے اور سفارتکاری کے راستے پر واپس آنے کے حق میں ہے۔
روچیرا کمبوج نے کہا ’امن کا راستہ اپنانے کے لیے سفارتکاری کے راستے کھلے رکھنے ہوں گے۔ اس لیے ہم پوری امید رکھتے ہیں کہ امن مذاکرات جلد از جلد دوبارہ شروع ہوں تاکہ تنازع فوری طور پر جنگ بندی کے ذریعے ختم ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ اس موضوع پر بہت سے دیگر اہم مسائل ہیں جن پر منظور شدہ قرارداد میں خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ ووٹ نہ دینے کا ہمارا فیصلہ ایک سوچی سمجھی قومی پالیسی کا حصہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ میں انڈیا کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے سمرقند میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے دیے گئے بیان کو بھی دہرایا۔
وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔
یوکرین کا تنازع کس سمت بڑھ رہا ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے انڈیا نے کہا ہے کہ اس نے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔
روچیرا کمبوج نے کہا کہ ’ترقی پذیر ممالک میں خوراک، ایندھن اور کھاد کی سپلائی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ان ممالک کی بات سنی جائے اور ان کے خدشات کو دور کیا جائے۔ بحران زدہ بین الاقوامی معیشت کو مزید کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اب اس کو پیچیدہ بنانے سے بچنا ہے۔‘
چین اور پاکستان بھی انڈیا کے ساتھ
انڈیا کے علاوہ چین، کیوبا، پاکستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا، تھائی لینڈ اور ویتنام نے بھی اقوام متحدہ میں لائی گئی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد میں روس کی جانب سے مشرقی یوکرین میں 23 سے 27 ستمبر کے درمیان ہونے والی مبینہ رائے شماری کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
ریفرنڈم کے بعد ان علاقوں کے حصول کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کو بین الاقوامی قانون میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی یوکرین کے کسی حصے کا نقشہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
قرارداد میں تمام رکن ممالک، بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کے خصوصی اداروں سے روس کے قبضے کو تسلیم نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ روس یوکرین سے اپنی تمام افواج کو فوری طور پر نکالے اور اسے بین الاقوامی سرحدوں کے اندر محدود رکھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
ریفرنڈم کے بعد ان علاقوں کے حصول کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کو بین الاقوامی قانون میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی یوکرین کے کسی حصے کا نقشہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
قرارداد میں تمام رکن ممالک، بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کے خصوصی اداروں سے روس کے قبضے کو تسلیم نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ روس یوکرین سے اپنی تمام افواج کو فوری طور پر نکالے اور اسے بین الاقوامی سرحدوں کے اندر محدود رکھے۔
انڈیا نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اسے یوکرین میں جاری جنگ، خاص طور پر غیر فوجی انفراسٹرکچر اور عام شہریوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش ہے۔
اقوام متحدہ میں انڈیا کی مستقل مندوب روچیرا کمبوج نے کہا 'ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ انسانی جان کی قیمت پر کوئی مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔ اس لیے اسے فوری طور پر بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے'۔
انڈیا کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایسی ہی رائے کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تمام اختلافات اور تنازعات کو حل کرنے کا صحیح طریقہ بات چیت سے ہے۔
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس. جے شنکر نے روس، یوکرین تنازع پر کہا تھا کہ ’جیسا کہ یوکرین تنازع جاری ہے، ہم سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ہم کس طرف ہیں؟ تو ہر بار ہمارا سیدھا اور ایماندارانہ جواب ہوتا ہے کہ انڈیا امن کے ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کے بانی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم اس فریق کے ساتھ ہیں جو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل تلاش کرنے کی بات کرتا ہے۔‘
جے شنکر اس کے بعد بھی روس یوکرین تنازع پر بولتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو خوراک، تیل اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو دیکھ کر بھی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘
پچھلے مہینے بھی انڈیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اور البانیہ کی اس قرارداد پر ووٹ نہیں دیا جس میں روس کے مشرقی یوکرین کے الحاق کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
جیسے ہی روسی صدر پیوتن نے ماسکو میں ایک تقریب کے دوران یوکرین کے علاقوں کے حصول کا اعلان کیا، 15 رکنی سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی۔
روس کے ویٹو کی وجہ سے یہ قرارداد منظور نہیں ہو سکی لیکن 15 میں سے دس ممالک نے اس کی حمایت کی۔ چین، گبون، انڈیا اور برازیل نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کے ویٹو کے بعد اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گری فیلڈ نے کہا کہ وہ جنرل اسمبلی میں روس کا احتساب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کسابا کوروسی نے یوکرین پر ہنگامی خصوصی اجلاس بلایا تھا۔
روس نے مطالبہ کیا تھا کہ قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرائی جائے لیکن رواں ہفتے اس کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا گیا۔
انڈیانے خفیہ رائے شماری کے روس کے مطالبے کو مسترد کرنے کی بھی وکالت کی تھی۔ اس نے 106 ممالک کے ساتھ کُھلی ووٹنگ کے حق میں ووٹ دیا۔
یوکرین پر میزائل حملے
دوسری جانب یوکرین کے بعض بڑے شہروں پر روسی حملے جاری ہیں۔
دارالحکومت کیئو سمیت کئی شہروں پر میزائل حملے ہوئے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ حالیہ حملوں میں 10 شہری ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بیان میں کہا کہ انھیں روس کے میزائل حملوں سے شدید دکھ پہنچا ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ جنگ کو بڑھانے کی کوشش ہے اور عام لوگ ہمیشہ کی طرح اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔‘
انڈیا نے ابھی تک یوکرین پر روس کے حملے پر واضح طور پر تنقید نہیں کی ہے۔ انڈیا شروع سے کہتا رہا ہے کہ اس بحران کو سفارتکاری اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انڈیا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے عام انتخابات میں غیر حاضر رہا ہے۔










