خلا کا محاذ روس جنگ میں یوکرین کو کیسے مدد فراہم کر رہا ہے؟

Satellites orbiting Earth

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

    • مصنف, جوناتھان بیل
    • عہدہ, نامہ نگار دفاعی امور، بی بی سی نیوز

یوکرین جنگ نے زمین پر فوجوں کے لیے خلا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو واضح کر دیا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی خلائی فورس کے سربراہ، جنرل جے ریمنڈ نے اسے 'ایسی پہلی جنگ کے طور پر بیان کیا ہے جہاں تجارتی خلائی سرگرمیوں کی صلاحیتوں نے واقعی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

یہ پہلا بڑا تنازع بھی ہے جس میں دونوں فریقوں کا خلا پر انحصار کافی زیادہ بڑھ چکا ہے۔

جنرل ریمنڈ، جن کا محمکہ امریکی مسلح افواج کی ایک نئی شاخ ہے، ایسی تفصیلات بتانے سے مکمل گریز کرتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خلا کے ذریعے یوکرین کی کس طرح مدد کر رہے ہیں۔

لیکن وہ اس بات کا واضح اشارہ دیتے ہیں کہ اُن کا محکمہ کیا کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ہدف پر عین درستگی کے ساتھ حملے میں مدد کے لیے خلا میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں، ہم حملہ آور میزائلوں کی وارننگ فراہم کرنے کے لیے خلا میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں، ایسے کسی بھی خطرے (یا حملے) کے بارے میں (خبردار کرتے ہیں) جو امریکہ یا ہمارے اتحادیوں یا شراکت داروں کو درپیش آ سکتا ہے۔‘

General Jay Raymond
،تصویر کا کیپشنجنرل ریمنڈ نے خبردار کیا ہے کہ ’خلا میں کئی طرح کے خطرات موجود ہے‘

خلا میں پہلے ہی 5000 سے زیادہ مصنوعی سیارے (سیٹلائٹس) موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تجارتی مقاصد کے لیے چلائے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سینکڑوں سیٹلائٹس کے عسکری مقاصد بھی ہیں، تعداد کے لحاظ سے امریکہ، روس اور چین کے سب سے زیادہ سیٹلائٹس ہیں۔

یوکرین کا اپنا کوئی مصنوعی سیارہ (سیٹلائٹ) نہیں ہے۔ لیکن اسے مغرب سے کئی طریقوں سے اہم مدد ملی ہے۔

نگرانی و جائزہ

Sat images of Bucha
،تصویر کا کیپشنجنگ کے بارے میں 'سچ بتانے' کے لیے 'آئی ایس آر سیٹلائٹ' بھی ضروری رہے ہیں - جیسے یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے قریب بوچا میں قتل عام کی نشاندہی کی گئی

مغرب کا یوکرین کو مدد دینے کا پہلا طریقہ انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی یا انٹیلیجینس، سرویکینس اینڈ ریکونیسا( ISR) فراہم کرنا ہے۔

یوکرین کو تجارتی سیٹلائٹس کی تصاویر تک بہت زیادہ رسائی دی گئی ہے۔ ایک حالیہ کانفرنس میں امریکی نیشنل جیو اسپیشل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اس نے جنگ کے دوران یوکرین کی تجارتی تصویروں تک رسائی کو دگنا کر دیا ہے۔

ائیر وائس مارشل پال گاڈفری جو کہ برطانیہ کی سپیس کمانڈ کے سربراہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یوکرین کو فراہم کردہ تجارتی اور غیر فوجی 'آئی ایس آر' کے ساتھ ساتھ 'خلا میں فوجی صلاحیتوں کے حامل بہت سے ممالک ہیں جو یوکرین کی مدد کر رہے ہیں۔‘

خلائی 'آئی ایس آر' نے 24 فروری کو حملے سے پہلے روسی افواج کی ابتدائی تعیناتیوں اور اس کے بعد سے فوجیوں اور فوجی سامان کی نقل و حرکت کی نشاندہی میں مدد کی۔ بحیرہ اسود میں روسی جنگی جہازوں کو ٹریک کرنے کے لیے سیٹلائٹس کا استعمال کیا گیا ہے، جس میں 'ماسکوا' نامی روسی بحریہ کا جہاز بھی شامل ہے جسے یوکرین نے ڈبو دیا تھا۔

مثال کے طور پر شمالی یارکشائر میں برطانوی فضائیہ کا 'آر اے ایف فائیلنگ ڈیل‘ میں ایک دیوہیکل ارلی وراننگ ریڈار بھی بیلسٹک میزائلوں کی ممکنہ پرواز کی جاسوسی کرتا ہے اور ان کے داغے جانے کی صورت میں انتباہ دینے میں کامیاب رہا ہے۔

ایئر وائس مارشل گاڈفری کا کہنا ہے کہ جنگ کے بارے میں ’سچ بتانے' کے لیے 'آئی ایس آر سیٹلائٹ' بھی بہت فائدہ مند رہے ہیں۔

وہ یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے قریب بوچا میں ہونے والے قتل عام کی نشاندہی کیے جانے کی مثال دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی دعوے کہ جب وہ پہنچے تو مردہ شہریوں کی لاشیں پہلے ہی سڑکوں پر موجود تھیں، ٹائم سٹیمپڈ سیٹلائٹ کی تصویروں سے متصادم تھے۔

بی بی سی سمیت میڈیا تنظیموں کو بھی کمرشل سیٹلائٹ امیجری تک بے مثال رسائی حاصل ہے، جس کا استعمال زمین پر دعوؤں کی تصدیق کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اس میں اجتماعی قبروں کی نشاندہی کرنا یا کریمیا (جنوبی یوکرینی جزیرہ نما جسے روس نے سنہ 2014 میں اپنے میں ضم کیا تھا) میں روسی ایئربیس پر یوکرین کا حالیہ حملہ شامل ہے۔

ارلی وراننگ ریڈار بھی بیلسٹک میزائلوں کے لانچ کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ خلا میں کیا ہو رہا ہے اس پر نظر رکھنے کے لیے امریکہ نے برطانیہ میں مزید دیوہیکل ریڈار نصب کرنے کے بارے میں بھی تفصیلی مذاکرات شروع کردیے ہیں۔

اور حال ہی میں یوکرین کے رضاکاروں نے روسی اہداف کا پتہ لگانے میں یوکرینی فوج کی مدد کے لیے ایک پورا سیٹلائٹ خریدنے کے لیے کافی رقم جمع کی ہے۔

چھوٹے چھوٹے سیٹلائٹس بنانے والی فن لینڈ کی کمپنی 'آئی سی ای وائے ای' (ICEYE) کا 'سار' نامی (مصنوعی اپرچر ریڈار) سیٹلائٹ انتہائی کارآمد ثابت ہوا ہے۔ اس کے استعمال کے صرف پہلے دو دنوں میں روسی فوجی نقصانات ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئے۔

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس کا یہ نقصان سیٹلائٹ کی خریداری کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔

مواصلات

SpaceX Starlink internet terminal installed in Odesa, southern Ukraine. Photo: March 2022

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایلون مسک نے یوکرین کو ہزاروں سٹار لنک انٹرنیٹ کٹس بھیجی ہیں جو اس کے نجی خلائی مشن 'سپیس ایکس' کے مدار میں سیٹلائٹس کے مراکز تک رسائی فراہم کرتی ہیں

پوری جنگ کے دوران مواصلات کے لیے بھی خلا کا اہم کردار رہا ہے۔ جنگ کے آغاز میں روس نے یوکرین کے اہم مواصلاتی مراکز کو ختم کرنے کے لیے متعدد فوجی حملے اور سائبر حملے کیے تھے۔

ایئر وائس مارشل گوڈفری نے ایلون مسک کو 'بنیادی طور پر یوکرین میں انٹرنیٹ کو بیک اپ اور چلانے‘ کا سہرا دیا، جس کا آغاز یوکرین کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے وزیر میخائیلو فیدوروف کی ٹویٹر پر کی گئی اپیل سے ہوا۔

line

ایلون مسک نے یوکرین کو ہزاروں سٹار لنک انٹرنیٹ کٹس بھیجی ہیں جو اس کے نجی خلائی مشن 'سپیس ایکس' کے مدار میں سیٹلائٹس کے مراکز تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔

وہ پوری جنگ کے دوران یوکرین کی فوج کو محفوظ مواصلات اور حالات سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے ضروری رہے ہیں۔ میں نے ملک کے مشرقی علاقے ڈونباس میں یوکرینی فوجی بنکروں سے ان کا استعمال ہوتے دیکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار

HIMARS rockets are fired at an undisclosed location in Ukraine. Photo: June 2022

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوکرین انتہائی درستگی والے 'ہیمارس' (HIMARS) راکٹوں کے ذریعے اہم روسی اہداف کا بالکل درست نشانہ بنانے میں انتہائی کامیاب رہا ہے۔

روس، اور حال ہی میں یوکرین، دونوں اہم اہداف پر درست حملے کرنے کے لیے خلائی پوزیشننگ، نیویگیشن اور ٹائمنگ (PNT) پر انحصار کر رہے ہیں، روس کے کروز میزائل اپنے اہداف کو تلاش کرنے کے لیے اپنے 'گلوناس' نامی پوزیشننگ سیٹلائٹ استعمال کر رہے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے یوکرین کو ہدف کو نشانے بنانے والے ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافہ اس حالیہ پیشرفت کی اصل وجہ رہا ہے۔ 'ہیمارس' راکٹ - جس کی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت 50 میل تک ہے اور وہ 'جی پی ایس' سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کو اہم اہداف کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ گولہ بارود کے ذخیرے اور اگلے محاذوں سے پیچھے قائم کمانڈ سینٹرز وغیرہ۔

ابھی حال ہی میں امریکہ نے یوکرین کو 'جی پی ایس-گائیڈِڈ' ایکس کیلیبر' آرٹلری گولے فراہم کیے ہیں، جو کہ 'ڈمب بمب' کہلانے والے گولہ بارود سے زیادہ درست ثابت ہوئے ہیں۔ عین ہدف پر نشانہ بنانے کی صلاحیت نے جنگ کے نتائج بدلے ہیں۔

خلا میں جنگ کا مستقبل

خلا پر بڑھتا ہوا انحصار ان خدشات کو جنم دیتا ہے کہ تنازعہ زمین، سمندر اور ہوا سے باہر نکل سکتا ہے۔

روس اور چین دونوں اپنے اپنے مصنوعی سیاروں (سیٹلائٹس) کو تباہ کرنے کے تجربات کر چکے ہیں اور برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف ایڈمرل ٹونی راڈاکن نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ روس خلا میں مغربی اہداف پر حملے کر سکتا ہے۔

جنرل ریمنڈ کا کہنا ہے کہ ’خلا میں کئی طرح کے خطرات ہیں جس کے بارے میں ہمیں تشویش ہے۔‘ وہ جی پی ایس اور کمیونیکیشن جیمنگ، لیزر ہتھیاروں، یا زمین سے فائر کیے جانے والے میزائلوں کی فہرست دیتے ہے جنھیں سیٹلائٹ کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ خلا میں ہمیشہ محفوظ اور ذمہ دارانہ رویہ قائم رہے، لیکن انھوں نے مزید کہا کہ 'تاہم جو بات مجھے پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر کوئی میرے اس خدشے سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔‘

حقیقت تو یہ ہے کہ خلا میں عسکری نوعیت کی سرگرمیاں پہلے سے ہی جاری ہیں۔