برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس سوم کو کن چیلنجوں کا سامنا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فیرنینڈو ڈوئرٹے
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
کاغذ پر برطانوی شاہی حکمران کی جانشینی جیسا ہموار معاملہ کم ہی ہوتا ہے: ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے 48 گھنٹوں کے اندر بادشاہ چارلس سوم برطانیہ کے نئے شاہی حکمران بن چکے تھے۔
لیکن معاملات اتنے سادہ نہیں جتنے نظر آتے ہیں: چارلس سوم ایک ایسے وقت میں تخت نشین ہوئے ہیں جب برطانیہ اور شاہی خاندان کو مشکلات کا سامنا ہے۔
جن مؤرخین سے بی بی سی نے بات کی، وہ سمجھتے ہیں کہ نئے بادشاہ کو ایسے بے مثال چیلنجوں کا سامنا ہے جو چارلس سوم کے ساتھ ساتھ بعد میں تخت نشین ہونے والے شاہی حکمرانوں کے اچھے یا برے وقت کا بھی تعین کریں گے۔
برطانیہ میں تونائی کے بحران سے نمٹنے سے لے کر ان کی والدہ کی 70 سالہ حکمرانی کے بعد بادشاہت کے بارے میں تبدیل ہوتے ہوئے خیالات چارلس سوم کی حکمرانی کے لیے تلخ وقت کا سامان ہیں۔
ذیل میں ایسے چند اہم مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی جانب نئے بادشاہ کو توجہ دینی ہو گی۔
منکسر المزاج بادشاہت؟
یوکرین جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے برطانیہ میں لاکھوں خاندانوں کو موسم سرما میں ممکنہ توانائی بحران کا سامنا ہے۔
محتاط اندازوں کے مطابق برطانیہ کی دو تہائی آبادی، جو تقریبا ساڑھے چار کروڑ افراد بنتے ہیں، اپنا بل مشکل سے ہی ادا کر سکے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسی صورت حال میں برطانیہ کے شاہی خاندان کے مالی معاملات پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔ یوکرین جنگ سے قبل ہی برطانوی اخبارات میں افواہ گرم تھی کہ اس وقت پرنس آف ویلز کہلائے جانے والے چارلس اپنی تاجپوشی سمیت شاہی تقریبات کی شان و شوکت میں کمی لانے کے خواہش مند ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
13 ستمبر کو روزنامہ ٹیلیگراف نے لکھا کہ تاجپوشی کی تقریب سنہ 1953 میں ملکہ الزبتھ دوم کی عالیشان رسم تاجپوشی جیسی نہیں ہو گی جو ٹی وی پر دکھائی جانے والی اس نوعیت کی پہلی تقریب تھی۔
شاہی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ چارلس سوم کی تاجپوشی ’مختصر، کم مہنگی اور بین الثقافتی ہو گی‘ جس میں برطانوی معاشرے کے تنوع کی جھلک دکھائی دے گی۔
چارلس اس سے قبل بادشاہت کے حجم میں کمی کی خواہش کا اظہار بھی کر چکے ہیں جو غالباً شاہی خاندان کے مراعات یافتہ افراد کی تعداد میں کمی کی شکل میں ظاہر ہو گی جس میں بادشاہ، کوئین کنسورٹ، شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ نمایاں ہوں گے۔
شاہی مؤرخ کیلی سویب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’غالب امکان ہے کہ ہم کچھ کمی دیکھیں گے، خصوصاً تاجپوشی میں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شاہی خاندان کو دکھانا ہے کہ وہ ملک میں مشکل حالات سے ناواقف نہیں ہے۔‘
شاہی خاندان کے مالی معاملات ایک پیچیدہ معاملہ ہیں جو بادشاہت مخالف بحث کا مرکزی نکتہ رہے ہیں: ان کے فنڈز ٹیکس کے پیسے سے سالانہ شاہی گرانٹ کے ذریعے ادا ہوتے ہیں۔
2021 سے 2022 تک یہ گرانٹ 99 اشاریہ آٹھ ملین پاؤنڈ تھی جو برطانیہ میں فی شہری ایک اعشاریہ 49 پاونڈ رقم بنتی ہے تاہم اس میں شاہی خاندان کے اراکین کی سکیورٹی پر خرچ ہونے والی رقم شامل نہیں۔
گھٹتی ہوئی مقبولیت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے شاہی خاندان کی حمایت 30 سال کے نچلے ترین درجے پر ہے۔ یہ برطانوی معاشرتی رویوں کو جانچنے والے سروے کے مطابق ہے جو شاہی خاندان کی جانب عوام کے احساسات کا جائزہ لیتا ہے۔
تازہ ترین سروے جو سنہ 2021 میں شائع ہوا، بتایا گیا کہ صرف 55 فیصد برطانوی شہری بادشاہت کو ’بہت اہم‘ یا ’نہایت اہم‘ سمجھتے ہیں۔ گذشتہ دہائیوں میں یہ تعداد 60 سے 70 فیصد تک رہی ہے۔
روں سال مئی کے مہینے میں عوام کے پسندیدہ ترین شاہی افراد کی فہرست میں چارلس ملکہ الزبتھ اور شہزادہ ولیم کے بعد تیسرے نمبر پر تھے۔
اگرچہ ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد نئے بادشاہ کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے تاہم چارلس سوم کو شاہی ساکھ کے لیے کام کرنا ہو گا۔
شاہی مؤرخ رچرڈ فٹزولیمز کا کہنا ہے کہ ’بادشاہ چارلس سوم کے لیے ایک چیلنج بادشاہت کو نوجوان طبقے کے لیے پسندیدہ بنانا ہے۔‘
ان کی رائے کے حق میں برطانوی معاشرتی رویوں کو جانچنے والے سروے کی رپورٹ بھی ہے جس کے مطابق 2021 میں 18 سے 34 سال کی عمر کے صرف 14 فیصد افراد نے بادشاہت کو ملک کے لیے ’بہت اہم‘ سمجھا تھا جب کہ 55 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ تناسب 44 فیصد تھا۔
یوگوو پول کی مئی کی رپورٹ کے مطابق ملک کی 27 فیصد آبادی بادشاہت کے مکمل خاتمے کی حامی ہے جو ملک میں ماضی میں ایسے خیالات رکھنے والے افراد کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے جو عام طور پر 15 فیصد تک رہتی ہے۔
کیلی سویب کہتی ہیں کہ ’1952 سے بہت کچھ بدل چکا ہے۔‘ انھوں نے خصوصاً بادشاہت مخالف مظاہروں کا حوالہ دیا جو گذشتہ چند دن میں ہو چکے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اب بادشاہت کا احترام کم ہے اور شاہی خاندان کی جانچ پڑتال زیادہ ہو چکی ہے۔‘
یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو بادشاہ چارلس سوم کو ذہن میں رکھنا ہو گا۔
’شکایت نہیں، وضاحت نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بادشاہ چارلس سوم برطانیہ کے سربراہ مملکت ہیں۔ لیکن برطانیہ کی آئینی بادشاہت کے ماڈل میں شاہی حکمران کے اختیارات رسمی ہیں۔ اسی لیے شاہی خاندان کے اراکین سے سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔
ملکہ الزبتھ دوم کے اس ضمن میں تحمل کو بہت سے لوگوں نے اس کہاوت پر ان کے یقین کے طور پر دیکھا کہ ’کبھی شکایت نہ کرو، کبھی وضاحت نہ دو۔‘
اس کے باوجود ماضی میں چارلس نے مختلف امور پر بات کی ہے۔ 2015 میں یہ معلوم ہوا کہ انھوں نے حکومتی وزرا کو متعدد خطوط میں مالی معاملات سے لے کر دفاعی امور اور طبی معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
کیا ان کا رویہ بدلے گا؟ آئینی امور کے ماہر پروفیسر ورنن بوگڈینر ایسا ہی سمجھتے ہیں۔
’ان کو شروع سے ہی علم ہے کہ ان کو اپنا طریقہ بدلنا ہو گا۔ عوام کو سیاسی طور پر متحرک بادشاہ قبول نہیں ہو گا۔‘
12 ستمبر کو اراکین پارلیمنٹ سے خطاب میں نئے بادشاہ نے نئی روش کا ثبوت دیا۔ اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ وہ چند ذاتی دلچسپی کے امور کو اب نہیں چھیڑ سکیں گے، انھوں نے کہا کہ ’پارلیمنٹ برطانوی جمہوریت کا زندہ اور سانس لیتا ہوا آلہ ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
دولت مشترکہ اور نو آبادیاتی نظام کی میراث

،تصویر کا ذریعہGetty Images
والدہ کی وفات کے بعد بادشاہ چارلس سوم 56 ایسے ممالک کی سیاسی تنظیم دولت مشترکہ کے سربراہ بھی بن گئے جن کی اکثریت ماضی میں برطانوی نو آبادیاتی نظام کا حصہ رہے ہیں۔
وہ برطانیہ کے علاوہ بھی 14 ممالک کے سربراہ مملکت ہیں جن میں آسٹریلیا، کینیڈا، جمیکا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں۔
تاہم گزشتہ چند برسوں سے دولت مشترکہ میں شامل چند ممالک نے تاجِ برطانیہ سے اپنے رشتے پر بحث چھیڑ رکھی ہے۔ اسی عمل کے تحت، بارباڈوس نے 2021 کے اختتام پر جمہوریہ بننے کا فیصلہ کیا اور سابق ملکہ کو سربراہ مملکت کے طور پر ہٹا دیا گیا۔ یوں برطانیہ کے 200 سال پرانے اثر و رسوخ کا خاتمہ کر دیا گیا جس کے دوران یہ جزیرہ غلاموں کی تجارت کا مرکز بھی رہا۔
2022 میں جب شہزادہ ولیم جزائر کے دورے پر نکلے تو مظاہرے شروع ہو گئے اور جمیکا کے وزیر اعظم انڈریو ہولنس نے عوامی طور پر برطانوی شہزادے سے کہا کہ ان کا ملک اب آگے بڑھ رہا ہے۔
بی بی سی کے شاہی نامہ نگار شان کگلن کا کہنا ہے کہ دولت مشترکہ سے ایک نئے اور جدید رشتے کو استوار کرنا بادشاہ چارلس سوم کے لیے ایک بڑا امتحان ہو گا۔
ایک عمر رسیدہ بادشاہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
73 سالہ چارلس سوم برطانیہ کے بادشاہ بننے والے معمر ترین شخص ہیں۔ ان کی بادشاہت سے جڑے سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شاہی ذمہ داریوں کی طویل فہرست میں سے وہ خود کتنی ادا کر سکیں گے؟
اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ ان کے بیٹے اور تخت کے جانشین، شہزادہ ولیم، شاہی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ان کا بوجھ بٹانے کے لیے سامنے آئیں گے خصوصاً بین الاقوامی دوروں کے لیے۔ ملکہ الزبتھ دوم نے 80 سال کی عمر کے بعد بیرون ملک سفر کرنا ترک کر دیا تھا۔
مؤرخ کیلی سویب کہتی ہیں کہ ’چارلس ایک بوڑھے بادشاہ ہیں۔ وہ یہ سب نہیں کر سکتے۔ مجھے توقع ہے کہ ہم شہزادہ ولیم کو پہلے سے زیادہ دیکھیں گے۔‘
ایک بڑا خلا جسے پر کرنا ہو گا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں غم کے عوامی اظہار سے ثابت ہوتا ہے کہ ملکہ الزبتھ دوم ایک مقبول شاہی حکمران تھیں۔ نئے بادشاہ کے لیے یہ بھی ایک چیلنج ہے تاہم شاہی مؤرخ ایولین بریوٹن کے مطابق یہ ایسا مشکل مسئلہ نہیں۔
انھوں نے ان حالات کی جانب توجہ مبذول کروائی جن میں ایڈورڈ ہفتم ایک اور مقبول حکمران ملکہ وکٹوریا کی موت کے بعد تخت نشین ہوئے تھے۔
’ہم جس وقت میں جی رہے ہیں، اس میں اور وکٹورین دور کے اختتام میں بہت سی دلچسپ مماثلتیں ہیں۔‘
’ایڈورڈ ہفتم اور چارلس سوم، دونوں ہی ایسے وقت میں تخت نشین ہوئے جب برطانیہ میں معاشرتی تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی تھی۔ دونوں ہی اپنی اپنی والدہ جتنے مقبول نہیں تھے۔‘
ایڈورڈ ہفتم صرف نو سال اقتدار میں رہے تاہم ان کو ایک ایسے بادشاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنھوں نے 1904 میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان عہد ساز معاہدوں کی بنیاد رکھنے والی سفارتی کوششوں میں حصہ لیا۔
بریوٹن کا ماننا ہے کہ ’ایڈورڈ ہفتم نے بہت اچھا وقت گزارا اور فی الحال ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ چارلس کو بھی ایک اہم بادشاہ کے طور پر یاد نہیں رکھا جائے گا۔‘
’ان کے سامنے ملکہ الزبتھ دوم جیسا بہترین رول ماڈل تھا اور ان کے پاس اپنی ذمہ داریوں کی تیاری کے لیے کافی وقت تھا۔‘













