زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ: یوکرین کے اہم ترین جوہری پلانٹ کی بجلی بحال، جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ایلس ڈیویز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ یوکرین کے بڑے زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کی بجلی بحال ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ یورپ کے سب سے بڑے اور یوکرین کے اہم ترین زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ پر گولہ باری سے پلانٹ سے منسلک بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا تھا۔ یوکرین اور روس نے ایک دوسرے پر اس حملے کا الزام عائد کیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کی تشویش کے علاوہ یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ روس اس پلانٹ میں دنیا کے بدترین جوہری حادثے کو بھڑکا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ روس نے مارچ کے اوائل میں اس جوہری پاور پلانٹ کو قبضے میں لیا تھا۔
اس کے تمام چھ ری ایکٹر بجلی معطل ہونے کی وجہ سے بند ہو کر رہ گئے ہیں لیکن پلانٹ کو اپنے ری ایکٹرز کو ٹھنڈا کرنے اور پگھلنے کے خطرے سے بچانے کے لیے باہر سے بجلی کی سپلائی درکار ہے۔
آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ روسی افواج کے زیر قبضہ پلانٹ کی صورتحال بہتر ہوئی ہے لیکن بدستور تشویشناک ہے۔
اس ادارے کے جوہری ماہرین کی ایک ٹیم نے اس ماہ کے آغاز میں اس وقت یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ زاپوریژیا کا دورہ کیا جب اس پر گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ان خبروں کے بعد یوکرین اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے معائنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

آئی اے ای اے کے پہلے معائنے کے بعد ایجنسی نے اعلان کیا کہ وہ صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے یہاں اپنی مستقل موجودگی برقرار رکھے گی۔
اس ایجنسی نے سنیچر کے روز ایک ٹویٹ کیا کہ سائٹ پر موجود ٹیم کے ارکان کو معلوم ہوا کہ گولہ باری سے تباہ ہونے والی چار اہم بیرونی پاور لائنوں میں سے ایک کی مرمت کر دی گئی ہے، جس سے براہِ راست قومی گرڈ سے بجلی حاصل کی جا سکے گی۔
یوکرین کے مشرق میں ایزیوم کے علاقے میں اجتماعی قبروں کے ملنے کے بعد یورپی یونین نے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک بین الاقوامی ٹریبونل بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
حال ہی میں روسی افواج کی پسپائی کے بعد یوکرین کے کنٹرول میں آنے والے شہر کے کنارے پر واقع جنگل میں سیکڑوں لاشیں دبی ہوئی دریافت ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ان میں بہت سے عام شہری، خواتین اور بچے ہیں۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
چیک ریپبلک کے وزیر خارجہ جان لیپاؤسکی، جو اس وقت یورپی یونین کے صدر بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ ’21ویں صدی میں، شہری آبادی کے خلاف اس طرح کے حملے ناقابل تصور اور گھناؤنے ہیں۔‘
انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ہمیں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ وہ تمام جنگی مجرموں کو سزا دینے کے مطابلے کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’میں ایک خصوصی بین الاقوامی ٹریبونل کے فوری قیام کا مطالبہ کرتا ہوں، جو (روس کے خلاف) جارحیت کے جرم کا مقدمہ چلائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دونیتسک کے منقسم مشرقی علاقے میں سنیچر کے روز لڑائی میں شدت آئی۔ یہ علاقہ زیادہ تر روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔
دونیتسک شہر کے علیحدگی پسند میئر نے کہا کہ یوکرینی حکومت کی جانب سے مرکزی ضلع پر گولہ باری سے چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دونیتسک کے علاقے کے گورنر نے روسی افواج پر الزام لگایا ہے کہ وہ مائیکولائیوکا میں ایک تھرمل پاور پلانٹ پر گولہ باری کر رہے ہیں، جس سے علاقے میں پینے کے پانی کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔
برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں روس سے کامیابی کے ساتھ علاقے کو واپس لینے کے بعد یوکرین کے فوجی ملک کے شمال مشرق میں اپنی جوابی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ روس نے یوکرین کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب بیلگوروڈ سے اپنے ایک اہم سپلائی روٹ کی حفاظت کے لیے ایک دفاعی لائن قائم کی ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعے کے روز کہا کہ یوکرین کی جوابی کارروائیوں سے یوکرین کے مشرق میں روس کے فوجی منصوبوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
یہ بھی پڑھیے

بین الاقوامی برادری کیا کر سکتی ہے؟
جنیوا کنونشن کے تحت جوہری پلانٹس کو نشانہ بنانا ممنوع ہے۔ اس ضمن میں طے شدہ ضوابط اور پروٹوکول 1 کے 1949 کے جنیوا کنونشنز کے مطابق ڈیموں اور جوہری پاور سٹیشنوں کے خلاف حملوں پر پابندی ہے، ورنہ سیلاب یا تابکاری کے نتیجے میں ’شدید‘ نقصان ہو سکتا ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک ہی وقت میں، پاور پلانٹ حملے کا جائز ہدف بن سکتا ہے اگر اسے شہری مقاصد کے بجائے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
اسی طرح کے قواعد و ضوابط خطرناک انفراسٹرکچر کے قریب واقع فوجی اہداف پر لاگو ہوتے ہیں۔ ایسے اہداف پر حملوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
یوکرین نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ اس جوہری پاور پلانٹ کو فضائی دفاع فراہم کریں جو اس سہولت پر براہ راست حملوں کو روکنے کے قابل ہو۔
تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس کے نفاذ کا امکان نہیں کیونکہ یوکرین کی حمایت کرنے والے ممالک کو خدشہ ہے کہ روس اسے تنازع میں براہِ راست ملوث ہونے سے تعبیر کر سکتا ہے۔












