زاپوریژیا: روس کے زیر قبضہ یوکرین کے جوہری پاور پلانٹ پر دوبارہ حملہ، یہ پلانٹ کتنا خطرناک ہے؟

زاپوریژیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروس کی افواج یوکرین کے زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ پر قابض ہیں جو کہ یورپ کا سب سے بڑا پاور پلانٹ ہے
    • مصنف, آرتم وورونن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز رشیئن

یورپ کے سب سے بڑے اور یوکرین کے اہم ترین زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ پر مزید گولہ باری کی اطلاعات ملی ہیں۔ یوکرین اور روس دوبارہ ایک دوسرے پر اس حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔

دونوں ممالک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جمعرات کو یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کے دفتر اور فائر سٹیشن پر دس گولے مارے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اجلاس کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے جوہری پروگرام کے نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک 'سنگین گھڑی' ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گیٹریز نے بھی کہا ہے کہ یہ 'تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔'

یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ روس اس پلانٹ میں دنیا کے بدترین جوہری حادثے کو بھڑکا سکتا ہے۔ روس نے مارچ کے اوائل میں اس جوہری پاور پلانٹ کو قبضے میں لیا تھا۔

بدھ کے روز، جی سیون اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ روس کو فوری طور پر پلانٹ کا کنٹرول کیئو کے حوالے کرنا چاہیے۔

دریں اثنا، امریکہ نے پلانٹ کے ارد گرد کے علاقے میں ایک غیر عسکری زون قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جوہری پلانٹ کے قریب لڑائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔

گذشتہ ہفتے بھی وسطی مشرقی یوکرین میں واقع اس پاور پلانٹ اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں گولہ باری دیکھنے میں آئی، اور اس وقت بھی روس اور یوکرین نے اس حملے کے لیے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا تھا۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے اس جگہ کو فوجی اڈے میں تبدیل کر دیا ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ یوکرین کی افواج جوابی کارروائی نہیں کر سکتی وہاں سے حملے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

تاہم روس اس دعویٰ کی تردید کرتا ہے۔ جبکہ روسی حکام نے اس سے متضاد بیان دیتے ہوئے یوکرین پر گولہ باری کا الزام عائد کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی فورسز راکٹ لانچ سسٹم اور بھاری توپ خانے کا استعمال کر رہی ہیں۔

دونوں فریقین میں سے کسی ایک کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

ایسے میں اس جوہری پاور پلانٹ کی موجودہ صورتحال اور یہ ممکنہ طور پر کتنی خطرناک ہو سکتی ہے کہ بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

اس وقت اس جوہری پاور پلانٹ پر کیا ہو رہا ہے؟

روس نے مارچ کے اوائل میں یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے کے دوسرے ہفتے میں زاپوریژیا کے جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھا۔ یوکرینی اور روسی افواج کے درمیان لڑائی پلانٹ کے قریب پہنچ گئی تھی، جو کہ اینرہودار قصبے کے قریب ہے اور پلانٹ کی ایک عمارت میں آگ لگ گئی تھی جس سے پورے یورپ میں تشویش پائی گئی تھی۔

اس پاور پلانٹ کے چھ پریشرائزڈ واٹر ریکٹر ہیں اور اس میں تابکاری فضلے کے متعدد سٹورز بھی ہیں۔ اس وقت یوکرینی عملے کے ایک رکن نےدعویٰ کیا تھا کہ پلانٹ پر براہ راست گولہ باری کی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں ایک ری ایکٹر کو نقصان پہنچا تھا۔

جمعرات کو اپنے ایک بیان میں یوکرین کی نیوکلیئر ایجنسی اینراہوٹویم کا کہنا تھا کہ 'روسی حملہ آوروں نے ایک بار پھر زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گولہ باری کی ہے۔'

اپنے بیان میں اس کا کہنا ہے کہ اس پلانٹ کے ویلڈنگ علاقے کے قریب ایک انتظامی دفتر کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں کئی ریڈی ایشن سینسرز کو نقصان پہنچا ہے۔ اس حملے کے بعد پلانٹ کے قریب موجود گھاس پر معمولی سی آگ بھڑکی تھی، لیکن کوئی زخمی نہیں ہوا۔

یوکرین کی جوہری ایجنسی اینراہوٹویم کا مزید کہنا تھا کہ اس پلانٹ کے قریب واقعے آگ بجھانے کے سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

اور گولہ باری کے باعث یہ ممکن نہیں تھا کہ وہاں ڈیوٹی پر موجود عملے کی شفٹوں کو بدلا جا سکے لہذا انھیں اضافی وقت میں بھی کام جاری رکھنا پڑا۔

ایجنسی کا کہنا ہے لیکن اب صورتحال قابو میں ہے۔

دوسری طرف جمعرات کو نیویارک شہر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، گروسی نے ایک بار پھر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو پلانٹ کا معائنہ کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت نازک اور سنگین گھڑی ہے اور آئی اے ای اے کو جتنا جلد ہو سکے زاپوریژیا میں اپنے مشن کو کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔'

اب تک اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے اہلکار پلانٹ کا معائنہ کرنے سے قاصر ہیں۔

A satellite map of the power plant

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ 'علاقے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے غیر فوجی کارروائی کے محفوظ طریقے پر تکنیکی سطح کے فوری معاہدے کی ضرورت ہے۔'

کیئو میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ 'روس دنیا کے بدترین جوہری حادثے کا سبب بن سکتا ہے... چرنوبل سے بھی بڑا۔'

وہ سنہ 1986 میں کیئو کے شمال میں واقع سوویت کے تعمیر کردہ جوہری پلانٹ کی تباہی کا ذکر کر رہے تھے۔

صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ایسا حادثہ روس کے لیے بنا کسی حقیقی ایٹمی حملہ کیے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرنے کے مترادف ہو گا۔

قبل ازیں اس جوہری پاور پلانٹ کے کمپلیکس پر پہلی مرتبہ حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا جس میں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پلانٹ پر گولہ باری کی مذمت کی گئی تھی۔

حتیٰ کے چین جو شاذو نادر ہی روس پر تنقید کرتا ہے، نے کہا تھا کہ اسے بھی جوہری تحفظ سے متعلق خدشات ہیں جبکہ روس نے اس کے جواب میں ردعمل دیتے ہوئے ’یوکرینی تخریب کاروں‘ پر جوہری پلانٹ میں آگ لگانے کا الزام عائد کیا تھا۔

جولائی کے وسط سے زاپوریژیا کے جوہری پلانٹ کے تحفط کے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں جب روسی افواج پر اس پلانٹ کے قریبی علاقوں سے فائرنگ اور گولہ باری کرنے کے الزام لگے تھے۔

A map showing the position of the power plant in southern Ukraine

یوکرین نے نام نہاد ’کامیکاز ڈرونز‘ کے ذریعے ٹارگٹڈ سٹرائیکس کر کے جوابی کارروائی کی کوشش کی لیکن اس کی افواج جوہری ری ایکٹرز کو نشانہ بنانے کے خطرے کی وجہ سے مغربی ممالک کی طرف سے حال ہی میں فراہم کردہ راکٹ لانچ سسٹم استعمال نہیں کر سکتیں۔

نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ نے بی بی سی نیوز رشیئن کو بتایا کہ اس صورتحال کی پہلے کوئی مثال موجود نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم وہ کچھ دیکھ رہے ہیں جو ہم نے پہلے کبھی فوجی آپریشن کے دوران نہیں دیکھا تھا۔ روس ایک جوہری تنصیب کو اپنے بچاؤ کے لیے کور کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔‘

Black and white security footage showing a fire at the plant in March

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمارچ میں جوہری پلانٹ میں لگنے والی آگ کے سی سی ٹی وی مناظر

سب سے برا کیا ہو سکتا ہے؟

اس صورتحال میں جوہری پلانٹ کے ری ایکٹروں میں سے کسی ایک پر گولہ یا راکٹ لگنے کا سب سے واضح خطرہ یہ ہے کہ ان ریکٹروں کے بیرونی حفاظتی حصے میں سے کسی ایک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ری ایکٹر ایک خاص مقدار میں بیرونی دباؤ یا نقصان کو برداشت کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں لیکن براہ راست گولہ بارود کے ٹکرانے کے اثرات کو برداشت کرنے کے لیے نہیں بنے۔

اگر کسی ری ایکٹر کے بیرونی حصے یا کولنگ سسٹم کو گولہ یا راکٹ لگنے سے نقصان پہنچتا ہے تو تابکاری مواد کا لیک ہونا یقینی ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ ہائیڈروجن یا جوہری دھماکے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یوکرینی جوہری توانائی کی ایک آزاد ماہر اولہا کوشرنا کہتی ہیں کہ ’اگر کوئی راکٹ کسی ایک ری ایکٹر سے ٹکراتا ہے، تو اس کے نتیجے میں ہونے والی تابکاری کے نتائج یورپ کے لیے، (روس کے ساتھ ملحقہ) کریمیا کے لیے اور یقیناً پورے یوکرین کے لیے خطرناک ہوں گے۔‘

ایک روسی ماہر طبیعیات، آندرے اوزہارووسکی، جو جوہری فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں مہارت رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’اگر زاپوریژیا پاور پلانٹ میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو یہ بڑی مقدار میں تابکار کاسیم 137 کے اخراج کا سبب بنے گا، جو ہوا کے ذریعے طویل فاصلے تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کاسیم 137 کے اخراج کے انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوں گے اور یہ زراعت کے لیے زمین کو بھی آلودہ کر سکتا ہے اور اگلے کئی برسوں تک زرعی اجناس اور فصلوں کی کاشت متاثر ہوں سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، موسم اور ہوا کی سمت اور طاقت کے لحاظ سے، تابکاری سے بہت آگے کے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔

جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ ری ایکٹرز کے علاوہ، زاپوریژیا پلانٹ میں جوہری فضلہ ذخیرہ کرنے کی سہولیات بھی خطرے کا باعث ہیں۔ جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جان بوجھ کر یا حادثاتی طور پر کسی راکٹ یا گولہ باری سے نشانہ بنایا گیا، تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔

A soldier with reactors number four and five in the background

،تصویر کا ذریعہReuters

بین الاقوامی برادری کیا کر سکتی ہے؟

جنیوا کنونشن کے تحت جوہری پلانٹس کو نشانہ بنانا ممنوع ہے۔ اس ضمن میں طے شدہ ضوابط اور پروٹوکول 1 کے 1949 کے جنیوا کنونشنز کے مطابق ڈیموں اور جوہری پاور سٹیشنوں کے خلاف حملوں پر پابندی ہے، وگرنہ سیلاب یا تابکاری کے نتیجے میں ’شدید‘ شہری نقصان ہو سکتا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک ہی وقت میں، پاور پلانٹ حملے کا جائز ہدف بن سکتا ہے اگر اسے شہری مقاصد کے بجائے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

اسی طرح کے قواعد و ضوابط خطرناک انفراسٹرکچر کے قریب واقع فوجی اہداف پر لاگو ہوتے ہیں۔ ایسے اہداف پر حملوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

یوکرین نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ اس جوہری پاور پلانٹ پر ’آسمان کو بند کر دیں‘ یعنی فضائی دفاع فراہم کریں جو اس سہولت پر براہ راست حملوں کو روکنے کے قابل ہو۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کے نفاذ کا امکان نہیں کیونکہ یوکرین کی حمایت کرنے والے ممالک کو خدشہ ہے کہ روس اسے تنازع میں براہ راست ملوث ہونے سے تعبیر کر سکتا ہے۔