نئے بادشاہ کے اعلان کی تقریب جو پہلی مرتبہ ٹیلی کاسٹ ہوئی، اس میں کیا ہوا؟

King Charles III and the Camilla, Queen Consort during the Accession Council at St James's Palace, London

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنشاہ چارلس سوئم اپنی ملکہ کنسورٹ کمیلا کے ہمراہ نئے بادشاہ کے اعلان کی تقریب میں

لندن کے سینٹ جیمز پیلس میں ایک تاریخی تقریب کے دوران باضابطہ طور پر چارلس سوم کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سنیچر کی صبح منعقد ہونے والی تقریب کے دوران قومی پرچم جو ملکہ کے اس دنیا سے چلے جانے کے سوگ میں سرنگوں تھے انھیں نئے بادشاہ کے تقرر کی خوشی میں مکمل طور پر بلند کیا گیا۔ اس پر وقار تقریب کو پہلی مرتبہ ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا۔

برطانیہ بھر میں اتوار تک مزید شاہی فرمان جاری کیے جانے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اتوار ہی کو قومی پرچم ملکہ کی موت کے سوگ میں دوبارہ سرنگوں کر دیا جائے گا۔

نئے بادشاہ کا اعلان ایک الحاق کونسل نے کیا تھا اور شاہی روایت کے مطابق منعقدہ ایک انتہائی پروقار اور شاندار تقریب میں حلف اٹھایا گیا۔ ایسی تقریب سات دہائیوں بعد منعقد ہوئی ہے۔

Charles III's proclamation ceremony

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننئے بادشاہ کی خوش میں نعرے

اعلان دراصل کیا ہے؟

چارلس پہلے ہی بادشاہ تھے۔ برطانوی قانون ایکٹ آف سیٹلمنٹ 1701 کی شرائط کے تحت اپنی والدہ کی موت کے بعد اُنھیں ہی تخت نشیں ہونا تھا۔ چنانچہ الحاق کونسل کا مقصد باضابطہ طور پر نئے بادشاہ کے نام کا اعلان کرنا درحقیقت ایک رسم پوری کرنا تھا۔

عام طور پر یہ ریاست کے سربراہ کی موت کے 24 گھنٹوں کے اندر ہو جاتا ہے لیکن اس مرتبہ ملکہ الزبتھ دوم کی موت کے بعد بکنگھم پیلس کے بہت قریب سینٹ جیمز پیلس میں اس تقریب کے انعقاد میں ذرا زیادہ وقت لگا۔

روایت سے ہٹ کر شاہ چارلس سوم نے فیصلہ کیا کہ پہلی بار الحاق کونسل کے اعلان کو ٹیلی ویژن پر دکھایا جائے گا۔

کس نے شرکت کی؟

بادشاہ کے باضابطہ مشیروں کے ادارے پریوی کونسل کے 200 سے زائد ارکان میں اکثریت سابق اور موجودہ سیاست دانوں کی ہے، وہ مذہبی پیشواؤں کے ہمراہ سینٹ جیمز پیلس میں جمع ہوئے۔

یہ کونسل نارمن بادشاہوں کے دور کی ہے۔ اس کے مجموعی ارکان کی تعداد 700 سے ہے لیکن صرف 200 ارکان کو اس تقریب میں طلب کیا گیا تھا۔

برطانیہ کے سابق وزرائے اعظم گورڈن براؤن، ڈیوڈ کیمرون، بورس جانسن اور ٹریسا مے جنھیں کئی برس تک ملکہ سے ملاقاتیں کرنے کا شرف حاصل رہا ہے، ان سب کے علاوہ لندن شہر کے لارڈ میئر، سینئر ججوں اور دیگر عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

چارلس کی اہلیہ کیملا پارکر باؤلز (جن کے پاس اب شریک حیات ملکہ کا خطاب ہے) اور بادشاہ کے بیٹے اور ویلز کے نئے شہزادے ولیم بھی موجود تھے۔

Labour leader Sir Keir Starmer, former British Prime Ministers Tony Blair, Gordon Brown, Boris Johnson, David Cameron, Theresa May and John Major were in attendance for proclamation of King Charles III

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحزب اختلاف لیبر پاٹی کے سربراہ کیئر سٹیمر، برطانیہ کے سابق وزرائے اعظم گورڈن براؤن، ڈیوڈ کیمرون، بورس جانسن اور ٹریسا مے جنہیں کئی برس تک ملکہ سے ملاقاتیں کرنے کا شرف حاصل رہا ہے، ان سب کے علاوہ لندن شہر کے لارڈ میئر، سینئر ججوں اور دیگر عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

پہلا حصہ: بادشاہ کا نام رکھا گیا

الحاق کونسل کی تقریب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور چارلس صرف دوسرے نصف میں شریک ہوئے۔

سب سے پہلے لارڈ صدر، کنزرویٹو رکنِ پارلیمان پینی مورڈانٹ جنھیں وزیر اعظم لز ٹرس نے 6 ستمبر کو مقرر کیا تھا، اُنھوں نے ملکہ کی موت کا اعلان کیا۔

اس کے بعد اُنھوں نے کونسل کے کلرک سے کہا کہ وہ الحاق کونسل کا اعلان پڑھ کر سنائیں جس میں چارلس کے لیے بادشاہ چارلس سوم کے خطاب کا انتخاب کیا گیا ہے۔

دستاویزات پر دستخط ہونے سے پہلے کمرے میں جمع ہونے والے 200 یا اس سے زیادہ لوگوں نے کہا کہ ’خدا بادشاہ کو محفوظ رکھے۔‘

شہزادہ ولیم، وزیر اعظم لز ٹرس اور آرچ بشپ جسٹن ویلبی یہ سب دیکھ رہے تھے۔

Soildiers participate in a gun salute for Britain's King Charles, following the passing of Britain's Queen Elizabeth

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنفوجیوں نے شاہ چارلس کو توپوں کی سلامی پیش کی

اس کے بعد اس اعلان پر شاہی خاندان کے ارکان، وزیر اعظم، آرچ بشپ آف کینٹربری، لارڈ چانسلر اور ارل مارشل یعنی ڈیوک آف نارفوک نے دستخط کیے جو ریاستی تقریبات کے انعقاد کے ذمہ دار ہیں۔

Gun salute new Tower Bridge, London

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنٹاور برج پر توپوں کی سلامی

دستخطوں کے بعد محترمہ مورڈانٹ نے خاموشی اختیار کرنے کا کہا، پھر تقریب میں شامل شاہی رسومات کی جزئیات بیان کیں جن میں وسطی لندن کے ہائیڈ پارک اور ٹاور آف لندن میں توپیں چلانے کی ہدایت کرنا شامل تھا۔

یہ اعلان بیلفاسٹ، کارڈف، ایڈنبرا اور ملک بھر کے دیگر مقامات پر بھی پڑھا گیا۔

حصہ دوم: بادشاہ مخاطب ہوتے ہیں

الحاق کونسل کے دوسرے نصف میں پریوی کونسل نے سینٹ جیمز پیلس کے شاہی دربار میں نئے بادشاہ کا استقبال کیا۔

یہ نئے بادشاہ کے زیر اہتمام پریوی کونسل کا پہلا اجلاس تھا۔

کونسلر ان کے استقبال کے لیے قطار میں کھڑے تھے، ہر کوئی روایت کے تحت کھڑا تھا کہ کوئی بھی پریوی کونسل میں نہیں بیٹھتا۔

کونسل سے جذباتی طور پر پہلے خطاب میں نئے بادشاہ نے اپنی ’پیاری ماں کی زندگی بھر کی خدمات‘ کے بارے میں بات کی اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم سب کو جو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے اس میں پوری دنیا مجھ سے ہمدردی رکھتی ہے۔

’میری والدہ کا دور حکومت اس کے دورانیے، لگن اور عقیدت میں بے نظیر تھا۔ یہاں تک کہ اس غم میں بھی ان کا وفادار زندگی گزارنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

بادشاہ نے اپنی نئی ذمہ داریوں کے بارے میں بات کی: ’میں اس وراثت اور اہم فرائض اور ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہوں جو اب مجھے منتقل کی جاتی ہیں۔‘

اُنھوں نے ملکہ شریک حیات کمیلا کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ مجھے اپنی پیاری بیوی کی مسلسل حمایت سے بہت حوصلہ ملتا ہے۔

بادشاہ نے کون سے حلف اٹھائے؟

ایکٹ آف یونین کی شرائط کے تحت نئے بادشاہوں کو چرچ آف سکاٹ لینڈ کو برقرار رکھنے اور محفوظ رکھنے کا حلف بھی اٹھانا ہوتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ میں کلیسا اور ریاست کے درمیان اختیارات کی تقسیم ہے۔

چارلس نے پریوی کونسل کے سامنے حلف کی دو نقول پر دستخط کیے۔ عینی شاہدین نے ان حلفوں پر بھی دستخط کیے جن میں پرنس ولیم بھی شامل ہیں جو ویلز کے نئے شہزادے ہیں اور اس کے بعد ملکہ شریک حیات کمیلا ہیں۔

جب آخری گواہ اعلامیے پر دستخط کر رہے تھے تو ایک بینڈ بجنے لگا۔

چارلس ان حلفوں میں سے کسی پر بھی اعتراض کر سکتے تھے جو اُنھیں کرنے کے لیے کہا گیا تھا، آخری مرتبہ 1910 میں بادشاہ جارج پنجم نے حلف میں شامل کیتھولک مخالف الفاظ کا اعلان کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

بالکنی میں کیا ہوا؟

اس کے بعد کارروائی محل کے باہر منتقل ہوگئی۔

Trumpeter in Charles III's proclamation ceremony

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عوام کو شاہ چارلس سوم کے اعلان کی گواہی دینے کے لیے مال سے فریری کورٹ میں داخل کروایا گیا تھا۔

دربار میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز برائنٹ نے اطلاع دی کہ ’عوام اپنے پالتو جانوروں کو لے کر آئے تھے، بہت سے لوگوں نے پھول پکڑے ہوئے تھے، ایک بچہ سپائیڈر مین پاجامے میں ملبوس تھا، معذور افراد اپنے خود کار سکوٹروں پر آئے تھے۔‘

The proclamation of Britain's new King, King Charles III, was read from the Friary Court balcony of St James's Palace in London

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبادشاہ مقرر ہونے کا فرمان بالکنی سے پڑھ کر سنایا گیا

گارٹر کنگ آف آرمز اعلان پڑھنے کے لیے فریری کورٹ کے اوپر بالکنی پر گئے اور بگل بجانے والوں نے بگل بجا کر شاہی سلامی پیش کی۔

اس کے بعد سات دہائیوں میں پہلی بار قومی ترانہ’گاڈ سیو دی کنگ‘ کے الفاظ کے ساتھ بجایا گیا۔

اس کے بعد اجتماعی جشن منایا گیا۔ گارٹر کنگ آف آرمز نے اعلان کیا: 'بادشاہ کے لیے تین خوشیاں۔ ہپ ہپ...‘ کنگز گارڈ نے تین بار ’ہورے‘ کا جواب دیا، جبکہ سر کے اوپر اپنی ریچھ کی جلد کی ٹوپیاں بلند کیں۔

اس کے بعد ریاستی ترانے بجانے والوں اور ہرکاروں نے گاڑیوں کا ایک جلوس تشکیل دیا۔ وہ لندن شہر میں رائل ایکسچینج گئے جہاں یہ شاہی فرمان پڑھا گیا۔

اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟

Lord President of the Privy Council (currently Penny Mordaunt MP)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپریوی کونسل کی صدر نے تقریب کی سربراہی کی
Charles III's proclamation ceremony

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشاہ چارلس سوئم ملکہ کی وفات کے بعد قانوناً بادشاہ بن گئے تھے لیکن یہ رسم ادا کی جانی تھی

تقریب کا اختتام اس وقت ہوا جب پریوی کونسل کے کلرک نے چارلس کو ’بادشاہ، دولت مشترکہ کا سربراہ، عقیدے کا محافظ‘ قرار دینے سے پہلے اعلان کیا کہ ’گاڈ سیو دی کنگ۔‘

پینی مورڈانٹ نے شاہی احکامات کے مسودوں کو پڑھ کر تقریب کا اختتام کیا جن کی شاہ چارلس سوم نے ایک ایک کر کے منظوری دی۔

ان میں سے ایک ملکہ کے جنازے کے دن کے لیے ایک دن کی عام تعطیل یا برطانیہ میں جسے بینک ہالیڈے کہا جاتا ہے کا اعلان شامل تھا۔

لیکن اب چارلس کی تخت نشینی کی تقریب منعقد ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ فروری 1952 میں ملکہ الزبتھ کے والد شاہ جارج ششم کی موت اور جون 1953 میں ان کی تخت نشینی کے درمیان تقریبا 16 ماہ لگ گئے تھے۔

Soldiers participate in a gun salute for Britain's King Charles

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنملک کے کئی حصوں میں اور لندن میں توپوں کی سلامی ہوئی