ٹرمپ نے ممکنہ طور پر فلوریڈا کے گھر میں خفیہ دستاویزات چھپا دی ہوں، سرکاری اہلکار

،تصویر کا ذریعہUS Department of Justice
- مصنف, مرلن تھامس اور اولیور سلو
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکہ کی وزارتِ انصاف نے کہا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں ان کے گھر پر ایف بی آئی کے چھاپے سے پہلے شاید وہاں سے دستاویزات چھپا یا ہٹا ہی لی ہوں۔
ادارے کی طرف سے عدالت میں جمع کرائے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی تحقیقات کو روکنے کے لیے ممکنہ طور پر کوششیں کی گئی تھی۔
یہ بیان جاری مقدمے کے کچھ حصے کی نگرانی کے لیے ٹرمپ کے ایک ’غیر جانبدار‘ وکیل، جسے ’سپیشل ماسٹر‘ کہا جاتا ہے‘ بنائے جانے کی درخواست کے جواب میں دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کسی بھی قسم کے غلط کام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اشیا ڈی کلاسیفائیڈ (غیر مخفی) تھیں۔
اپنا دفتر چھوڑتے وقت امریکی صدور کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ وہ تمام دستاویزات اور ای میلز نیشنل آرکائیوز میں منتقل کر دیں۔
منگل کو جاری کی گئی فائلنگ میں محکمہ انصاف کے کاؤنٹر انٹیلیجنس چیف جے بریٹ نے سابق صدر سے دستاویزات حاصل کرنے کی محکمے کی کوششوں کی اب تک کی سب سے واضح تصویر پیش کی ہے۔
نیشنل آرکائیوز کی ٹیم جنوری میں ٹرمپ کے مار۔اے۔لاگو کے گھر گئی، جون میں ایف بی آئی کی ٹیم نے وہاں کا دورہ کیا، اور 8 اگست کو ایف بی آئی نے گھر کی تلاشی لی۔
یہ بھی پڑھیئے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف بی آئی اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ٹرمپ نے جنوری 2021 میں عہدہ چھوڑنے کے بعد ریکارڈ کو وائٹ ہاؤس سے مار-اے-لاگو لے جانے کی غلطی تو نہیں کی تھی۔
مار۔اے۔لاگو کون، کب اور کیوں گیا؟
جنوری میں نیشنل آرکائیوز نے مار۔اے۔لاگو سے وائٹ ہاؤس کے ریکارڈ کے 15 باکسز حاصل کیے، وہاں انھیں باکسز میں انتہائی کلاسیفائیڈ ریکارڈز ملے۔ ان کے کچھ صفحات پھٹے ہوئے بھی تھے۔
باکسز میں ’انتہائی کلاسیفائیڈ رپورٹس‘ کے بارے میں جاننے کے بعد، محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے تحقیقات شروع کیں جن میں اس بات کا ثبوت ملا کہ ’درجنوں اضافی بکسز‘ جن میں ممکنہ طور پر خفیہ معلومات ہیں صدر ٹرمپ کے اس گھر میں موجود ہیں۔
3 جون کو ایف بی آئی کے تین ایجنٹس اور ایک ڈی او جے (ڈپارٹمنٹ آف جسٹس) اٹارنی مواد اکٹھا کرنے کے لیے مار۔اے۔لاگو پہنچے۔ سابق صدر کے وکلاء کے مطابق، انھوں نے ان سے کہا: ’آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو، بس ہمیں بتائیں۔‘
لیکن تازہ ترین فائلنگ کے مطابق سابق صدر کے نمائندوں نے ایجنٹوں کو ٹرمپ کی جائیداد کے سٹور کے اندر کسی بھی باکس کی تلاشی لینے سے ’واضح طور پر منع‘ کیا تھا۔
ڈی او جے کے آفیسر بریٹ نے بتایا کہ اس سے حکومت کو یہ تصدیق کرنے کا کوئی موقع نہیں ملا کہ گھر کے اندر کوئی خفیہ دستاویزات باقی نہیں رہی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ شواہد بھی پائے گئے کہ ممکنہ طور پر ریکارڈز کو چھپایا اور ہٹایا گیا اور ممکنہ طور پر کوششیں کی گئیں کہ تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالی جائیں۔
جون کے دورے کے بعد ایف بی آئی کی ٹیموں نے اگست میں ٹرمپ کی جائیداد کی دوبارہ تلاشی لی، جہاں انھیں سو سے زائد خفیہ دستاویزات ملیں۔
اس وقت ٹرمپ نے اسے فیک نیوز کہہ کر اس بات کی تردید کہ انھوں نے سرکاری ریکارڈ کو غلط طریقے سے استعمال کیا ہے۔
وہ اس کی تفصیلی فہرست کے لیے مقدمہ کر رہے ہیں کہ ان کی جائیداد سے کیا کچھ اٹھایا گیا تھا، اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایسی کوئی بھی چیز واپس کرے جو سرچ وارنٹ کے دائرہ کار میں نہیں تھی۔
ٹرمپ کے وکلاء کہتے ہیں کہ ایک ’غیر جانبدار‘ تھرڈ پارٹی اٹارنی کو لایا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ضبط کی گئی فائلیں ایگزیکٹو استحقاق کے تحت آتی ہیں، جو صدر کو کچھ مواصلات کو خفیہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
لیکن تازہ ترین عدالتی فائلنگ میں کہا گیا ہے کہ تلاشی کے وارنٹ میں ضبط کیا گیا ہر صدارتی ریکارڈ ’امریکہ کا ہے، سابق صدر کا نہیں۔‘

ٹرمپ تحقیقات کی ٹائم لائن
- جنوری 2022 - نیشنل آرکائیوز نے مار۔اے۔لاگو سے وائٹ ہاؤس کے ریکارڈ کے 15 بکس حاصل کیے، اور کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اختتام پر موصول ہونے والی کچھ دستاویزات کو پھاڑ دیا گیا تھا
- فروری - رپورٹس سامنے آئیں کہ مار۔اے۔لاگو سے خفیہ فائلیں ملیں اور نیشنل آرکائیوز نے ڈی او جے (ڈپارٹمنٹ آف جسٹس) سے تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔
- اپریل - امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی نے ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔
- 3 جون - ایک اعلیٰ ڈی او جے اہلکار اور ایف بی آئی کے تین ایجنٹ ایک تہہ خانے میں اشیاء کا جائزہ لینے کے لیے مار۔اے۔لاگو گئے۔ ٹرمپ کے مطابق انھوں نے ان سے کہا: ’آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو، بس ہمیں بتائیں۔‘
- 8 جون - وفاقی تفتیش کاروں نے ٹرمپ کے ایک معاون کو لکھا کہ اشیاء کو ذخیرہ کرنے والے کمرے کو محفوظ بنانے کے لیے ایک مضبوط تالے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ درخواست جلد پوری کر دی گئی۔
- 22 جون - ٹرمپ آرگنائزیشن کو مار۔اے۔لاگو کی سی سی ٹی وی فٹیج دکھانے کا سمن موصول ہوا۔
- 8 اگست - وارنٹ کے مطابق درجنوں ایجنٹوں نے مار۔اے۔لاگو کی تلاشی لی، 20 سے زیادہ بکس ضبط کیے گئے، جن میں سے کچھ میں خفیہ فائلیں بھی تھیں۔











