کوائیٹ کوئٹنگ: دفاتر میں کام سے متعلق ٹک ٹاک کا یہ ٹرینڈ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ایمن خواجہ
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
کیا آپ کو کبھی ایسا لگا ہے کہ آپ اپنی ملازمت پر ضرورت سے زیادہ کام کرتے ہیں جس کا آپ کو اجر بھی نہیں ملتا لیکن پھر بھی آپ یہ کام چھوڑ نہیں سکتے۔یا آپ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جتنی اجرت ملتی ہے اتنا ہی کام کرنا چاہیے اور اضافی تنخواہ کے بغیر اضافی کام نہیں کرنا چاہیے۔
آپ جو بھی ہیں لیکن رواں ہفتے دفتروں کے حوالے سے ٹک ٹاک پر چلنے والے ٹرینڈ تو دیکھے ہوں گے۔ اسے ’کوائیٹ کوئیٹنگ‘( quiet quitting) کہتے ہیں۔ الفاظ کے اس مرکب کا کوئی ایک مطلب نہیں ہے۔
کچھ کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی ملازمت کو اپنی زندگی پر ترجیح نہ دیں اور اپنی ملازمت کی شرائط سے زیادہ کام نہ کریں۔ کوائیٹ کوئیٹنگ کا یہ مطلب نکالنے والوں کے مطابق کام ضابطے اور اصول کے مطابق کام کرنا چاہیے اور مقررہ وقت پر کام ختم کرنا چاہیے۔ زندگی اور کام میں توازن کے لیے ملازمت کے اوقات کے بعد ایمیلز کو چیک نہ کریں۔
البتہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کوائیٹ کوئیٹنگ کا مطلب ہے کہ آپ خود کو ذہنی اور جذباتی طور پر یہ باور کرائیں کہ کام اتنا ہی کریں جتنا ضروری ہے۔
ٹک ٹاک پر چلنے والے اس ہیش ٹیگ (#Quietquitting) کے بارے میں تھوڑی سے سرچ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ٹرینڈ پر چالیس ملین لوگوں نے اس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی نظریہ
کیتھرین بیری کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے اور وہ یوٹیوب ولاگر ہیں۔ وہ اپنی سیلز کی جاب سے نالاں تھی اور زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے حال ہی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں انھوں اپنی ملازمت کو خیر باد کہنے کے تجربے کے بارے میں بات کی ہے۔ بہت سے لوگوں نے ان کی ویڈیو میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔
کیتھرین بیری کا کہنا ہے ’میں نے محسوس کیا ہے کہ امریکیوں کی نظر کوائیٹ کوئیٹنگ کا مطلب باقی دنیا کے لوگوں سے مختلف ہے۔
یہ درحقیقت امریکی نظریہ ہے۔ بہت سے لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ فقرہ کیونکر ایجاد ہوا ہے۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں’کہ میں تو سویڈن میں رہتا ہوں، میرے کام کا طریقہ ہی یہ ہے۔ میں یہاں چیف ایگزیکٹو بننے کی کوشش نہیں کر رہا ہوں کہ تین لوگوں کا کام کروں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں سلیکون ویلی میں پلی بڑھی ہوئی جہاں زندگی کی رفتار بہت تیز ہے، کام کے بارے میں فکرمندی اور سرمایہ دارانہ سوچ ہے۔ مجھے یہ ہی سکھایا گیا کہ اپنی جاب کو ہر چیز پر اولیت دو۔‘

،تصویر کا ذریعہ@Katherout Instagram
کام کی تھکاوٹ
کیتھرین اکیلی نہیں ہے۔ گذشتہ برس چالیس لاکھ امریکیوں نے نوکریاں چھوڑ دی ہیں جسے کچھ معاشی ماہرین استعفوں کا رحجان قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف لیبر کے مطابق اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے ملازمتوں سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔
کیتھرین کہتی ہیں کہ بہت دفعہ آپ کام کر کے تھک جاتے ہیں اور آپ کو وہاں اپنا کوئی مستقبل بھی نظر نہیں آتا لیکن آپ بھر بھی خود کو دوسری جاب ڈھونڈنے کے مشکل مرحلے میں نہیں ڈالتے جہاں آپ درخواستیں جمع کرایں، انٹرویوز دیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ تو پھر ایک مرحلہ آتا ہے کہ آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ میں یہاں صرف اتنا ہی کام کروں گا جتنا ضروری ہے اور اس سے زیادہ نہیں کروں اور اپنے آپ پر بوجھ نہیں ڈالوں گا۔
چوبیس سالہ پیچ ویسٹ امریکہ سے ہیں اور وہ بزنس آپریشن فری لانسر ہیں۔ وہ ایک جاب کرتی تھیں جہاں انھیں اچھی اجرت ملتی تھی لیکن کام کی نوعیت ایسی تھی کہ وہ ہمیشہ خود کو پریشر میں محسوس کرتی تھیں۔ گذشتہ سال ایک ہفتہ ایسا بھی آیا جب پیچ ویسٹ کام کے پریشر کے ہاتھوں بے بس ہو گئیں۔

،تصویر کا ذریعہPaige West
’میں اتنی پریشان تھی کہ میں پورا ہفتہ صحیح طرح سو بھی نہیں پائی تھی اور کچھ ایسا تھا کہ کوائیٹ کوئٹنگ بھی نہیں کر سکتی تھی۔‘
میری جسمانی اور ذہنی صحت خراب ہونے لگی، میرے بال جھڑنے لگے، میں بے خوابی میں مبتلا ہو گئی، اور جب بھی کام کرنے کے لیے ڈیسک پر بیٹھتی تو مجھے متلی ہونے لگتی۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے کچھ کرنا ہو گا لیکن میں اس وقت تک اس ملازمت کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا تھا۔ میں لگی رہی اور ایک سال تک کوائیٹ کوئٹنگ کرتی رہی۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے ملازمت چھوڑنے کے لیے تین ہفتوں کا نوٹس دیا تو ان کے افسران حیران تھے۔ کئی افسران نے مجھ سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہیں اور کیا وہ اس کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔
’انھوں نے یہ تجویز بھی دی کہ وہ کچھ چھٹی لے لیں۔ لیکن مجھے لگا کہ اس معاملے کو التوا میں ڈالنے سے کچھ بہتر نہیں ہو گا اور بالاخر مجھے یہ ملازمت چھوڑنی ہی پڑے گی۔‘
’میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں جو اپنی ملازمت سے خوش نہیں ہیں ان کو کسی ایسے شخص سے بات کرنی چاہیے جس پر انھیں اعتماد ہو، خواہ کوئی مینجر ہو یا کو ساتھ کام کرنے والا۔ لیکن میں اس سطح پر پہنچ چکی تھی جہاں میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ جاب میرے لیے نہیں ہے۔‘
لوگ نہیں منافع اہم
بہت دفعہ تو ملازمین کے پاس دفتر کے ہیومن ریسورس شعبے کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ ہی ہوتا۔ اکثر ملازمین کی ایچ آر کے شعبے کے بارے زیادہ اچھی رائے نہیں ہے۔ ایک جائزے کے مطابق 70 فیصد ملازمین کو ہیومن ریسورس شعبے پر اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ وہ بھی اسی کمپنی کے لیے ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہLeigh Henderson
ایلینا ہینڈرسن سان اینٹونیو، ٹیکساس سے تعلق رکھتی اور کیرئر کوچ ہیں۔ لے ایلینا ہینڈرسن کی طرح ہیومین ریسورس شعبے کے کچھ ایگزیکٹو تو ملازمین کے حامی ہوتے ہیں۔
ایلینا ہینڈرسن ایک گروپ بھی چلاتی ہیں جہاں وہ ’زہریلے ماحول‘ والے دفاتر میں کام کرنے والوں کی مدد کرتی ہیں اور انھیں اس ماحول سے نکلنے کے گر سکھاتی ہیں۔
ایلینا تسلیم کرتی ہیں کہ بدقسمتی سے ہیومن ریسورس شعبے کے افسران محکمے کے اعلی افسران سے ہدایات لیتےہیں اور اسے کئی بار ملازمین کی حمایت کرنے اور افسران کی بات نہ ماننے پر اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔
وہ کہتی ہیں ’بدقسمی سے بعض آرگنائزیشنز بہت کوتاہ نظر ہوتی ہیں اور وہ ہمیشہ منافع کو انسانوں پر ترجیح دیتی ہیں۔‘ انھیں کاروبار، تسلسل، اور پائیداری کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ اگر انھیں معلوم ہو تو انھیں پتہ چلے کہ لوگوں کو اہمیت دینا ہی ان کے لیے فائدہ مند ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انسانی بحران
کوائیٹ کوئیٹنگ دراصل ملازمین پر الزام لگانے کی ایک قسم ہےجہاں کام میں عدم دلچسپی کا سارا الزام ملازمین پر دھر دیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ آجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ورکر کو کام کی وجہ اور مقصد مہیا کرے۔
’لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بطور معاشرہ ہم کتنے بے وقوف ہیں کہ کارکنوں کا استحصال کے حوالے ایک ٹرم ایجاد ہو چکی ہے۔ اگر ملازم کام اور زندگی میں توازن کا تقاضا کریں تو ان کے لیے اس قسم کی منفی ٹرم بھی ایجاد کر لی گئی ہے۔‘
’میں سمجھی ہوں کہ یہ محکموں کی ناکامی کی ایک ثبوت ہے کہ وہ اپنی ورک فورس کا خیال نہیں رکھ پا رہے۔‘
نوجوان نسل (جنریش زی) کاہل ہے
پیج ویسٹ کا کہنا ہے کہ کوائیٹ کوئیٹنگ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے۔ نوجوان نسل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کاہل ہیں اور ان کے نخرے ہیں۔
’یہ کچھ عرصے سے ہو رہا ہے لیکن ماضی کی نسبت اب لوگ اس کے بارے میں زیادہ بات کر رہے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میں نے پہلی بار کوائیٹ کوئیٹنگ کے بارے میں ویڈیو پوسٹ کی تو مجھ سے زیادہ عمر کے لوگوں نے کہا کہ میں نے جو بات کی وہ ان کے دل کو لگتی ہے۔‘
’میں سمجھتی ہوں کہ نوجوان نسل اس کے بارے میں اس لیے بات کر رہی ہے کیونکہ ہم سوشل میڈیا کے دور میں بڑے ہوئے ہیں اور ہم جس کے بارے میں محسوس کرتے ہیں اس کے بارے میں بات کرنے میں ہمیں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس آگاہی کی وجہ حالیہ وبا اور معاشی غیر یقینی ہے۔
نوجوان نسل ایسے معاملات پر بات کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی، خواہ دفتر سے دوری سے کام کی سہولت ہو یا اچھی اجرت، سماجی یا ماحولیاتی ذمہ داری ہو۔
امریکہ میں 2022 کے ایک سروے میں سامنے آیا ہے کہ نوجوان نسل دوسروں سے زیادہ اپنی تھکاؤٹ کے بارے بات کرتے ہیں۔ برطانیہ میں 2021 میں ایک سروے میں نوجوان نسل کی 80 فیصد نے کووڈ کی وبا کے دوران کام کی تھکاوٹ کی شکایت کی ہے۔
ایک اور جائزے میں نوجوان نسل ایسے کمپنیوں میں ملازمت کے خواہاں ہیں جہاں کام اور زندگی میں ایک توازن کو ترجیح دی جائے۔
امریکہ واحد ملک نہیں ہے جہاں کوائیٹ کوئیٹنگ کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔ درحقیقت کچھ کا کہنا ہے کام کے حوالے سے چین میں استعمال ہونے والی ایک ٹرم ٹینگ پنگ (#tangping,) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ’ لیٹ جاؤ‘۔ البتہ چین میں اب یہ ٹرم سینسر کی نظر ہو گئی ہے۔
سخت محنت اور کم اجرت کے ماحول میں کام کرنے والے نوجوان اب کام کرنے کے ماحول میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔.
چین میں لیبر فورس کم ہو رہی ہے اور نوجوانوں کو مقررہ اوقات سے کئی گھنٹے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
چین میں ٹینگ پنگ کے خیال ، یعنی ضرورت سے زیادہ کام سے پرھیز اور خود کو آرام کے لیے وقت دینے کے حوالے سے بات کو بہت لوگوں نے پسند کیا اور اس سے متاثر ہو کر میمز بھی بنائی گئیں۔











