میانمار میں جمہوریت پسند کارکنوں کو سزائے موت: چین کسی کے اندرونی معاملات میں مداخت نہیں کرتا، چین کا امریکہ کے مطالبے پر جواب

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, زبیدہ عبدالجلیل، ملیسا زو
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکہ نے میانمار میں چار جمہوریت پسند کارکنوں کی سزائے موت کے بعد چین سے کہا ہے کہ وہ میانمار کی فوجی جنتا پر دباؤ بڑھائے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ’چین میانمار پر کسی اور ملک کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتا ہے۔‘
لیکن چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جواب میں کہا ہے کہ ان کا ملک دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔
واضح رہے کہ میانمار کی فوج نے سابق رکن اسمبلی سمیت چار جمہوریت پسند کارکنوں کو حال ہی میں سزائے موت دی ہے۔
سابق قانون ساز پھیو زیا تھا، مصنف اور سماجی کارکن کو جمی، ہلا میو آنگ اور آنگ تھورا زا پر دہشت گردی کا الزام تھا۔
’میانمار کی فوج کے ساتھ معمول کے مطابق برتاؤ نہیں رکھا جا سکتا‘
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ میانمار کی فوجی جنتا کے ساتھ معمول کے مطابق برتاؤ نہیں رکھا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت ایسے تمام اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے جن سے میانمار کی فوجی حکومت کے مالی وسائل روکے جا سکیں۔
انھوں نے میانمار کو فوجی اسلحہ فراہم کرنے والے تمام ممالک سے کہا کہ وہ ’فروخت پر پابندی لگا دیں اور کسی قسم کی بین الاقوامی ساکھ فراہم کرنے سے گریز کریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’ہم دنیا بھر کے ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ پہلے سے زیادہ اس معاملے پر کچھ کریں۔ ہم بھی کریں گے۔‘
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان سے جب میانمار فوج کی جانب سے جمہوریت پسند کارکنوں کو دی جانے والی موت کی سزا پر سوال کیا گیا، تو زاؤ لیجیان نے کہا کہ ’میانمار کو چاہیے کہ اپنے قوانین اور آئین کو استعمال کرتے ہوئے مسائل حل کرے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار میں سنہ 1988 کے بعد پہلی بار موت کی سزا پر عمل
ان سزاؤں کا اعلان جون میں میانمار کی فوج کی جانب سے کیا گیا تھا، جس نے 2021 میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس فیصلے کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔
میانمار کی فوج نے فروری سنہ 2021 میں آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی کی منتخب حکومت گرا دی تھی جس کے بعد ملک میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو سختی سے کچل دیا گیا تھا۔
فوج کی مخالفت میں میانمار کی سیاسی جماعتوں نے نام نہاد قومی اتحاد کی حکومت کا اعلان کیا۔ یہ اتحاد میانمار کی جمہوریت پسند شخصیات، مسلح نسلی گروہوں کے نمائندوں اور آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی پر مشتمل ہے جن کی جانب سے ان سزاؤں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ’نہایت افسردہ اور صدمے میں ہیں۔‘
اتحاد کی جانب سے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ’قاتل فوجی جنتا کو ظلم اور ہلاکتوں پر سزا دیں۔‘
ادھر میانمار کے سرکاری خبر رساں ادارے گلوبل نیوز لائٹ آف میانمار نے کہا ہے کہ ’ان چار افراد کو غیر انسانی دہشت گردی کے واقعات کی ہدایات دینے، انتظامات کرنے اور سازش کرنے پر موت کی سزا دی گئی۔‘
گلوبل نیوز لائٹ آف میانمار کے مطابق ان چاروں افراد کو ملک کے انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت سزا دی گئی۔ یہ سزا کب اور کیسے دی گئی، یہ تفصیلات اب تک فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق میانمار میں سنہ 1988 کے بعد پہلی بار موت کی سزا پر عمل کیا گیا ہے۔ ماضی میں میانمار میں موت کی سزا پھانسی کے ذریعے دی جاتی تھی۔
بی بی سی برما کے مطابق ان چاروں افراد کے اہلخانہ ملک کے دارالحکومت ینگون کی انسین جیل میں حکام سے سوال کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
سزا پانے والے کو جمی کی بہن نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک لاشیں ان کے حوالے نہیں کی گئیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ساز پھیو زیا تھا کی اہلیہ تھزین نیئنت آنگ نے کہا کہ ان کے شوہر کی سزا کے نیتجے میں موت کے بارے میں ان کو نہیں بتایا گیا۔ ان چاروں افراد کے اہلخانہ کی جانب سے سزا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے درخواست جمع کرائی گئی ہے۔
ان چار افراد کا مقدمہ بند دروازوں کے پیچھے چلایا گیا جس کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے غیر منصفانہ اور غیر شفاف قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پھیو زیا تھا اور کیوا من یو، جن کو جمی کو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس میں ان کو کامیابی نہیں ہوئی۔
میانمار میں جمہوریت پسند افراد کے خلاف فوج کا کارروائی
53 سالہ کو جمی برما کی جمہوریت پسند تحریک 88 سٹوڈنٹس گروپ کے رکن رہے جس کو سنہ 1988 میں فوج مخالف طلبا تحریک کی وجہ سے شہرت ملی۔ وہ متعدد بار جمہوریت پسند تحریک کا حصہ بننے کی وجہ سے قید بھی کاٹ چکے تھے۔ ان کو سنہ 2012 میں رہا کر دیا گیا تھا۔
گذشتہ سال اکتوبر میں ان کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے دارالحکومت ینگون کے ایک اپارٹمنٹ میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد چھپایا اور نام نہاد قومی اتحاد حکومت کے مشیر کے طور پر کام کیا۔
41 سالہ پھیو زیا تھا کو آنگ سان سوچی کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے جو ان کی جماعت کی جانب سے قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters
وہ ایک سابق ہپ ہاپ فنکار تھے جو فوج مخالف گیتوں کی وجہ سے اکثر مشکلات کا سامنا کرتے تھے۔ ان کو نومبر میں مبینہ دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔
باقی دو کارکنوں، ہلا میو آنگ اور آنگ تھورا زا، کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں۔ ان کو فوجی جنتا کو معلومات فراہم کرنے والی ایک خاتون کو قتل کرنے کے الزام پر موت کی سزا دی گئی۔
ادھر یورپی یونین، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، نیوزی لینڈ، ناروے، جنوبی کوریا، برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں میانمار میں دی جانے والی سزا کو ’ایسا قابل مذمت پرتشدد عمل قرار دیا جو میانمار کی فوجی جنتا کی جانب سے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کی تازہ ترین مثال ہے۔‘
اس بیان میں میانمار پر زور دیا گیا کہ جنوب مشرقی ایشیا ممالک کی ایسوسی ایشن آسیان کی مدد سے طےشدہ معاہدے کے تحت مزاکرات کے ذریعے ملک میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری پر عمل درآمد کرے۔
تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میانمار میں امریکہ کے سابق سفیر سکاٹ مارسئیل نے کہا کہ ’آسیان کا منصوبہ تو گذشتہ سال ہی وفات پا چکا تھا۔‘ انھوں نے میانمار کی جمہوری تحریک کے حامی ممالک سے کہا کہ وہ مدد کے لیے کام کریں۔
’اس معاہدے کو اکثر آگے بڑھنے کا حل بتایا جاتا ہے جبکہ دراصل ایسا کچھ نہیں ہے۔‘
یاد رہے کہ آسیان سمیت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چیف مشیل بیچلیٹ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان سزاوں کی مذمت کی ہے۔
مشیل بیچلیٹ نے کہا کہ ’یہ ظالمانہ قدم فوجی جنتا کی اس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت ملک میں اپنی ہی عوام کو دبایا جا رہا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوترش نے میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے چار کارکنوں کو سزا دینے کے فیصلے کو ’انسانی جان کے حق اور آزادی کے حق کی کھلم کھلا خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
دوسری جانب میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے مقامی ملیشیا اور اپوزیشن کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔ ایسے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے جن کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ وہ فوج مخالف خیالات رکھتے ہیں۔
میانمار کی فوج کا دعویٰ ہے کہ ملک میں عام انتخابات، جن میں آنگ سان سوچی کی جماعت کو بھاری اکثریت ملی، میں دھاندلی کی گئی۔ میانمار کے الیکشن کمیشن کے حکام اس الزام کو رد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق الیکشن میں دھاندلی کے کوئی شواہد موجود نہیں۔
جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے آنگ سان سوچی کو ان کے گھر پر نظر بند رکھا گیا ہے اور ان کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں ملک کے سرکاری سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام بھی شامل ہے۔ اس مقدمے میں 150 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
ایسوسی ایشن فور پولیٹیکل پرزنرز یعنی ایسوسی ایشن برائے سیاسی قیدی، جو میانمار میں ہلاک اور قید ہونے والوں کے اعدادوشمار رکھتی ہے، کے مطابق اب تک 14847 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 2114 کو فوجی اہلکاروں نے ہلاک کیا ہے۔













