پارٹی میں بغاوت کے باوجود برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب

بورس اعتماد کا ووٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے خلاف پارٹی میں بغاوت کے باوجود اعتماد کے ووٹ میں 211 ارکان کی حمایت کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔

پیر کو برطانیہ کی حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کے ارکان پارلیمان نے بورس جانسن پر اعتماد کے ووٹ کی کارروائی میں حصہ لیا جہاں 211 ارکان نے ان کے حق میں اور 148 ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیے، یعنی انھوں نے 63 ووٹوں کی برتری سے اپنی وزارت عظمیٰ کو بچا لیا ہے۔

1922 کمیٹی آف بیک بینچ کنزرویٹوز کے چیئرمین سر گراہم بریڈی نے خفیہ رائے شماری کے بعد اعلان کیا کہ ’پارلیمانی جماعت کو وزیر اعظم پر اعتماد ہے۔‘

بورس جانسن نے ان ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کا ساتھ دیا اور کہا کہ ’اب ہمیں بطور حکومت اور پارٹی متحد ہونے کی ضرورت ہے۔‘ دوسری طرف ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے لیبر پارٹی کے رہنما سر کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ کنزرویٹو ارکان میں واضح تقسیم پائی جاتی ہے اور مسائل کے حل کے لیے ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

بورس جانسن نے کنزرویٹو پارٹی میں مجموعی طور پر 58.8 فیصد حمایت حاصل کی ہے جبکہ 41.2 فیصد ارکان نے ان کی مخالفت کی ہے۔ اس کارروائی میں تمام ٹوری ارکان نے حصہ لیا۔ سنہ 2018 میں ایسی ہی ایک اعتماد کے ووٹ کی کارروائی میں ٹریزا مے نے جماعت کی 63 فیصد حمایت حاصل کی تھی۔

ان کی حکومت کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب کورونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں قوائد و ضوابط کی خلاف ورزیوں سے متعلق سیو گرے رپورٹ سامنے آئی اور بعض ارکان نے اس پر غصے کا اظہار کیا۔ بورس جانسن نے شراب نوشی سے بھرپور ان پارٹیوں پر معافی بھی مانگی تھی۔

’اس کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ٹل گیا‘

بی بی سی کے پولیٹیکل ایڈیٹر کرس میسن کا کہنا ہے کہ 148 ٹوری ارکان کو لگتا ہے کہ بورس جانسن کے بغیر ملک بہتر انداز میں ترقی کر سکتا ہے۔ ٹریزا مے نے اعتماد کے ووٹ میں اس سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل کی تھی مگر اس کے بعد ان کی حکومت چھ ماہ میں ختم ہوگئی تھی۔

ان کے مطابق بورس جانسن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حالات پہلے سے مختلف ہیں مگر اس ووٹ کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ پارٹی میں ارکان کی اس قدر بڑی تعداد ان کی مخالفت کرتی ہے۔

بورس اعتماد کا ووٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبورس جانسن کے خلاف نعرے بازی کی گئی جب وہ ملکہ برطانیہ کی تاج پوشی کی پلاٹینیم جوبلی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے

ان کی مخالفت کرنے والے ارکان کا خیال ہے کہ وہ یہ جنگ ہار چکے ہیں کیونکہ انھیں تبدیل کرنے کی کوششیں اب جاری رہیں گی۔

سیاسی امور کے نامہ نگار ایئن واٹسن کا کہنا ہے کہ بعض وزرا اور مشیروں نے وزیر اعظم کی حمایت نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق اب بورس جانسن کو پارٹی میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔

بورس جانسن کی حکومت مشکل میں کیوں پڑی؟

انتخابی کامیابی کے بعد 2019 میں وزیر اعظم بننے والے بورس جانسن کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے اور وزیر اعظم کی رہائشگاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے عملے نے برطانیہ میں کووڈ 19 کی وبا سے نمٹنے کے لیے سخت لاک ڈاؤن کے دوران شراب سے بھرپور پارٹیاں منعقد کی تھیں۔

ان کی جماعت کے اندر ان کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے کا اظہار حال ہی میں اس وقت سامنے آیا جب ملکہ الزبتھ کی تاج پوشی کی پلاٹینم جوبلی منانے کے لیے ہونے والے پروگراموں میں ان کے خلاف نعرے بازی اور طنز کیا گیا جس پر کئی ارکان خاموشی سے محظوظ ہوتے ہوئے دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیے

پیر کے روز، ایک بار بظاہر ناقابل تسخیر جانسن کو اپنی ایک قریبی ساتھی جیسی نارمن کی بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جو ایک سابق جونیئر وزیر ہیں، جنھوں نے کہا کہ 57 سالہ وزیر اعظم کے اقتدار میں رہنے سے ووٹروں اور پارٹی دونوں کی توہین ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، جیسی نے کہا کہ 'آپ نے کووڈ کے سلسلے میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پر قانون توڑنے کے کلچر کو فروغ دیا۔' انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس 'بڑی اکثریت ہے، لیکن کوئی طویل مدتی منصوبہ نہیں۔‘

جیسی نارمن قدامت پسند قانون سازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں سے ایک ہیں جو کھل کر یہ کہتی ہیں کہ بورس جانسن برطانیہ پر حکومت کرنے کا اپنا اختیار کھو چکے ہیں، جس کو بڑھتی ہوئی قیمتوں، کساد بازاری کے خطرے اور دارالحکومت لندن میں ہڑتال سے متاثرہ سفری افراتفری کا سامنا ہے۔

پیر کو لندن میں ریل اور میری ٹائیم کے ملازمین کی جانب سے ہڑتال کی وجہ سے شہر کا تمام زیرِ زمین ٹیوب سسٹم معطل رہا جس کی وجہ سے سارا کاروباری اور مالیاتی نظام تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ اگرچہ ٹیوب سسٹم لندن کے میئر کے ماتحت کام کرتا ہے جو لیبر پارٹی کا ہے، لیکن اس کی حدت پورا ملک محسوس کرتا رہا۔

لیکن لیبر لیڈر سر کیئر اسٹارمر نے ٹوری ایم پیز پر زور دیا کہ وہ 'کچھ جرات کا مظاہرہ کریں' اور ان کے خلاف ووٹ دیں۔

یہ اقدام ایک برطانوی سول سرونٹ کی 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں پارٹیوں پر انکوائری کی رپورٹ، جسے سیو گرے رپورٹ کہا جاتا ہے، پر ردعمل کے بعد شروع ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں نمبر 10 میں ہونے والی پارٹیوں کی لاک ڈاؤن کے اصول و ضوابط توڑنے کی تفصیل دی گئی ہیں۔