بورس جانسن نے انڈیا میں بلڈوزر پر تصویر بنوانے کے لیے ’غلط وقت کا انتخاب کیا‘

بورس جانسن بلڈوزر

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزیر اعظم کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ بلڈوزر پر بیٹھے ہیں

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن انڈیا کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں انھیں برطانیہ کے انڈیا کے ساتھ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور کے بارے میں بات چیت کے ساتھ کچھ مشکل سوالات کا بھی سامنا ہے۔ بورس جانسن کو برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے دوران ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں پارٹیوں کے حوالے سے تنقید کا سامنا تو ہے ہی لیکن انڈیا میں ان کی ایک بلڈوزر پر تصویر بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

اکیس اپریل کو بورس جانسن انڈیا پہنچے اور 16 اپریل کو ہی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ اس کے بعد دلی میں ہی بی جے پی کی حکومت والی دہلی میونسپل کارپوریشن نے 'غیر قانونی تعمیرات' کے خلاف 'تجاوزات ہٹاؤ' مہم شروع کی۔ اس 'مہم' میں بلڈوزر کا استعمال کیا گیا۔

ایسے وقت میں جب انڈیا میں سرکاری بلڈوزروں کے بارے میں میڈیا میں شدید بحث جاری تھی برطانوی وزیر اعظم نے جمعرات کو گجرات میں وڈودرا کے قریب صنعتی علاقے میں ایک جے سی بی فیکٹری کا افتتاح کیا۔

اس افتتاح کے دوران برطانوی وزیر اعظم کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے۔ اس تصویر میں بورس جانسن جے سی بی بلڈوزر کی ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کی اس تصویر پر نہ صرف انڈیا میں بلکہ برطانیہ کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی بحث ہو رہی ہے۔

انڈیا مسلمانوں کے گھر مسمار

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندہلی میونسپل کارپوریشن نے 'غیر قانونی تعمیرات' کے خلاف آپریشن میں بلڈوزر کا استعمال کیا گیا

برطانیہ کے معروف اخبار 'دی انڈ پینڈنٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ برطانوی وزیراعظم جب انڈیا پہنچے تو دہلی کے مسلم اکثریتی علاقے میں جے سی بی کے ذریعے مکانات اور دکانوں کو مسمار کر دیا گیا۔ جہانگیر پوری میں جے سی بی مشین سے مکانات اور دکانوں کو مسمار کرنے کو بھی فرقہ وارانہ تشدد سے جوڑا جا رہا ہے لیکن دہلی انتظامیہ نے اس سے انکار کیا ہے۔

اس دوران جے سی بی پر بیٹھے برطانوی وزیر اعظم کی تصویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے جے سی بی فیکٹری جانے کے لیے بدقسمتی سے غلط وقت کا انتخاب کیا

سوشل میڈیا پر کس نے کیا کہا؟

جے سی بی کے جس نئے پلانٹ کا افتتاح برطانوی وزیر اعظم نے کیا تھا وہ ایک برطانوی کمپنی جوزف سیرل بمفورڈ ایکسویٹر لمیٹڈ ہے۔ انڈیا میں سیاسی مبصرین نے بورس جانسن کی جے سی بی فیکٹری کے افتتاح پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ دہلی کے جہانگیر پوری میں مسلمانوں کی املاک کو جے سی بی سے نشانہ بنایا گیا جس کا افتتاح برطانوی وزیر اعظم کررہے ہیں۔

لوگوں نے جے سی بی کی توڑ پھوڑ کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں اور اس میں کمپنی کا لوگو نمایاں طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ بلڈوزر سے گھروں کو گرانے کے دوران کئی لوگوں کے روتے چہرے بھی ہیں۔

ہارڈ نیوز میگزین کے ایڈیٹر سنجے کپور نے ٹوئٹ کیا، 'حیرت انگیز ستم ظریفی! برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ہلول میں بلڈوزر پلانٹ کا افتتاح کریں گے جبکہ سپریم کورٹ انتظامیہ کی جانب سے بلڈوزر کے استعمال پر آئینی حدود کا نوٹس لے رہی ہے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

صحافی دانش خان نے لکھا ہے کہ 'دہلی میں نئی نئی تصویریں سامنے آ رہی ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے باوجود برطانوی وزیراعظم گجرات میں جے سی بی پلانٹ کا افتتاح کریں گے۔

لیبر پارٹی کی برطانوی رکن پارلیمان نے بھی برطانوی پی ایم کے انڈیا دورے کے حوالے سے کئی سوال کیے ہیں۔

ناز شاہ نے ٹوئٹ کیا، 'انڈیا کے دورے پر جانے والے بورس جانسن کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی نہ صرف تجارت پر مبنی ہونی چاہیے، بلکہ اقدار کا بھی احترام کرنا چاہیے اور انسانی حقوق بھی اہم ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

'میری درخواست ہے کہ برطانوی حکومت کو بھی وزیر اعظم مودی کے سامنے اسلامو فوبیا کا مسئلہ اٹھانا چاہیے۔ برطانوی حکومت دنیا بھر میں انسانی حقوق کی وکالت کرتی ہے، اس لیے وہ انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت پر خاموش نہیں رہ سکتی۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انڈیا نے بھی ٹوئٹ کر کے برطانوی وزیر اعظم کو نشانہ بنایا ہے۔

ایمنسٹی انڈیا نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ 'ایک طرف شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری میں مسلمانوں کے مکانات اور دکانوں کو جے سی بی بلڈوزر سے توڑ ا گیا اور دوسری طرف برطانیہ کے وزیر اعظم نے گجرات میں ایک جے سی بی فیکٹری کا افتتاح کیا، وہاں ایک اہم واقعہ پر ان کی خاموشی نا مناسب ہے۔

ایمنسٹی نے کہا ہے کہ انڈین انتظامیہ ہر روز انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ برطانوی حکومت کو تماشائی نہیں بننا چاہیے۔ برطانوی وزیر اعظم کو بھی انڈیا میں انسانی حقوق کی بات کرنی چاہیے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

بھانو جوشی براؤن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی میں توڑ پھوڑ کے لیے غیر قانونی تعمیرات کے جواز کو مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے 'دلی میں قانونی کیا ہے؟ دہلی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف 23 فیصد منصوبہ بند کالونیاں ہیں، 77 فیصد غیر قانونی ہیں۔ کیا دیگر دو میونسپل کارپوریشنیں ان بڑے علاقوں میں بلڈوزر چلائیں گی؟

بورس جانسن نے کیا کہا

بورس جانسن نے اپنے دورہ گجرات کے موقع پر برطانیہ کے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پریس پر پابندی، اقلیتوں کے تحفظ، خاص طور پر مسلمانوں کی املاک کو بلڈوزر سے تباہ کرنے کا معاملہ وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے اٹھائیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ 'ہم نے ہمیشہ مشکل مسائل اٹھائے ہیں اور یقیناً ہم ایسا کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انڈیا سوا سو ارب لوگوں کا ملک ہے اور یہ جمہوری ملک ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔'

بورس جانسن کے ترجمان نے بلڈوزر کے استعمال سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر کہا کہ یہ انڈیا پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی مشین کا استعمال کس طرح کرتا ہے۔

برطانوی اخبار 'دی ٹیلی گراف' نے لکھا ہے کہ جے سی بی کے مالک لارڈ بیمفورڈ سے بورس جانسن کے نزدیکی تعلقات ہیں۔ انھوں نے 2019 میں کنزرویٹو قیادت کی حمایت کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق انھوں نے 2021 سے اب تک پارٹی کو کروڑوں پاؤنڈ نقد اور بطور تحائف دیے ہیں۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں جنوبی ایشیا کے نمائندے جو والن نے ٹوئٹ کیا، 'گزشتہ ہفتے انڈیا نے جے سی بیبلڈوزر کو گجرات، دہلی اور مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کی املاک کو غیر قانونی طور پر گراتے دیکھا۔ اسی دوران بورس جانسن نے گجرات میں اس کے پلانٹ کا افتتاح کیا۔'

بورس جانسن، نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم بورس جانسن نے دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ہے

بورس جانس اور نریندر مودی کی ملاقات

برطنوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے ہندوستانی ہم منصب وزیر اعظم نریندر مودی سے دفاع، توانائی اور تجارتی تعلقات پر بات چیت کی ہے۔

مسٹر جانسن نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے مذاکرات کار اکتوبر میں دیوالی سے پہلے آزاد تجارتی معاہدے پر متفق ہو جائیں۔

تاہم، برطانوی وزیر اعظم کو گھر میں اپنی قیادت کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنا ہے۔

جمعرات کو، برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے اس بات کی تحقیقات کی اجازت دی کہ کیا وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن کے دوران ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں پارٹیوں کے حوالے سے پارلیمنٹ کے سامنے جھوٹ بولا ہے۔

حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ووٹ کو مؤخر کرنے کی کوشش کی لیکن اپنی ہی پارٹی کے اندر سے مخالفت کے بعد یو ٹرن لے لیا۔

وزیر اعظم کو اب درالعوام کی استحقاق کمیٹی کی تحقیقات کا سامنا ہے، جو ٹین ڈاؤننگ میں پارٹیوں کے حوالے سے میٹروپولیٹن پولیس کی تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد اپنی تحقیقات شروع کرے گی۔

گذشتہ ہفتے وزیر اعظم بورس جانسن کو ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں کووڈ کے قوانین کی خلاف ورزی پرجرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ بورس جانسن نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو گمراہ کیا تھا۔

کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبر پارلیمنٹ ٹوبیاس ایلووڈ، جو پہلے بھی وزیر اعظم پر تنقید کرتے رہے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ اب سوال یہ نہیں کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ہو گی یا نہیں بلکہ سوال صرف یہ ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کب پیش ہو گی۔

دفاعی کمیٹی کے سربراہ نے وزیر اعظم کے اتحادیوں کی ان تجاویز کو بھی مسترد کر دیا کہ یوکرین میں جنگ جاری رہنے کے دوران وزیر اعظم کی قیادت پر سوال نہیں اٹھائے جانے چاہیں۔

مسٹر جانسن اور مسٹر مودی کے درمیان ملاقات دو روزہ دورے کے اختتام پر دارالحکومت دلی میں ہوئی ہے۔ وزیر اعظم بورس جانسن کا انڈیا کا دورہ کورونا کی وبا کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا تھا۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے پہلے برطانوی وزیراعظم ہاؤس سے اعلان کیا گیا کہ برطانیہ نے ہندوستان کو فوجی سازو سامان کو برآمد کرنے کے لیے اپنے لائسنسنگ قوانین کو آسان بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

مزید پڑھیے:

مسٹر جانسن نے کہا کہ برطانیہ لڑاکا طیاروں کی تیاری میں انڈیا کی مدد کرے گا تاکہ فوجی سازو سامان کے لیے اس کا روس پر انحصار کم ہو سکے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک بحر ہند سمیت انڈو پیسیفک خطے میں اپنے سیکورٹی تعاون کو فروغ دیں گے۔

دونوں ممالک نے ’گرین‘ ہائیڈروجن پاور کی لاگت کو کم کرنے کے بارے میں تحقیق کو بڑھانے کا عزم کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے برطانیہ بھارت تجارتی مذاکرات میں تازہ ترین بات چیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر جانسن نے تجارتی معاہدے کو موسم خزاں تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

یوکرین پر موقف

مسٹر جانسن نے عہد کیا تھا کہ انڈیا کےدورے کے دوران ہندوستان کے روس کے ساتھ تعلقات کا مسئلہ اٹھائیں گے۔

امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کی طرح برطانیہ بھی انڈیا کو یوکرین کے مسئلے پر روس کی حمایت ترک کرنے اور اس کی مذمت کرنے پر قائل کرنے کی کوشش رہا ہے۔

اس ماہ کے اؤئل میں انڈیا نے یوکرین کے علاقے بوچا میں ہلاکتوں کی مذمت کی تھی جو یوکرین پر روسی حملے کےبعد انڈیا کی جانب سب سےسخت موقف تھا۔

لیکن انڈیا نے ان ہلاکتوں کے لیے روس کو مورد الزام ٹہرانے سے گریز کیا تھا۔ انڈیا نے فروری میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے روس پر براہ راست تنقید نہیں کی ہے۔

مسٹر جانسن نے جمعرات کو تسلیم کیا کہ ہندوستان، جس کے روس کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، یوکرین کے تنازعے پر اس مقام پر نہیں ہے جہاں برطانیہ ہے۔

لیکن انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ابھی بھی بہت گنجائش ہے جس پر دونوں ملک کر کام کر سکتے ہیں۔

Prime Minister Boris Johnson

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم جانسن نے گجرات میں بائیو ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا دورہ کیا

مسٹر مودی کے ساتھ اپنی ملاقات سے پہلے، مسٹر جانسن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور سلامتی سمیت مسائل پر ہندوستان کے ساتھ تعاون بہت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’دنیا کو آمرانہ ریاستوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے جو جمہوریت کو کمزور کرنا، آزادانہ اور منصفانہ تجارت کا گلا گھونٹنا اور خودمختاری کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔‘

Prime Minister Boris Johnson.

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم بورس جانسن نے گاندھی نگر میں مندر کا دورہ کیا