ڈیوک آف ایڈنبرا کی وفات: شہزادہ فلپ کی آخری رسومات 17 اپریل کو ادا کی جائیں گی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملکہ الزبتھ دوئم کے شوہر شہزادہ فلپ کا جمعے کے روز 99 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا اور اب شاہی محل بکھنگم پیلس نے اعلان کیا ہے کہ ڈیوک آف ایڈنبرا کی آخری رسومات اگلے سنیچر یعنی 17 اپریل کو برطانوی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے ونڈزر کے سینٹ جارج چیپل میں ادا کی جائیں گی۔
شہزادہ فلپ کی آخری رسومات میں شریک ہونے والے صرف 30 افراد کی فہرست جمعرات کو جاری کی جائے گی تاہم یہ توقع ہے کہ ان میں ڈیوک آف ایڈنبرا کے بچے، پوتے، پوتیاں، نواسے اور نواسیاں ہی شامل ہوں گے۔
ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری امریکہ سے وطن واپس پہنچیں گے اور شہزادہ فلپ کی آخری رسومات میں شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ شرکت کریں گے۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ کورونا پابندیوں کے پیش نظر ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کریں گے۔
برطانوی وزیراعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کورونا وائرس کی پابندیوں کے باعث صرف 30 افراد ہی ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ کی آخری رسومات میں شریک ہو سکیں گے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'وزیراعظم ہر طرح سے وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو شاہی خاندان کے لیے بہتر ہے، لہذا وہ سنیچر کو آخری رسومات میں شامل نہیں ہوں گے تاکہ شاہی خاندان کے زیادہ سے زیادہ افراد کی شمولیت کو ممکن بنایا جا سکے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہزادہ فلپ کی آخری رسومات سے قبل ملک بھر میں آٹھ روز تک قومی سوگ منایا جائے گا اور ان کی آخری رسومات ایک شہزادے کی موت پر ہونے والی بڑی ریاستی تقریب کے بجائے ایک رسمی تقریب میں ادا کی جائیں گی جبکہ شاہی خاندان دو ہفتے تک سوگ منائے گا۔
برطانیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس آٹھ روزہ سوگ کے دوران اور شہزادہ فلپ کی تدفین کے ایک روز بعد بھی تمام سرکاری عمارتوں پر یونین اور قومی پرچم نصف بلندی پر لہرائیں گے۔ ان شاہی عمارتوں پر جہاں ملکہ رہائش پزیر نہیں ہیں وہاں بھی نصف مستول پر یونین پرچم لہرائيں گے۔
البتہ جس شاہی عمارت میں ملکہ خود موجود ہوں، وہاں بادشاہت کی خود مختاری اور تسلسل کی نمائندگی کرنے والا رائل سٹینڈرڈ یعنی شاہی نشان کبھی بھی نصف مستول پر نہیں بلکہ پورے مستول پر لہرایا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
شاہی محل کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’البتہ یہ دکھ اور غم کی گھڑی ہے لیکن آنے والے دنوں میں ایک قابل ذکر زندگی کو یاد کرنے کا موقع ہو گا۔‘
شاہی خاندان کے ارکان نے جمعہ کو ڈیوک کی موت کے بعد ونڈزر کاسل میں ملکہ برطانیہ سے ملاقات کی ہے۔ ارل آف ویسیکس شہزادہ ایڈورڈ اور ان کی اہلیہ کونٹس آف ویسیکس صوفیا نے بھی ونڈزر محل میں ملکہ برطانیہ سے ملاقات کی جبکہ ڈیوک آف یارک نے سنیچر کو ملکہ سے ملاقات کی اور پرنس آف ویلز جمعے کی دوپہر کو ہی محل پہنچ گئے تھے۔
آخری رسومات کے دن شہزادہ فلپ کے تابوت کو دعائیہ تقریب کے لیے کچھ فاصلے پر موجود سینٹ جارج چیپل لے جایا جائے گا۔ ونڈزر کاسل سے ان کا جسد ’خاکی سینٹ جارج چیپل ایک خصوصی طور پر تیار کردہ لینڈ روور میں لے جایا جائے گا۔ اس لینڈ روور کو ڈیزائن کرنے میں خود شہزادہ فلپ نے مدد کی تھی۔
اس دوران فوجی بندوقوں کی سلامی دی جائے گی جس میں آٹھ منٹ کا وقت لگے گا اور کرفیو بیل بھی بجائی جائے گی۔
آٹھ جنازہ بردار ان کے تابوت کو اٹھائیں گے، شہزادہ فلپ کے تابوت کو ان کی شان و شوکت کے مطابق تیار کیا جائے گا اور ڈیوک کی نیول کیپ اور تلوار کو اس کے اوپر رکھا جائے گا۔ چیپل میں ان کے تابوت کا استقبال ڈین آف ونڈزر اور آرک بشپ آف کینٹبری کریں گے۔
پرنس آف ویلز سمیت شاہی خاندان کے اراکین ان کے جنازے کے پیچھے چلیں گے اور ملکہ برطانیہ الگ سے چیپل جائیں گی۔
شہزادہ فلپ کی آخری رسومات کے بعد ان کی تدفین چیپل کے شاہی والٹ میں کی جائے گی۔
عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ صحت عامہ کے مشوروں کے مطابق تدفین کی کسی بھی تقریب میں شرکت کی کوشش نہ کریں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
عوام کس طرح خراج عقیدت ادا کر سکتے ہیں؟
انگلینڈ میں کورونا وائرس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اجتماعات پر عائد پابندیوں کا مطلب ہے کہ آخری رسومات کے لیے بہت پہلے سے طے شدہ منصوبوں میں ترمیم کی گئی ہے۔
عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ صحت عامہ کے مشوروں کے مطابق تدفین کے کسی بھی پروگرام میں شرکت کی کوشش نہ کریں۔
شاہی خاندان نے بھی لوگوں سے شاہی رہائش گاہوں پر پھول اور خراج تحسین نہ چھوڑنے کی بات کہی ہے۔
رائل فیملی کی ویب سائٹ پر عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ کی یاد میں خراج عقیدت کے طور پر پھولوں کا گلدستہ پیش کرنے کے بجائے کسی خیراتی ادارے کو چندہ دینے پر غور کریں۔ عوام کی جانب سے ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ کو ذاتی خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک آن لائن تعزیتی بک بھی دستیاب ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA
ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ کی موت کا اعلان کرتے ہوئے بکنگھم پیلس کے باہر آویزاں ہونے والے کتبے کو بعد میں ان خدشات کے تحت ہٹا دیا گیا ہے کہ یہ ہجوم کو راغب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
تاہم لوگوں نے ایسا نہ کرنے کی درخواستوں کے باوجود محل کے باہر اور ونڈزر کاسل کے باہر پھول، کارڈ اور نذرانہ عقیدت کی نشانیاں رکھنی شروع کر دی ہیں۔
کیا شہزادہ فلپ کو ریاست میں دیدار کے لیے رکھا جائے گا؟
بتایا جاتا ہے کہ شہزادہ فلپ نے اپنی آخری رسومات میں کم سے کم ہنگامے کی درخواست کی تھی اور اس لیے ان کے جسد خاکی کو دیدار کے لیے سٹیٹ میں نہیں رکھا جائے گا جہاں سے عوام ان کا دیدار کر سکیں۔ اس کے بجائے انھیں ونڈزر کاسل میں رکھا جائے گا۔

ریاست میں رکھنے کا یہ اعزاز آخری تین خود مختار شاہی شخصیتوں کو دیا گیا تھا جن میں ملکہ برطانیہ کی والدہ بھی شامل تھیں اور سنہ 2002 میں وسطی لندن کے ویسٹ منسٹر ہال میں ایک اندازے کے مطابق ان کے دیدار کے لیے دو لاکھ افراد نے تین دن سے زیادہ عرصے تک ان کے اعزاز میں قطاریں لگائیں۔
پرنسس آف ویلز یعنی شہزادی ڈیانا کی بھی آخری رسومات شاہی انداز میں کی گئی تھی اگرچہ اس وقت تک وہ ’ہر رائل ہائینس‘ نہیں رہی تھیں۔
لیکن ریاستی تقریبات کے انتظام و انصرام میں مدد کرنے والے ادارے کالج آف آرمز کا کہنا ہے کہ ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ کی آخری رسومات ’رواج کے مطابق اور ہز رائل ہائینس کی خواہش کے مطابق ہوں گی۔‘
توقع کی جاتی ہے کہ ان تقریبات میں ڈیوک کے اپنے ذاتی شاہی نشان کو پیش کیا جائے گا۔ یہ پرچم ان کے یونانی ورثے سے لے کر برطانوی القاب تک ان کی زندگی کے عناصر کی نمائندگی کرتا ہے۔
جب ڈیوک نے سنہ 1946 میں اس وقت کی شہزادی الزبتھ سے منگنی کی تو انھوں نے اپنے یونانی لقب کو ترک کر دیا اور برطانوی شہری بن گئے اور انھوں نے اپنی والدہ کا انگریزی نام ماؤنٹ بیٹن اپنا لیا۔
اس لیے ماؤنٹ بیٹن فیملی کی نمائندگی ان کے اپنے شاہی نشان کے ساتھ ہے اور اس کے ساتھ ایڈنبرا شہر کے قلعے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ جب انھوں نے شادی کی تو وہ ایڈنبرگ کے ڈیوک بن گئے۔

آخری رسومات میں کون کون شریک ہو گا؟
ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ کی موت کے بعد کئی دن تک جاری رہنے والی تقریبات جو کہ فورتھ برج کے کوڈ نام سے موسوم ہیں، پرانے منصوبے کے تحت ہزاروں افراد کی لندن اور ونڈسر میں جمع ہونے کی توقع کی جا سکتی تھی یہاں تک کہ کچھ لوگ فوجی جلوس کو دیکھنے کے لیے نمایاں مقام پر خیمہ زن بھی ہو سکتے تھے۔
ہزاروں پولیس افسران کے ساتھ مسلح افواج کے سیکڑوں ارکان بھی ڈیوک کے اعزاز میں سڑکوں پر قطار باندھے کھڑے ہوتے تاکہ ہجوم کو قابو میں رکھا جا سکے لیکن جب سے وبائی امراض کا آغاز ہوا منتظمین ہنگامی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جس میں ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ کی موت کی صورت میں بڑے پیمانے پر اجتماعات سے گریز کیا جائے گا۔

حال ہی میں سینٹ جارج چیپل میں خاندانی جشن کا منظر سامنے آیا تھا جب سنہ 2018 میں شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل اور شہزادی یوجینی اور جیک بروکس بینک کی شادیوں کی تقاریب ادا کی گئی تھیں۔













